اسرائیلی میڈیا نے نفتالی بینیٹ کے فون کی ہیکنگ کی خبر کیسے دی؟

نفتالی بینیٹ

?️

سچ خبریں: اسرائیلی وزیر اعظم نیتن یاہو کے موبائل فون میں سائبری دخول کی خبر محض ایک محدود سیکیورٹی واقعہ یا شورشرابے والا ہیکنگ آپریشن نہیں ہے۔
ماہرین کے مطابق یہ اسرائیل کی سیکیورٹی ڈھانچے کی ایک گہری حقیقت کو بے نقاب کرنے والا واقعہ ہے۔ یہ مسئلہ محض بنت کی سیاسی حیثیت کی وجہ سے نہیں بلکہ اسرائیلی سیکیورٹی اداروں بالخصوص شا بک کی ساکھ پر پڑنے والے منفی اثرات کی وجہ سے اہم ہے۔ عبرانی میڈیا کی اعصابی ردعمل، محتاط تردیدیں اور انتباہی تجزیے ظاہر کرتے ہیں کہ یہ معاملہ ایک خبر سے زیادہ نفسیاتی سیکیورٹی بحران بن چکا ہے۔
صہیونی میڈیا کی روایت
اسرائیلی میڈیا نے سیاسی و گروہی اختلافات کے باوجود اس معاملے پر ایک خاموش اجماع قائم کیا ہے جس کے تحت سائبری دخول کو تقریباً مسلمہ تسلیم کیا گیا ہے۔ اسرائیلی نیٹ ورک 12، چینل 7 اور اخبار معاریو نے مختلف انداز میں نیتن یاہو کے فون ہیک ہونے کی بات کہی ہے۔ بعض نے دعویٰ کیا ہے کہ یہ کارروائی ‘ایران سے منسلک ہیکرز’ کی جانب سے کی گئی ہے، جو معلوماتی جنگ کے تناظر میں قابل تجزیہ ہے اور واضح شواہد سے زیادہ اسرائیلی میڈیا کی سیکیورٹی ذہنیت کی عکاسی کرتا ہے۔ تاہم اہم بات دعوائی حملے کا ماخذ نہیں بلکہ انتہائی اعلیٰ سطح پر سیکیورٹی ناکامی کی ضمنی قبولیت ہے۔
نیتن یاہو: سیکیورٹی کی علامت سمجھے جانے والا کردار
اپنی وزارت عظمیٰ کے دوران نیتن یاہو نے ہمیشہ علاقائی خطرات کے خلاف سیکیورٹی استحکام اور فیصلہ کن اقدامات کی تصویر پیش کرنے کی کوشش کی۔ وہ خود کو اسرائیلی سیاستدانوں کی نسل کا نمائندہ سمجھتے تھے جو ‘سخت سیکیورٹی’ کی زبان بولتے ہیں اور اسرائیل کی انٹیلی جنس و فوجی صلاحیت پر زور دیتے ہیں۔ ایسی شخصیت کا فون ہیک ہونا اسرائیل کی سیکیورٹی بالادستی کے بیان کو دوہرا دھچکا پہنچاتا ہے۔ اس واقعے نے نہ صرف بنت کی ذاتی ساکھ بلکہ اسرائیلی سیکیورٹی ڈھانچے کی ناقابل تسخیر ہونے کی ان کی تعمیر کردہ تصویر پر شدید سوالات کھڑے کردیے ہیں۔
معاریو کے فوجی تجزیہ کار آوی اشکنازی کے تجزیے نے اس معاملے کی میڈیا کوریج میں سنگ میل کی حیثیت اختیار کرلی۔ انہوں نے واضح کیا کہ نیتن یاہو شا بک کے یونٹ 730 کے تحت تحفظ میں ہیں، جس نے ذمہ داری سے پرے ہٹنے کی کسی بھی کوشش کو بے اثر کردیا۔ اشکنازی کے مطابق شا بک نہ صرف جسمانی تحفظ بلکہ اپنے زیر تحفظ شخصیات کے مواصلاتی و معلوماتی تحفظ کا بھی ذمہ دار ہے۔ لہٰذا بنت کے فون میں دخول کو اس ادارے کی براہ راست ناکامی قرار دیا جاسکتا ہے۔ شا بک کے سربراہ ڈیوڈ زینی کے انتظام پر ان کی سخت تنقید اسرائیلی سیکیورٹی اشرافیہ کی گہری فکر کی عکاسی کرتی ہے۔
محض ہیک سے آگے: ساختی بحران کی علامتیں
صہیونی میڈیا کے شائع شدہ تجزیوں کا اہم حصہ اس بات پر زور دیتا ہے کہ اس واقعے کو ایک علیحدہ یا استثنائی واقعہ نہیں سمجھنا چاہیے۔ ان تجزیہ نگاروں کے مطابق سابق وزیر اعظم کے فون میں دخول اس وسیع تر کمزوری کا صرف ایک مظہر ہے جس کا اسرائیل سائبری دائرے میں سامنا کررہا ہے۔ اشکنازی کے انتباہ کے مطابق ‘آج بنت کا فون اور کل شاید اسرائیل کے اہم نظام’ نشانہ بن سکتے ہیں، جو مستقبل میں اسرائیلی معلوماتی بالادستی کے غیر یقینی ہونے کے گہرے خوف کی عکاسی کرتا ہے۔
افشا ہونے والے ڈیٹا اور سیاسی نتائج کی فکر
ہیکر گروپ ‘حنظلہ’ کے حاصل کردہ معلومات محض ذاتی یا غیر اہم ڈیٹا نہیں ہیں۔ داخلی مراسلات، سرکاری خطوط کے مسودات اور اعلیٰ عہدیداروں کے سیاسی جائزوں کا تذکرہ اسرائیل میں فیصلہ سازی کے ڈھانچے کے لیے سنگین خطرے کی گھنٹی ہے۔ یہ دستاویزات، اگرچہ ان کی تصدیق نہ ہوئی ہو، سیاسی اشرافیہ میں دراڑ، عدم اعتماد اور تناؤ پیدا کرنے کی صلاحیت رکھتی ہیں۔ اسی لیے بعض تجزیہ نگاروں نے اس دخول کو تکنیکی حملے کے بجائے اسرائیل کے داخلی معاملات پر اثر انداز ہونے کی ہدفمند کوشش قرار دیا ہے۔
نفسیاتی پہلو اور اسرائیلی شناخت پر اثر
اس معاملے کا ایک اہم پہلو نفسیاتی اثر ہے جس پر ہیکر گروپ نے خود زور دیا ہے۔ اسرائیل جیسے معاشرے میں جہاں سیکیورٹی اجتماعی شناخت اور سیاسی جواز کا اہم حصہ ہے، اعلیٰ ترین سطح پر دخول کی خبروں کے عوام پر گہرے نفسیاتی اثرات ہوسکتے ہیں۔ عبرانی تجزیہ نگاروں کا خیال ہے کہ ایسی کارروائیاں تکنیکی نقصان سے زیادہ اسرائیل کی روکنے کی صلاحیت کی تصویر کو نقصان پہنچاتی ہیں، اور یہی وہ مقام ہے جہاں سائبری خطرہ ایک اسٹریٹجک خطرہ بن جاتا ہے۔
نیتن یاہو کا ردعمل اور رسوائی کا بحران
نیتن یاہو کا یہ دعویٰ کہ ان کا فون اب استعمال نہیں ہورہا اور معاملہ زیر التواء ہے، نہ تو میڈیا کو قائل کرسکا اور نہ ہی عوام کو۔ اسرائیلی فضا میں اس قسم کے ردعمل کو مربوط بیان کی کمی اور غیر کنٹرول شدہ صورتحال کی علامت سمجھا جارہا ہے۔ ہیکر گروپ کے ہزاروں گفتگووں کے افشا کرنے کے اعلان نے بنت اور سیکیورٹی اداروں پر نفسیاتی دباؤ بڑھا دیا ہے اور ابہام میں اضافہ کیا ہے۔
نتیجہ
نیتن یاہو کے موبائل فون میں سائبری دخول کے معاملے کو محض ایک وقتی سیکیورٹی واقعہ یا محدود تکنیکی ناکامی قرار نہیں دیا جاسکتا۔ اس واقعے کو اسرائیل کے داخلی سیکیورٹی بیانیے میں سنگ میل بنانے والی چیز خود صہیونی میڈیا اور حلقوں میں اس کی عکاسی اور تجزیہ کا انداز ہے، جہاں پہلی بار تنقید بیرونی مخالفین کی بجائے اسرائیلی میڈیا و سیکیورٹی ڈھانچے کے اندر سے ہورہی ہے۔ جب آوی اشکنازی جیسے تجزیہ نگار ‘شا بک کی ناکامی’ اور ‘واقعات کی ناقص انتظام’ کی بات کرتے ہیں تو درحقیقت وہ ایک ایسے بحران سے پردہ اٹھاتے ہیں جس کی جڑیں ایک سائبری حملے سے کہیں گہری ہیں۔
یہ معاملہ ظاہر کرتا ہے کہ اسرائیل، سیکیورٹی و معلومات کے شعبے میں وسیع سرمایہ کاری کے باوجود، روایتی سیکیورٹی فریم ورک میں سوچتا ہے جو کلاسیکی خطرات کے لیے تو ڈیزائن کیے گئے ہیں لیکن جدید سائبری و نفسیاتی جنگوں کے لیے نہیں۔ جسمانی تحفظ پر ضرورت سے زیادہ انحصار، سلسلہ وار ڈھانچے اور مسلسل معلوماتی بالادستی کا فرض، ان نامتقارن اور پوشیدہ خطرات کے سامنے اسٹریٹجک کمزوری بن چکے ہیں۔ انتہائی اعلیٰ سیکیورٹی تحفظ میں رہنے والی شخصیت کا فون ہیک ہونا اس دیرینہ فرضیے کو شدید چیلنج کرتا ہے۔
دوسری جانب اس واقعے کی اہمیت اس کے نفسیاتی و سیاسی نتائج میں پنہاں ہے۔ سیکیورٹی اسرائیل میں سیاسی جواز کی بنیادی ستون ہے اور اس تصویر پر کوئی داغ تکنیکی دائرے سے باہر اثرات مرتب کرتا ہے۔ اعلیٰ ترین سطح پر دخول کی خبریں عوام کا سیکیورٹی اداروں پر اعتماد کم کرتی ہیں اور سیاسی اشرافیہ و عوام میں شک کی فضا پھیلاتی ہیں۔ اسی لیے بعض عبرانی میڈیا نے اس معاملے کو محض ‘ایک سادہ ہیک’ نہیں بلکہ وسیع تر نفسیاتی جنگ کا حصہ قرار دیا ہے۔
نیتن یاہو کے متضاد ردعمل اور واقعے کو کم اہم بتانے کی کوششوں نے اس بحران کو ہوا دی ہے۔ سرکاری عہدیداروں کی جانب سے مربوط اور قائل کرنے والے بیان کا فقدان ظاہر کرتا ہے کہ اسرائیلی سیاسی و سیکیورٹی ادارے ایسے بحرانوں سے نمٹنے کے لیے واضح حکمت عملی سے عاری ہیں۔ یہ خلا داخلی دباؤ اور میڈیا کی حساسیت میں اضافے کا باعث بنا ہے۔
آخر میں ان تجزیوں سے جو بات سامنے آتی ہے وہ ایک انتباہ ہے جسے خود اسرائیلی ناظرین سمجھتے ہیں: اگر اسرژیم کا سیکیورٹی ڈھانچہ نئے خطرات کی نوعیت کے مطابق خود کو ڈھال نہ سکا اور روایتی رویوں کا جائزہ نہ لیا تو مستقبل کے سائبری دخول محض کسی سابق عہدیدار کے فون تک محدود نہیں رہیں گے۔ صہیونی تجزیہ نگاروں کے مطابق یہ معاملہ محض ایک رسوائی نہیں بلکہ ان خلیجوں کی علامت ہے جو اگر نظر انداز ہوئے تو اسرائیلی سیکیورٹی کے لیے گہرے اور مہنگے چیلنجز کا باعث بن سکتے ہیں۔

مشہور خبریں۔

حزب اللہ کے مقابلے میں اسرائیل کی شدید اسٹریٹجک کمزوری

?️ 28 ستمبر 2024سچ خبریں: اسرائیل کی کم آبادی، محدود جغرافیائی حدود اور مرکزی دفاعی

ہم نے اسرائیل کو بچایا ہے؛الجولانی کا بڑا دعویٰ

?️ 31 دسمبر 2024سچ خبریں:تحریر الشام کے سربراہ ابومحمد الجولانی کا کہنا ہے کہ خطہ

مصنوعی ذہانت میڈیکل میں کیا کمال کرنے والی ہے؟

?️ 2 اکتوبر 2023سچ خبریں: برطانیہ کے نامور نیوروسرجن کا کہنا ہے کہ آئندہ دو

سعودی عرب کی باگ ڈور ایک ظالم اور قاتل حکومت کے ہاتھ میں ہے: ہل

?️ 30 دسمبر 2022سچ خبریں:   امریکی میڈیا ہل نے امریکی کانگریس سے سعودی عرب سے

اسلام آباد ہائیکورٹ نے 2023 کے مقابلے 2024 میں 5.4 فیصد کم مقدمات نمٹائے

?️ 3 جنوری 2025اسلام آباد: (سچ خبریں) اسلام آباد ہائیکورٹ کے ججز نے تنخواہوں میں

آسٹریلیا کا صیہونی حکومت کے ساتھ خفیہ فوجی معاہدہ فاش

?️ 12 نومبر 2025سچ خبریں:صیہونی دفاعی کمپنی سے 7 ارب ڈالر کے معاہدے کے تحت

اگر عالمی نظام ماضی میں اٹکا رہا تو دنیا آگے نہیں بڑھ سکتی:مودی

?️ 17 دسمبر 2025 اگر عالمی نظام ماضی میں اٹکا رہا تو دنیا آگے نہیں

صیہونی جنگجوؤں کے ہاتھوں 13 سالہ فلسطینی بچہ شہید

?️ 6 نومبر 2021سچ خبریں: فلسطینی اتھارٹی کی وزارت صحت نے آج بروز جمعہ نابلس کے

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے