?️
سچ خبریں:الجزیرہ نے امریکی مفکرین جیفری ساکس اور سیبیل فارس کے مشترکہ تجزیہ کے حوالے سے ایران کی جنگی کامیابی، امریکہ و اسرائیل کی ناکامی، آبنائے ہرمز پر ایرانی کنٹرول اور خطے میں بدلتی طاقت کے توازن پر تفصیلی رپورٹ شائع کی ہے۔
الجزیرہ نیوز چینل نے دو معروف امریکی دانشوروں کے مشترکہ تجزیہ کے حوالے سے ایران کی امریکہ اور صہیونی حکومت کے خلاف جنگ میں کامیابی کی وجوہات بیان کی ہیں۔
الجزیرہ کے مطابق معروف امریکی ماہرِ اقتصادیات جیفری ساکس اور اقوام متحدہ سے وابستہ ایک قانونی ادارے کی سینئر مشیر سیبیل فارس نے مشترکہ تجزیہ میں ایران کے سیاسی نظام کو گرانے کے لیے امریکہ اور صہیونی حکومت کے اہداف کی ناکامی کا جائزہ لیا ہے۔
تجزیہ میں کہا گیا ہے کہ امریکہ اور صہیونی حکومت نے ۲۸ فروری ۲۰۲۶ کو ایران کے خلاف جو جنگ شروع کی، اس کا اختتام غالباً امریکی پسپائی پر ہوگا اور امریکہ تباہ کن نتائج کے بغیر اس جنگ کو جاری رکھنے کی صلاحیت نہیں رکھتا۔
رپورٹ کے مطابق اگر جنگ دوبارہ شروع ہوئی تو اس کے نتیجے میں خطے کے تیل، گیس اور سمندری پانی کو میٹھا بنانے والے مراکز کی تباہی کا خطرہ پیدا ہوگا، جو ایک طویل المدتی عالمی بحران کو جنم دے سکتا ہے۔ ایران ایسے اخراجات مسلط کرنے کی صلاحیت رکھتا ہے جنہیں امریکہ برداشت نہیں کر سکتا اور نہ ہی دنیا ایسے نتائج کی متحمل ہو سکتی ہے۔
تجزیہ میں کہا گیا ہے کہ امریکہ اور اسرائیل کا جنگی منصوبہ دراصل ایران کی حکومت کو گرانے کی کوشش تھا، جسے صہیونی وزیراعظم بنیامین نیتن یاہو اور موساد کے سربراہ ڈیوڈ بارنیا نے ڈونلڈ ٹرمپ پر مسلط کیا۔ منصوبہ یہ تھا کہ امریکہ اور اسرائیل کی مشترکہ شدید بمباری ایران کی قیادت، ایٹمی پروگرام اور پاسدارانِ انقلاب کی کمان کو اس حد تک کمزور کر دے کہ ایرانی نظام منہدم ہو جائے اور بعد ازاں تہران میں امریکہ اور اسرائیل کا حمایت یافتہ نظام قائم کیا جا سکے۔
تجزیہ کے مطابق ٹرمپ کو یقین دلایا گیا تھا کہ ایران بھی وینزویلا کی طرح جلد داخلی بحران کا شکار ہوگا، لیکن تہران میں ایک کمزور حکومت قائم کرنے کے لیے کی جانے والی فوجی جارحیت ناکام ثابت ہوئی۔ نہ صرف ایران کا حکومتی ڈھانچہ برقرار رہا بلکہ پاسدارانِ انقلاب نے داخلی ہم آہنگی کے ساتھ جنگی قیادت سنبھال لی اور قومی سلامتی کے ڈھانچے میں اس کا کردار مزید مضبوط ہو گیا۔ دوسری جانب ایرانی عوام بھی بیرونی جارحیت کے خلاف پاسدارانِ انقلاب کے ساتھ متحد ہو گئے۔
امریکہ کی ایران کے خلاف جنگی پالیسی کیوں ناکام ہوئی؟
تجزیہ میں زور دیا گیا کہ امریکہ کے لیے اب واحد راستہ پسپائی کا ہے اور اسے آبنائے ہرمز پر ایران کے عملی کنٹرول کو قبول کرنا پڑے گا۔
دونوں عالمی مفکرین نے امریکہ کی تباہ کن غلطیوں اور ایران کی کامیابیوں کی چند بنیادی وجوہات بیان کیں۔
پہلی وجہ یہ ہے کہ امریکی قیادت نے ایران کی اصل حقیقت کو بنیادی طور پر غلط انداز میں سمجھا۔ ایران پانچ ہزار سالہ تاریخ رکھنے والی قدیم تہذیب ہے، جس کے پاس گہری ثقافت، مضبوط قومی استقامت اور راسخ قومی وقار موجود ہے۔
دوسری وجہ یہ ہے کہ امریکہ نے ایران کی تکنیکی ترقی کو شدید کم سمجھا۔ تہران انجینئرنگ اور ریاضی کے میدان میں عالمی سطح کی صلاحیت رکھتا ہے۔ ایران نے چالیس سالہ پابندیوں کے باوجود جدید بیلسٹک میزائل، ڈرون صنعت اور خلائی پرواز کی صلاحیت پر مشتمل داخلی دفاعی و صنعتی ڈھانچہ تیار کیا، جو ایک غیرمعمولی قومی کامیابی سمجھی جاتی ہے۔
تیسری وجہ یہ بیان کی گئی کہ جدید عسکری ٹیکنالوجی اب ایران کے حق میں تبدیل ہو چکی ہے۔ ایرانی بیلسٹک میزائلوں کی لاگت امریکی دفاعی میزائلوں کے مقابلے میں انتہائی کم ہے۔ ایرانی ڈرون کی قیمت تقریباً بیس ہزار ڈالر ہے جبکہ امریکی فضائی دفاعی میزائل کی قیمت چالیس لاکھ ڈالر تک پہنچتی ہے۔ اسی طرح ایران کے بحری جہاز شکن میزائل، جن کی قیمت چند لاکھ ڈالر ہے، دو سے تین ارب ڈالر مالیت رکھنے والے امریکی جنگی بحری جہازوں کے لیے خطرہ بن چکے ہیں۔
تجزیہ میں مزید کہا گیا کہ خلیج فارس کے اطراف ایران کا ممنوعہ دفاعی دائرہ، اس کا کئی سطحوں پر مشتمل فضائی دفاعی نظام، ڈرون اور میزائلوں کے ذریعے دشمن کے اہداف کو مسلسل نشانہ بنانے کی صلاحیت اور آبنائے ہرمز میں بحری آمد و رفت روکنے کی طاقت نے امریکہ پر جنگی اخراجات اس حد تک بڑھا دیے جو واشنگٹن کے اندازوں سے کہیں زیادہ ہیں۔
امریکہ کی ناکامی کے بعد خطے کی نئی صورتحال
تجزیہ نگاروں نے واضح کیا کہ یہ جنگ نہ کوئی ضرورت تھی اور نہ ہی درست انتخاب بلکہ طاقت کے جنون کا نتیجہ تھی۔ اس کارروائی کی بنیاد عالمی غلبے کی سوچ پر رکھی گئی تھی۔ امریکہ اپنی کھوئی ہوئی عالمی برتری بحال کرنا چاہتا تھا جبکہ تل ابیب خطے پر ایسی بالادستی قائم کرنے کی کوشش کر رہا تھا جو اسے کبھی حاصل نہیں ہو سکتی۔
الجزیرہ کے مطابق ایران میں جنگ غالباً ایسی صورتحال پر ختم ہوگی جو جنگ سے پہلے کی کیفیت سے قریب تر ہوگی، تاہم اس کے نتیجے میں خطے میں تین نئی حقیقتیں جنم لیں گی۔
پہلی حقیقت یہ کہ ایران عملی طور پر آبنائے ہرمز پر کنٹرول حاصل کر لے گا۔
دوسری حقیقت یہ کہ ایران کی بازدارتی پوزیشن نمایاں طور پر مضبوط ہو جائے گی۔
تیسری حقیقت یہ کہ خلیج فارس میں امریکہ کی طویل المدتی فوجی موجودگی میں واضح کمی آئے گی۔
جنگ کے بعد ہمسایہ ممالک کے ساتھ ایران کی حکمت عملی
تجزیہ میں جنگ میں کامیابی کے بعد ایران کے علاقائی تعلقات پر بھی روشنی ڈالی گئی۔ اس میں کہا گیا کہ امریکہ کی پسپائی کے باوجود تہران اپنے ہمسایہ ممالک کے خلاف اپنی عسکری برتری کا ناجائز فائدہ نہیں اٹھائے گا۔
الجزیرہ نے اس کی دو بڑی وجوہات بیان کیں۔
پہلی وجہ یہ کہ ایران اپنے ہمسایہ ممالک کے ساتھ غیر جنگی ماحول میں طویل المدتی اسٹریٹجک تعاون میں دلچسپی رکھتا ہے۔
دوسری وجہ یہ کہ ایران اس جنگ کو دوبارہ بھڑکانے میں کوئی دلچسپی نہیں رکھتا جسے وہ کامیابی کے ساتھ ختم کر چکا ہے۔
ٹرمپ اب بھی فتح کا تاثر دینے کی کوشش میں
تجزیہ میں کہا گیا کہ اس میں کوئی شک نہیں کہ ٹرمپ اپنی متوقع پسپائی کو ایک بڑی عسکری اور اسٹریٹجک کامیابی کے طور پر پیش کرنے کی کوشش کرے گا، لیکن حقیقت اس کے برعکس ہے۔ اصل صورتحال یہ ہے کہ ایران واشنگٹن کے اندازوں سے کہیں زیادہ ترقی یافتہ اور طاقتور ثابت ہوا ہے، اسی لیے امریکہ کا جنگ میں داخل ہونے کا فیصلہ غیر منطقی قرار دیا گیا۔
تجزیہ کے مطابق امریکی سلطنت ایران کے خلاف اپنی جنگ کم مالی، عسکری اور سیاسی اخراجات کے ساتھ نہیں جیت سکتی۔ موجودہ حالات میں امریکہ کے لیے سب سے اہم چیز حقیقت پسندی اختیار کرنا ہے۔ اسی لیے وقت آ گیا ہے کہ واشنگٹن ایران میں حکومت کی تبدیلی کی پالیسی ترک کرے اور بین الاقوامی قوانین اور سفارت کاری کی طرف واپس لوٹے۔


مشہور خبریں۔
غزہ جنگ میں اسرائیل کے لیے امریکی حمایت کے تین ستون
?️ 20 جنوری 2025سچ خبریں: اکتوبر 2023 میں فلسطین میں آپریشن الاقصیٰ طوفان کے چند
جنوری
حزب اللہ نے ہرمیس میں اسرائیلی کے450 ڈرون کو مار گرایا
?️ 28 فروری 2024سچ خبریں:لبنانی مزاحمت نے گزشتہ ماہ صہیونی دشمن کے خلاف اپنی کارروائیوں
فروری
چالیس سال افغان بھائیوں کی خدمت کا اچھا صلہ نہیں ملا۔ سرفراز بگٹی
?️ 27 مارچ 2026کوئٹہ (سچ خبریں) وزیراعلی بلوچستان سرفراز بگٹی نے کہا ہے کہ افغانستان
مارچ
بیروت میں ہونے والے پیجرز دھماکوں کے چار ممکنہ احتمال
?️ 18 ستمبر 2024سچ خبریں: ذرائع کے مطابق بیروت میں پیجرز کے متواتر دھماکوں کے
ستمبر
وزارت داخلہ کا نوازشریف کے پاسپورٹ کی تجدید کی درخواست پر کارروائی نہ کرنے پر زور
?️ 24 مارچ 2021اسلام آباد(سچ خبریں) وزارت داخلہ نے نواز شریف کے پاسپورٹ کی تجدید
مارچ
صدر آصف علی زرداری کی یو اے ای کے صدر شیخ محمد بن زاید النہیان سے ملاقات، تعلقات مزید مضبوط بنانے پر اتفاق
?️ 28 جنوری 2026اسلام آباد (سچ خبریں) صدرِ مملکت آصف علی زرداری نے متحدہ عرب
جنوری
ایرانی میزائل حملہ آوروں کو منھ توڑ جواب دیتے ہیں: امریکی ویب سائٹ
?️ 7 جون 2022سچ خبریں: ایک امریکی فوجی تجزیاتی ویب سائٹ کے مطابق، ایران کے
جون
وفاقی وزیر داخلہ کی عراقی سفیر حامدعباس لفطاہ سے ملاقات
?️ 23 ستمبر 2022 اسلام آباد:(سچ خبریں)وفاقی وزیر داخلہ رانا ثناء اللہ اور پاکستان میں
ستمبر