9 مئی المناک دن، جرم کرنے والے کے بچ نکلنے کا سوال ہی پیدا نہیں ہوتا، وزیراعظم

?️

اسلام آباد:(سچ خبریں) وزیراعظم شہباز شریف نے پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) کے چیئرمین عمران خان کی گرفتاری کے بعد 9 مئی کو ہونے والی توڑ پھوڑ کو الم ناک قرار دیتے ہوئے کہا ہے کہ جس نے جرم کیا ہے اس کے بچ نکلنے کا سوال ہی پیدا نہیں ہوتا مگر کسی کے ساتھ زیادتی اور ظلم بھی نہیں ہوگا۔

قومی سلامتی کمیٹی کے اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے وزیراعظم شہباز شریف نے کہا کہ 9 مئی کا دن ایک الم ناک دن تھا جو کہ کروڑوں پاکستانیوں نے انتہائی غم و غصے میں گزارا۔

قومی سلامتی کی اجلاس کے بعد شرکا سے خطاب کرتے ہوئے وزیراعظم شہباز شریف نے کہا کہ ہم سب آج یہ بات سوچنے پر مجبور ہیں کہ وہ کونسا نظریہ تھا کون شخص تھا یا کونسا جتھا تھا جس نے وطن کے ساتھ والہانہ محبت کو نذر آتش کردیا۔

وزیراعظم نے کہا کہ جس نے بھی یہ منصوبہ بندی کی اور جتھوں کو توڑ پھوڑ پر اکسایا، جنہوں نے ان کی قیادت کی اور جنہوں نے یہ تباہ کن کارروائیاں کی وہ یقیناً دہشت گردی کے زمرے میں تو آتے ہیں لیکن پاکستان کے ازلی دشمن بھی 75 سال میں ایسے گھناؤنے کام کرنے میں کامیاب نہیں ہوئے جس میں یہ جتھا کامیاب ہوا جس کی جتنی بھی مذمت کی جائے وہ کم ہے۔

شہباز شریف نے کہا کہ چاہے وہ 65 کی جنگ ہو، ضرب ازب ہو، امن و امان قائم کرنے کا منصوبہ ہو، چاہے وہ آرمی پبلک اسکول ہو، چاہے وہ سرحدوں کو محفوظ کرنے کے لیے جامِ شہادت نوش کرتے ہوئے کروڑوں ماؤں اور بچوں کو حفاظت اور سکون مہیا کیا ان سپوتوں اور غازیوں کی بے حرمتی کی گئی۔

وزیراعظم نے کہا کہ جی ایچ کیو کی طرف رخ کیا گیا ہے، میانوالی کے ایئربیس کی طرف رخ کیا گیا، فیصل آباد میں آئی ایس آئی کے دفتر کا رخ کیا گیا، ایف سی اسکول پر تباہی کی گئی۔

ان کا کہنا تھا کہ 75 سال میں کسی صوبے میں خواہ کتنا گھمبیر واقعہ ہوا ہو کبھی دیکھتی آنکھ نے اس طرح کی قبیح حرکت، گھناؤنی اسکیم اور دل خراش منظر نہیں دیکھا۔

انہوں نے کہا کہ ہم آج ایسے موقع پر یہاں بیٹھے ہیں کہ ہمیں اس ساری صورت حال کا جائزہ لینا ہوگا، پاکستان کے 22 کروڑ عوام اور حکومت یک جان دو قالب ہیں اور اپنی افواج کے ساتھ مکمل طور پر وابستگی کا اظہار کرتے ہیں اور اس مذموم حرکت کی بھرپور مذمت کرتے ہیں۔

وزیراعظم نے کہا کہ ہم نے یہ تہیہ کر رکھا ہے اور اسی حوالے سے لاہور میں بھی اجلاس کیا تھا، خیبرپختونخوا کے عہدیدار بھیموجود تھے، وہاں کہا تھا کہ اس طرح کا دل خراش منظر کبھی کسی پاکستانی نہیں دیکھا اور یہ کن کے ساتھ کیا گیا، جو وطن کی خاطر اگلے جہان میں چلے گئے، ہم کچھ بھی کرلیں ان کا قرض ادا نہیں کر سکتے۔

انہوں نے کہا کہ دشمن نے بھی کبھی نہیں سوچا ہوگا لہٰذا لاہور میں کہا تھا کہ جنہوں نے منصوبہ بندی کی ہے، جنہوں نے ان بلاوائیوں کو اکسایا اور رہنمائی کی اور اپنے سامنے توڑ پھوڑ اور گھروں کو آگ لگائی، شہیدوں اور غازیوں کی بے حرمتی کی وہ کسی رعایت کے قابل نہیں ہیں۔

انہوں نے کہا کہ ان کو ہر صورت قانون کے کٹہرے میں لانا ہوگا اور اگر وزیراعظم بھی کہے کہ فلاں کو چھوڑ دو تو وزیراعظم کا حکم ماننے سے انکار کردو اور بے گناہ کو کسی صورت تنگ نہیں کریں گے، وزیراعظم بھی کہے اس کو تنگ کرو تو ان کا حکم نہیں مانیں گے۔

ان کا کہنا تھا کہ یہ پیمانہ دیا اور 72 گھنٹے کا باقاعدہ وقت دیا کہ اس دوران آپ سب کو گرفتار کرکے مقدمات درج کرائیں گے۔

وزیراعظم نے کہا کہ میں 7/7 کو لندن میں تھا، مجھے مشورہ دیا گیا کہ 24 گھنٹے میں گھر سے نہ نکلوں، جب 24 گھنٹے بعد گھر سے باہر سڑک پر نکلا تو کھوکھا پر ایک آدمی اسلامی تاریخ اور اسلامی کتابیں بیچتا تھا، میں حیران رہ گیا کہ ان کی دکان وہاں موجود تھی اور کسی نے اس کی طرف دیکھا نہیں تھا۔

انہوں نے کہا کہ جو مجرمان تھے ان کے لیے راتوں کو بھی عدالتیں لگیں اور ان کو قرار واقعی سزائیں دی گئیں، لندن کی تاریخ میں شاید پہلا موقع ہو گا کہ رات کو عدالتیں لگیں۔

وزیراعظم شہباز شریف کا کہنا تھا کہ اگر آج اس لمحے تاریخ، عوام اور ملک کے 22 کروڑ کے عوام کا مطالبہ ہے کہ جو بے گناہ ہیں ان کو ہاتھ نہ لگایا جائے جو کسی بھی حوالے سے گناہ گار ہیں ان کو قرار واقعی سزا ملے تو رہتی دنیا تک اس طرح کا واقعہ دوبارہ رونما نہیں ہوگا اور پاکستان کو پھر کوئی میلی آنکھ سے نہیں دیکھے گا۔

شہباز شریف نے کہا کہ آج یہ قومی سلامتی کمیٹی کا اجلاس اپنی افواج پاکستان کے ساتھ بھرپور وابستگی کا اظہار کرتا ہے، ان تمام واقعات کی شدید مذمت کرتا ہے، قانون اور آئین کے مطابق قانون اپنا راستہ اپنائے گا۔

انہوں نے کہا کہ کسی کے ساتھ زیادتی اور ظلم کا سوال پیدا نہیں ہوتا مگر کسی نے جرم کیا ہے تو اس کو بچ نکلنے کا کوئی سوال پیدا نہیں ہوتا ہے۔

ان کا کہنا تھا کہ ہمیں قانونی، آئینی اور انتظامی حوالے سے آئندہ کے لیے ایسے انتظامات کرنے چاہئیں کہ قیامت تک اس طرح کا واقعہ دوبارہ کبھی رونما نہ ہو کیونکہ اس واقعے نے پوری دنیا میں پاکستان کو شدید نقصان پہنچایا اور کروڑوں لوگ آج بھی غصے میں اور رنجیدہ ہیں۔

مشہور خبریں۔

وزیر اعلی پنجاب سردار عثمان نے کرسمس پر مسیحی برادری کو مبارکباد پیش کی

?️ 25 دسمبر 2021لاہور(سچ خبریں) وزیر اعلی پنجاب سردار عثمان بزدارکرسمس پر مسیحی برادری کی

لبنان کی سرحد پر صیہونی حکومت کی فوجی مشقوں کا آغاز

?️ 4 ستمبر 2022سچ خبریں:    صہیونی فوج کے ترجمان اویخائی عدری نے آج اتوار

عمران خان، شاہ محمود قریشی کو سزا کے بعد اسٹاک ایکسچینج میں شدید مندی

?️ 30 جنوری 2024کراچی: (سچ خبریں) سائفر کیس میں عمران خان اور شاہ محمود قریشی

اب نتن یاہو حکومت کے زوال کا وقت آگیا ہے: لاپیڈ

?️ 20 مئی 2025سچ خبریں: یائر لاپید، صہیونی ریجم کے اپوزیشن لیڈر، نے آج پیر کے

سانحہ 9 مئی: فوجی عدالتوں سے 25 مجرمان کو 10 سال قید بامشقت تک کی سزائیں

?️ 21 دسمبر 2024راولپنڈی: (سچ خبریں) سانحہ 9 مئی میں ملوث 25 مجرمان کو فوجی

غزہ بڑھتی ہوئی انسانی تباہی کے دہانے پر

?️ 25 فروری 2026 سچ خبریں:غزہ کی پٹی ایک مکمل انسانی تباہی سے دوچار ہے،

سنی اتحاد کونسل کی مخصوص نشستیں دوسری جماعتوں کو دینے کا پشاور ہائیکورٹ کا فیصلہ معطل

?️ 6 مئی 2024اسلام آباد: (سچ خبریں) سپریم کورٹ نے سنی اتحاد کونسل کی مخصوص

 صیہونی فوج کا غزہ پر وسیع زمینی حملہ ؛ 30 افراد شہید  

?️ 2 اپریل 2025 سچ خبریں:صہیونی ریاست کے وزیر دفاع یسرائیل کاتز نے غزہ پٹی،

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے