?️
اسلام آباد{سچ خبریں} الیکشن کمیشن نے سینیٹ انتخابات میں وزیراعظم عمران خان اور وزرا کے الزامات کو مسترد کرتے ہوئے کہا ہے کہ ملکی اداروں پر کیچڑ نہ اچھالا جائے، کسی کے دباؤ میں آئے ہیں نہ آئندہ آئیں گے۔
الیکشن کمیشن نے اپنی پریس ریلیز میں کہا ہے کہ کسی کی خوشنودی کی خاطر آئین اور قانون کو نظر انداز نہیں کرسکتے، کسی کو فیصلوں پر اعتراض ہے تو آئینی راستہ اختیار کرے۔
الیکشن کمیشن نے کہا ہے کہ وزیر اعظم نے جن خیالات کا اظہار کیا انہیں پارلیمنٹ سے منظورکرانے میں کیا رکاوٹ تھی؟ الیکشن کمیشن کا کام قانون سازی نہیں ہے۔
الیکشن کمیشن نے اپنی پریس ریلیز میں کہا ہے کہ سینیٹ کے الیکشن آئین اور قانون کے مطابق کروانے پر ہم خداوند تعالی کے شکرگزار ہیں کہ وہ خوش اسلوبی سے اختتام پذیر ہوئے۔
الیکشن کے رزلٹ کے بعد میڈیا کی وساطت سے جو خیالات ہمارے مشاہدے میں آئے ان کو سن کر دکھ ہوا۔ خصوصی طور پر وفاقی کابینہ کے چند ارکان اور بلخصوص جناب وزیراعظم پاکستان نے جو کل اپنے خطاب میں فرمایا۔
اس ضمن میں وضاحت کی جاتی ہے کہ الیکشن کمیشن ایک آئینی اور آزاد ادارہ ہے۔ اس کو ہی دیکھنا ہے کہ آئین اور قانون اس کو کیا اجازت دیتا ہے اور وہی اس کا ‘معیار’ ہے۔
ہم کسی کی خوشنودی کی خاطر آئین اور قانون کو نظرانداز کرسکتے ہیں نہ ہی ترمیم کرسکتے ہیں۔ ہم کسی بھی دباو میں نہ آئے ہیں اور نہ ہی انشااللہ آئیں گے۔
الیکشن کمیشن کو کسی بھی وفود نے ملنا چاہا الیکشن کمیشن نے ان کا موقف سنا ان کی تجاویز کا تفصیلی جائزہ لیا۔الیکشن کمیشن سب کی سنتا ہےمگر وہ صرف اور صرف آئین و قانون کی روشنی میں ہی اپنے فرائض سرانجام دیتا ہے اور آزادانہ طور پر بغیر کسی دباو کے فیصلے کرتا ہے تاکہ پاکستانی عوام میں جمیوریت کو فروغ ملے۔
اعلامیے میں کہا گیا یہ حیران کن بات ہے کہ ایک ہی روز ایک ہی چھت کے نیچے ایک ہی الیکٹرول میں ایک ہی عملہ کی موجودگی میں جو ہار گئے وہ نا منظور جو جیت گئے وہ منظور، کیا یہ کھلا تضاد نہیں؟
باقی تمام صوبوں کے رزلٹ قبول ، جس رزلٹ پر تبصرہ اور ناراضگی کا اظہار کیا گیا ہے الیکشن کمیشن اس کو مسترد کرتا ہے۔
یہی ہے جمہوریت اور آزادانہ الیکشن اور خفیہ بیلٹ کا حسن جو پوری قوم نے دیکھا اور یہی آئین کی منشا تھی۔ جن خیالات کا اظہار کیا گیا ہے وہ پارلیمنٹ سے منظور کروانے میں کیا امر مانع تھا جبکہ الیکشن کمیشن کا کام قانون سازی نہیں ہے بلکہ قانون کی پاسبانی ہے۔
اگر اسی طرح آئینی اداروں کی تضحیک کی جاتی رہی تو یہ ان کی کمزوری کے مترادف ہے نہ کہ الیکشن کمیشن کی۔
ہر سیاسی جماعت اور شخص میں شکست تسلیم کرنے کا جذبہ ہونا چاہیے۔ اگر کہیں اختلاف ہے تو شواہد کے ساتھ آکر بات کریں۔
آپ کی تجاویز سن سکتے ہیں تو شکایات کیوں نہیں۔ لہذا ہمیں کام کرنے دیں ، ملکی اداروں پر کیچڑ نہ اچھالیں۔ کچھ تو احساس کریں، الیکشن کمیشن انشاللہ خدا کے فضل و کرم سے اپنی آئینی ذمہ داریاں بخوبی قانون اور آئین کی بالا دستی کے لیے احسن طریقے سے انجام دیتا رہے گا۔


مشہور خبریں۔
کن عرب ممالک نے ٹرمپ کو مبارکباد ہے؟
?️ 21 جنوری 2025سچ خبریں:ڈونلڈ ٹرمپ کی حلف برداری کے موقع پر متعدد عرب ممالک
جنوری
عمران خان کا سپریم کورٹ کے فیصلے کا خیر مقدم، ’جیل بھرو تحریک‘ معطل کرنے کا اعلان
?️ 1 مارچ 2023اسلام آباد:(سچ خبریں) عمران خان کی جانب سے یہ بیان ایسے وقت
مارچ
اسرائیل اور سعودی عرب کے تعلقات کو معمول پر لانے کے لیے امریکہ کا منصوبہ
?️ 28 مئی 2023سچ خبریں:صہیونی ماہرین، مصنفین اور حکام سعودی عرب کے ساتھ اسرائیل کے
مئی
امریکہ اور اسرائیل کی ایران سے مایوسی؛ تل ابیب کی اہداف کے حصول میں ناکامی
?️ 29 جون 2025سچ خبریں: علاقائی مسائل کے تجزیہ کار نے یہ بیان کرتے ہوئے
جون
پی ٹی آئی رہنماؤں کی پریس کانفرنس
?️ 25 جولائی 2022اسلام آباد: (سچ خبریں) پی ٹی آئی کے رہنما فواد چودھری اور
جولائی
آئی ایم ایف ہم سے خوش نہیں ہے: مفتاح اسماعیل
?️ 11 جون 2022اسلام آباد(سچ خبریں) وفاقی وزیرخزانہ مفتاح اسماعیل نے کہا ہے کہ آئی
جون
کیا ریاض صیہونی حکومت کے ساتھ تعلقات کو معمول پر لائے گا ؟
?️ 2 اگست 2023سچ خبریں:امریکی حکام کئی مہینوں سے کو معمول پر لانے کے لیے
اگست
مزاحمتی میزائلوں کے خلاف صیہونیوں کے چیلنجز
?️ 9 دسمبر 2024سچ خبریں: الجزیرہ کی ایک رپورٹ کے مطابق مزاحمتی محور اور صیہونی حکومت
دسمبر