3 ماہ میں انتخابات کرانا الیکشن کمیشن کی ذمہ داری ہے، مریم اورنگزیب

?️

اسلام آباد:(سچ خبریں) وفاقی حکومت نے 3 ماہ میں عام انتخابات کے انعقاد کی ذمہ داری الیکشن کمیشن آف پاکستان (ای سی پی) پر ڈال دی۔

یہ پیش رفت مشترکہ مفادات کونسل (سی سی آئی) کی جانب سے 2023 کی مردم شماری کی توثیق کرنے اور اس بات کو تقریباً یقینی بنانے کے صرف ایک روز بعد سامنے آئی ہے کہ رواں برس عام انتخابات نہیں ہو سکتے۔

وزیر اطلاعات مریم اورنگزیب نے کراچی پریس کلب میں صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے متوقع انتخابی شیڈول کے بارے میں ایک سوال کے جواب میں کہا کہ 9 اگست کو اسمبلیاں تحلیل ہو جائیں گی اور موجودہ حکومت اپنی مدت پوری کرلے گی، اس حوالے سے سمری صدر مملکت عارف علوی کو بھجوائی جائے گی، اس سمری کے مطابق انتخابات 3 ماہ کے اندر ہونے چاہئیں۔

انہوں نے کہا کہ الیکشن کمیشن نے اس کے مطابق اپنی تیاری شروع کر دی ہے لیکن بہرحال یہ الیکشن کمیشن کی ہی ذمہ داری ہے اور ہمیں امید ہے کہ وہ اسے پورا کرے گا، بروقت انتخابات اور جمہوری عمل کا تسلسل ملک کے لیے اہم ہے۔

انہوں نے اصرار کیا کہ تازہ ترین مردم شماری کی منظوری وفاقی حکومت کا قومی اور آئینی فرض تھا، وزیر اعظم شہباز شریف نے اس حوالے سے حتمی فیصلے تک پہنچنے سے قبل تمام صوبوں اور سیاسی اتحادیوں کو اعتماد میں لیا تھا۔

انہوں نے کہا کہ مردم شماری کا عمل مکمل ہونے اور اعداد و شمار سے اتفاق کے بعد صوبے چاہتے تھے کہ اسے نوٹیفائی کیا جائے، سی سی آئی نے متفقہ فیصلہ کیا لہٰذا ہم نے اپنا آئینی فرض پورا کرلیا۔

مریم اورنگزیب نے کہا کہ انتخابات کا انعقاد الیکشن کمیشن کا آئینی فرض ہے، جہاں تک ہماری حکومت کا تعلق ہے، وزیر اعظم شہباز شریف اتحادیوں سے مشاورت کے بعد پہلے ہی اعلان کر چکے ہیں کہ اس کی مدت 9 اگست کو ختم ہو جائے گی۔

سربراہ مسلم لیگ (ن) نواز شریف کی ممکنہ واپسی کے بارے میں سوال پر انہوں نے کوئی مخصوص ٹائم فریم نہیں بتایا لیکن اس عزم کا اظہار کیا کہ نواز شریف آئندہ عام انتخابات کے لیے پارٹی مہم کی خود قیادت کریں گے۔

وزیر اطلاعات نے پاکستان الیکٹرانک میڈیا ریگولیٹری اتھارٹی (پیمرا) آرڈیننس 2002 کو نافذ کرنے والے آرڈیننس میں ترمیم کے لیے 20 جولائی کو پارلیمنٹ میں پیش کیے گئے بل کے بارے میں صحافیوں کے خدشات کو مسترد کردیا۔

مریم اورنگزیب نے پیمرا آرڈیننس 2002 کو ایک ’کالا قانون‘ قرار دیا، جسے ان کے بقول ایک آمر (سابق فوجی حکمران پرویز مشرف) نے نافذ کیا تھا۔

انہوں نے کہا کہ ہماری حکومت نے متعلقہ اسٹیک ہولڈرز کے ساتھ 12 ماہ کی طویل مشاورت کے بعد اس میں ترامیم متعارف کروائی ہیں۔

یاد رہے کہ قومی اسمبلی نے رواں ماہ کے اوائل میں بل کی منظوری دی تھی، جمعہ (4 اگست) کو سینیٹ میں سینیٹرز کی جانب سے اٹھائے گئے خدشات کی روشنی میں بہتری کے لیے اسے قائمہ کمیٹی برائے اطلاعات و نشریات کو بھجوا دیا گیا تھا۔

’ریڈیو پاکستان‘ کی رپورٹ کے مطابق گزشتہ روز کمیٹی نے ایک اجلاس میں فیصلہ کیا کہ اس کے اراکین (آج) پیر کو اپنی ترامیم پیش کریں گے۔

مریم اورنگزیب نے صحافیوں کو یقین دہانی کروائی کہ ہم ایسی کوئی منظوری نہیں دیں گے جس پر آپ کو تحفظات ہوں، ہم سنسر شپ اور میڈیا کی آزادی پر حملوں کا شکار ہوئے ہیں، ہم کوئی ایسا قانون نہیں بنانے جا رہے ہیں جو آزادی اظہار کو دباتا ہو۔

مشہور خبریں۔

غزہ جنگ بندی کے پہلے مرحلے میں نیتن یاہو کی رسوایی

?️ 2 مارچ 2025سچ خبریں: علاقائی اخبار رائی الیوم کے ایڈیٹر اور معروف فلسطینی تجزیہ نگار

یمن کے ’’واللہ اشد بأساً‘‘ آپریشن کے اہم نتائج؛ باب المندب میں طاقت کا توازن تبدیل

?️ 14 ستمبر 2026سچ خبریں:یمنی مسلح افواج کے ’’واللہ اشد بأساً واشد تنکیلاً‘‘ آپریشن نے

الاقصی طوفان آپریشن کی مزید تفصیلات

?️ 5 نومبر 2024سچ خبریں: اسرائیل کے چینل 12 نے اعتراف کیا کہ اسرائیلی فوج

اعلیٰ عدلیہ میں ججز کی تعیناتی کا معیار طے کرنے کیلئے کمیٹی تشکیل

?️ 5 دسمبر 2023اسلام آباد: (سچ خبریں) اعلیٰ عدلیہ میں ججوں کی تعیناتی کے لیے

’ایکس نے مواد ہٹانے کی کئی حکومتی درخواستوں کو مسترد کیا‘

?️ 9 اکتوبر 2024کراچی: (سچ خبریں) سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس بندش کیس میں ایڈیشنل

یمنی حملوں کا مقابلہ کرنے کے لیے یو اے ای کو امریکی ہتھیاروں کی ترسیل

?️ 3 فروری 2022سچ خبریں:امریکی حکام کا کہنا ہے کہ یہ ملک یمنی فورسز کے

آئی جی اسلام آباد نے صحافی احمد نورانی کے لاپتا بھائیوں کی بازیابی کیلئے دو ہفتے کی مہلت مانگ لی

?️ 27 مارچ 2025اسلام آباد: (سچ خبریں) انسپکٹر جنرل آف پولیس ( آئی جی )

نیتن یاہو نے تعلقات کو معمول پر لانے کا فیصلہ ریاض پر چھوڑا

?️ 1 فروری 2023سچ خبریں: صیہونی حکومت کے وزیر اعظم نیتن یاہو نے CNN کے

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے