ہم تمام اداروں کا احترام کرتے ہیں، کسی بھی ادارے کے ساتھ خلیج نہیں چاہتے، بیرسٹرگوہر

?️

اسلام آباد: (سچ خبریں) پاکستان تحریک انصاف کے چیئرمین بیرسٹر گوہر کا کہنا ہے کہ ہم تمام اداروں کا احترام کرتے ہیں، کسی بھی ادارے کے ساتھ خلیج نہیں چاہتے،پاکستان تحریک انصاف کے رہنماوں کی ریاست مخالف سوشل میڈیا پوسٹس پربانی پی ٹی آئی عمران خان سے بات کروں گا،ایکسپریس نیوز سے گفتگو کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ جے آئی ٹی نے کچھ سوشل میڈیا پوسٹس دکھائی ہیں۔

ان پوسٹس کے حوالے سے پارٹی اور بانی پی ٹی آئی عمران خان سے بات کروں گا۔جے آئی ٹی کی جانب سے اٹھائے گئے سوالات پارٹی کے پلیٹ فارم پر ڈسکس کریں گے۔انہوں نے کہا کہ جے آئی ٹی کی جانب سے مجھے کچھ سوشل میڈیا پوسٹس دکھائی گئیں ہیں۔ سوشل میڈیا سے متعلق سوالات پر عمران خان سے بھی ڈسکس کریں گے ۔

ہم اداروں کا احترام کرتے ہیں کسی سے خلیج نہیں چاہتے۔

ایک سوال کے جواب میں چیئرمین پی ٹی آئی بیرسٹر گوہر کا کہنا تھا کہ میں نے کبھی اپنے سوشل میڈیا اکاونٹ سے اداروں کے خلاف پوسٹ نہیں کی۔جے آئی ٹی میں مجھ سے ملاقات اور پوچھ گچھ خوشگوار ماحول میں ہوئی تھی۔ہمارے چیئرمین عمران احمد خان نیازی ہیں آج بھی ہیں اور کل بھی رہیں گے۔خیال رہے کہ اس سے قبل ریاست مخالف پروپیگنڈے کے الزام میں جوائنٹ انوسٹی گیشن ٹیم (جے آئی ٹی )نے پی ٹی آئی کے 25 افراد کو دوبارہ 11 مارچ کو طلب کر لیا، جے آئی ٹی کی جانب سے جاری کئے گئے نوٹس میں ان تمام افراد کو متنبہ کیا گیا ہے کہ اس معاملے پر اپنی پوزیشن کی وضاحت کریں۔

جے آئی ٹی ان تمام افراد سے شواہد کی روشنی میں تحقیقات کر رہی ہے۔ ان افراد کیخلاف تحقیقات ریاست مخالف پروپیگنڈے کے حوالے سے کی جا رہی تھی۔قبل ازیں بھی جے آئی ٹی نے پی ٹی آئی کے 25 افراد کو طلب کیا تھا جن میں سے چیئرمین پی ٹی آئی بیرسٹرگوہر کے علاوہ روف حسن اور شاہ فرمان جی آئی ٹی کے سامنے پیش ہوئے تھے۔جے آئی ٹی نے پی ٹی آئی کے رہنماوں سے پانچ گھنٹے تفتیش کی تھی۔

ذرائع کے مطابق دوران تفتیش شاہ فرمان نے جے آئی ٹی کے سامنے نامناسب رویہ اختیار کیاتھا۔ جے آئی ٹی نے شاہ فرمان سے کچھ اضافی اور سخت سوالات بھی کئے تھے۔ جوائنٹ انوسٹی گیشن ٹیم (جے آئی ٹی) نے سوشل میڈیا پر منفی پروپیگنڈہ کرنے کے الزام میں پاکستان تحریک انصاف کے15رہنماﺅں کو نوٹسز جاری کئے تھے۔پی ٹی آئی رہنماﺅں کو 7 مارچ کو دوپہر 12 بجے وفاقی حکومت کی جے آئی ٹی نے طلب کیا گیا تھا۔

مشہور خبریں۔

یوریشیا کی نظر میں حزب اللہ

?️ 23 اکتوبر 2023سچ خبریں: اتوار کے روز علاقائی تجزیہ کاروں نے تل ابیب کو

صیہونی جارحیت کے بارے میں چین اور یورپی یونین کا کیا کہنا ہے؟

?️ 14 اکتوبر 2023سچ خبریں: غزہ کی پٹی میں بڑھتی ہوئی کشیدگی اور صیہونی حکومت

داعش کی نئی نسل کہاں پروان چڑھ رہی ہے؟

?️ 13 جون 2023سچ خبریں:عراق کے قومی سلامتی کے مشیر نے اس ملک اور دنیا

ایران کی خلیج فارس میں سفارتی حکمت عملی

?️ 14 اکتوبر 2024سچ خبریں: ایران نے گزشتہ حکومت سے ہی ہمسایہ ممالک کے ساتھ

ایتمار بن گویر اور ان کے بیٹے کے قتل کی سازش میں ملوث افراد گرفتار:صیہونی میڈیا

?️ 11 نومبر 2024سچ خبریں:صیہونی ٹی وی چینل 14 نے رپورٹ دی ہے کہ قابض

اسرائیل کے بائیکاٹ کا قانون، سوڈان نے اہم قدم اٹھا لیا

?️ 8 اپریل 2021خرطوم (سچ خبریں) سوڈان نے اسرائیل کے بائیکاٹ کے قانون کے بارے

رانا ثناءاللہ نے موجودہ ملکی صورتحال میں ایک اور میثاق جمہوریت کی تجویز پیش کردی

?️ 15 اپریل 2025اسلام آباد: (سچ خبریں) وزیر اعظم کے مشیر برائے سیاسی امور رانا

معاہدہ دستیاب ہے، ایران اپنی سرخ لکیروں پر مصر

?️ 5 مارچ 2022سچ خبریں:  ویانا میں برطانوی مذاکراتی ٹیم کے سربراہ نے ایران کے

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے