?️
کراچی: (سچ خبریں) پاکستانی ہسپتالوں میں داخل 18 سے 20 فیصد مریض طبی غفلت، دواؤں کے غلط استعمال اور ہسپتالوں میں لگنے والے جان لیوا انفیکشنز کے باعث جان کی بازی ہار جاتے ہیں۔
یہ بات ماہرین صحت نے رفاہ انسٹیٹیوٹ آف ہیلتھ کیئر کی پیشنٹ سیفٹی اور کوالٹی ہیلتھ کیئر کانفرنس سے متعلق پریس کانفرنس میں کہی۔
پریس کانفرنس سے ایگزیکٹو ڈائریکٹر رفاہ انٹرنیشنل اسد اللہ خان، ایگزیکٹو ڈائریکٹر قومی ادارہ برائے امراض قلب پروفیسر ڈاکٹر طاہر صغیر، چیئرمین پیشنٹ سیفٹی ڈاکٹر ذکی الدین، اور سید جمشید احمد نے خطاب کیا۔
اس موقع پر ڈاکٹر ذکی الدین کا کہنا تھا کہ پاکستانی ہسپتالوں میں داخل مریضوں میں سے لگ بھگ 20 فیصد طبی غفلت اور میڈیکل ایررز کا شکار ہوتے ہیں، جو عالمی سطح پر بہت زیادہ شرح ہے۔
انہوں نے جان ہاپکنز انسٹیٹیوٹ کی ایک تحقیق کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ امریکا میں ہر سال ایک لاکھ سے زائد افراد کی پری وینٹیبل میڈیکل ایررز کے باعث موت ہو جاتی ہے۔
ڈاکٹر ذکی الدین نے کہا کہ امریکا میں اموات کی پہلی بڑی وجہ دل کی بیماریاں، دوسری کینسر اور تیسری پری وینٹیبل میڈیکل ایررز ہیں، یہ ایک سنگین مسئلہ ہے جسے فوری حل کرنے کی ضرورت ہے۔
انہوں نے مزید بتایا کہ آٹھویں انٹرنیشنل پیشنٹ سیفٹی کانفرنس اپریل میں آغا خان ہسپتال میں ہوگی، جس کا مقصد مریضوں کی حفاظت کو یقینی بنانا اور علاج کے معیار کو بہتر بنانا ہے۔
ڈاکٹر ذکی الدین کا کہنا تھا کہ علاج کے دوران کئی طرح کی غلطیاں ہو سکتی ہیں، جن میں غلط دوا کا انتخاب، غلط انجکشن، سرجری کے دوران پیچیدگیاں اور انفیکشنز شامل ہیں۔
انہوں نے تجویز دی کہ ترقی پذیر ممالک میں طبی عملے کی تربیت اور جدید سسٹمز کے نفاذ سے ان غلطیوں میں کمی لائی جا سکتی ہے، اس کے لیے ضروری ہے کہ اگر کوئی ڈاکٹر یا نرس غلطی کرے تو اسے تسلیم کرنے اور اصلاح کرنے کا ماحول بنایا جائے۔
اس موقع پر پروفیسر ڈاکٹر طاہر صغیر کا کہنا تھا کہ پاکستان میں ہسپتالوں میں لگنے والے انفیکشنز مریضوں کی اموات اور دائمی بیماریوں کی ایک بڑی وجہ ہیں۔
انہوں نے بتایا کہ قومی ادارہ برائے امراض قلب میں ایسے مریض بھی آتے ہیں، جو انفیکٹیڈ ہوتے ہیں، جنہیں دیگر ہسپتال قبول نہیں کرتے، ہماری مجبوری ہے کہ ہم ایسے مریضوں کا علاج کریں، ان کے لیے علیحدہ وارڈ بنایا گیا ہے، جسے وقتاً فوقتاً فیومیگیٹ بھی کیا جاتا ہے۔“
پروفیسر ڈاکٹر طاہر صغیر نے کہا کہ اب تک 75 سے زائد ہسپتالوں میں طبی عملے کی تربیتی ورکشاپس منعقد کی جا چکی ہیں، جن کے مثبت نتائج سامنے آئے ہیں، مغربی ممالک میں اس حوالے سے بہت کام ہوا ہے، جس کے نتیجے میں وہ 80 فیصد اور ہم 50 فیصد تک قابو پا سکتے ہیں۔
پریس کانفرنس سے ایگزیکٹو ڈائریکٹر رفاہ انٹرنیشنل اسد اللہ خان کا کہنا تھا کہ میڈیکل ایررز نہ صرف مریضوں کے لیے تکلیف دہ ہیں بلکہ مالی نقصان کا بھی باعث بنتے ہیں۔
انہوں نے کہا کہ پاکستان میں ’پیشنٹ سیفٹی رجسٹری‘ موجود نہیں، جس کی اشد ضرورت ہے، مزید کہنا تھا کہ تمام اداروں کو مل کر ایک پیشنٹ سیفٹی رجسٹری قائم کرنی چاہیے، تاکہ مریضوں کی تفصیلات محفوظ کی جا سکیں اور ہسپتالوں میں سخت ریگولیشنز کے ذریعے میڈیکل غلطیوں کی روک تھام یقینی بنائی جا سکے۔
اس موقع پر ماہرین صحت کا کہنا تھا کہ پاکستان میں مریضوں کی حفاظت کے لیے فوری اقدامات کی ضرورت ہے، ہسپتالوں میں طبی عملے کی تربیت، جدید حفاظتی سسٹمز کا نفاذ اور سخت ریگولیشنز سے طبی غلطیوں میں نمایاں کمی لائی جا سکتی ہے، جو ہزاروں جانیں بچانے میں مددگار ثابت ہوگا۔


مشہور خبریں۔
تل ابیب کی ریاستی دہشتگردی پیجر جو بم بن گئے
?️ 18 ستمبر 2025تل ابیب کی ریاستی دہشتگردی پیجر جو بم بن گئے لبنان میں
ستمبر
مقبوضہ کشمیر میں انسانی حقوق کی خلاف ورزیاں جاری ہیں: آرمی چیف
?️ 5 فروری 2022اسلام آباد (سچ خبریں) پاک فوج کے سربراہ جنرل قمر جاوید باجوہ
فروری
محمود عباس کیا کہتے ہیں غزہ کے بارے میں؟
?️ 9 نومبر 2023سچ خبریں: فلسطینی اتھارٹی کے سربراہ نے بدھ کی شب اعلان کیا
نومبر
گیلنٹ کی مضحکہ خیز دھمکیاں
?️ 13 اگست 2023سچ خبریں:صہیونی میڈیا لبنان کی حزب اللہ کے ساتھ نئی جنگ شروع
اگست
چین اور بھارت خود فیصلہ کریں کہ روسی تیل خریدیں یا نہیں:روس
?️ 29 اکتوبر 2025چین اور بھارت خود فیصلہ کریں کہ روسی تیل خریدیں یا نہیں:روس
اکتوبر
امریکی فیول پائپ لائن ہیکرز کی جانب سے بھرتی اورسکیورٹی سسٹم کی کمزوری
?️ 23 اکتوبر 2021سچ خبریں:ایک امریکی ذرائع ابلاغ نے بتایا کہ ایک نامعلوم غیر ملکی
اکتوبر
مشرقی ایشیا میں امریکہ کا خطرناک کھیل
?️ 16 اگست 2022سچ خبریں:روزانہ تقریباً پانچ امریکی جنگی جہاز چین کے ساحل کے قریب
اگست
پیوٹن اور ٹرمپ کے درمیان کیا بات چیت ہوئی؛کرملین کا بیان
?️ 19 مارچ 2025 سچ خبریں:روسی صدارتی دفتر (کرملین) نے کہا کہ پیوٹن نے بحیرہ
مارچ