گورنر راج سے نہیں ڈرتے، وفاق میں ہمت ہے تو لگا کر دکھائے، وزیر اعلیٰ خیبرپختونخوا

?️

پشاور: (سچ خبریں) وزیر اعلیٰ خیبرپختونخوا علی امین گنڈا پور نے کہا ہے کہ وہ وفاق کی جانب سے صوبے میں گورنر راج لگائے جانے سے ڈرتے نہیں ہیں، وفاق میں ہمت ہے تو لگا کر دکھائے۔

خیبرپختونخوا اسمبلی کے اجلاس میں انتہائی جارحانہ خطاب کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ کرسی نہیں عزت اور خودداری چاہیے، اپنے حق کےلیے پرامن طریقے سے جدوجہد کرتے رہیں گے۔

علی امین گنڈاپور نے کہا کہ بیغرت اور بے شرم کہتے ہیں کہ بھاگ گئے، میرا ورکر، میرے لوگ کوئی دہشت گرد ہیں کہ تم ان پر گولیاں ماروگے اور وہ بچارے کھڑے رہیں گے، ہاں اب جب اسلحہ اٹھا کر آئیں گے پھر تمہیں بتائیں گے کہ بھاگتے ہیں یا بھگاتے ہیں، پھر تگڑے ہوجانا، پھر سنبھالنا اپنے ان لوگوں کو۔

وزیر اعلیٰ خیبر پختونخوا نے کہا کہ اس دفعہ 245 لگاکر ان لوگوں نے گولیاں ہمیں فورسز سے مروائیں، ایسا کام اگر تمہارے بچے کے ساتھ ہوا ہوتا تو تہماری بیوی کیا سوچتی، اس کی ماں کیا سوچتی اور مارنے والے کے بارے میں کیا بد دعا دیتی۔

اپنی بات کو جاری رکھتے ہوئے انہوں نے کہا کہ میری یہ دعا ہے، برملا میری دعا ہے کہ ان لوگوں کو ایسی تکلیف، ایسا دکھ، ایسا درد دکھا کہ تاریخ میں لوگوں کو مثال ملے کہ ان لوگوں نے ایسا کیا تھا۔

ان کا کہنا تھا کہ ڈرو اس وقت سے، جب ہم نے کہا کہ گولی کا جواب گولی سے دیں گے، امن کا نعرہ چھوڑ کر نکلیں گے، اسلحہ ہمارے پاس بھی ہے، بارود ہمارے پاس بھی ہے، پیسہ ہمارے پاس بھی ہے۔

وزیر اعلیٰ  نے کہا کہ یہ روایت، یہ رواج ہم نہیں مانتے اور یہ بھی سن لو ہم کرسی والے نہیں ہیں، ہم لعنت بھیجتے ہیں ایسی کرسیوں پر کہ تم ہمیں ڈرالوگے کہ تم گورنر راج لگا دو گے۔

وزیر اعلیٰ  نے کہا کہ ہم تمہاری بات نہیں کریں گے، لگاؤ گورنر راج، میں تمہیں فلور آف دی ہاؤس چیلنج کرتا ہوں کہ تمہارے باپ میں جرات ہے تو لگاؤ گورنر راج، اگر خدا کی قسم اس صوبے کے اندر، اس مینڈیٹ کے ساتھ تم نے گورنر راج لگایا، اس صوبے میں تم رہ گئے تو ہم اپنے باپ سے پیدا نہیں ہوئے ہوں گے، کیا ہمارا خون سفید ہے، کیا ہمارا خون سفید ہے کہ دہشت گردی کا مقابلہ بھی ہم کریں، اس کی بھینٹ بھی ہم چڑیں، مینڈیٹ بھی ہمارا چوری ہو، لیڈر بھی ہمارا جیل میں، گولیاں بھی ہم کھائیں، پر امن احتجاج بھی ہم نہ کرسکیں، اگر ایسے ہے تو پھر ایسا نہ کہ ہم بھی نعرہ لگادیں کہ ایسا ہے تو پھر ایسا ہی صحیح۔

واضح رہے کہ علی امین گنڈاپور کا یہ بیان ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب کہ کچھ دیر قبل وزیراعظم کے مشیر برائے قانون بیرسٹر عقیل ملک نے کہا تھا کہ حکومت سمجھتی ہے کہ گورنر راج لگانا مناسب اقدام ہوگا اور کچھ عرصے کے لیے خیبرپختونخوا میں گورنر راج لگانے پر غور کیا جا رہا ہے۔

ڈان نیوز کے پروگرام ’دوسرا رخ‘ میں گفتگو کرتے ہوئے ان کا کہنا تھا کہ وزیراعظم شہباز شریف خیبر پختونخوا میں گورنر راج پر کلیئر ہیں، وفاقی کابینہ کے اراکین کی اکثریت گورنر راج کی حامی ہے۔

بیرسٹر عقیل ملک نے کہا کہ کچھ عرصے کے لیے گورنر راج لگانے پر غور کر رہے ہیں، پہلی کوشش ہے کہ صوبائی اسمبلی میں قرارداد لائی جائے۔

ان کا مزید کہنا تھا کہ اسمبلی میں قرارداد نہیں آتی تو دوسرا راستہ بھی ہے، وزیراعظم کی ایڈوائس پر صدر گورنر راج لگاسکتے ہیں اور یہ معاملہ پارلیمنٹ کے مشترکہ اجلاس میں لایا جاسکتا ہے۔

وزیراعظم کے مشیر برائے قانون نے مزید کہا کہ پارلیمنٹ کا مشترکہ اجلاس 10 روز میں بلایا جا سکتا ہے۔

واضح رہے کہ 5 اکتوبر کو گورنر خیبر پختونخوا فیصل کریم کنڈی نے صوبے میں گورنر راج لگائے جانے کا عندیہ دیتے ہوئے کہا تھا کہ معاملات حد سے بڑھ گئے تو گورنر راج لگانے میں کوئی قباحت نہیں ہے۔

انہوں نے کہا تھا کہ جو چیز آئین میں موجود ہو (گورنر رول) اس کا آپشن ضرور موجود ہوتا ہے، گورنر رول ماضی میں لگائے گئے ہیں، جب مرض لاعلاج ہوجاتا ہے تو نہ چاہتے ہوئے بھی فیصلہ کرنا پڑتا ہے۔

یاد رہے کہ 24 نومبر کو سابق وزیر اعظم عمران خان کی رہائی اور دیگر مطالبات کی منظوری کے لیے پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) کا مرکزی قافلہ وزیراعلیٰ خیبرپختونخوا علی امین گنڈاپور اور بشریٰ بی بی کی قیادت میں اسلام آباد جانے کے لیے نکلا تھا۔

تاہم، 26 نومبر کو رات گئے رینجرز اور پولیس نے اسلام آباد کے ڈی چوک سے جناح ایونیو تک کے علاقے کو پاکستان تحریک انصاف ( پی ٹی آئی) کے کارکنوں سے مکمل طور پر خالی کرالیا تھا اور متعدد مظاہرین کو گرفتار کرلیا تھا۔

اگلے روز وزیراعظم شہباز شریف نے کہا تھا کہ ملک میں انتشار پھیلانے کے لیے اسلام آباد پر لشکر کشی کی گئی، اس کا مقصد ملکی استحکام کو تباہ کرنا تھا۔

شہباز شریف نے مزید کہا تھا کہ اسلام آباد پر لشکر کشی کرنے والے شرپسند ٹولے کے خلاف فوری قانونی چارہ جوئی کی جائے، استغاثہ کے نظام میں مزید بہتری لاکر شرپسند عناصر کی فوری شناخت کی جائے اور انہیں قرار واقعی سزا دلوائی جائے۔

آج وزیر اعظم شہباز شریف نے مستقبل میں شرپسندوں کی اسلام آباد میں آمد کو روکنے، گزشتہ دنوں وفاقی دارالحکومت میں انتشار و فساد پھیلانے والوں کی نشاندہی، ان کے خلاف مؤثر کارروائی کے لیے وفاقی وزیرِ داخلہ محسن نقوی کی سربراہی میں ٹاسک فورس قائم کر دی ہے۔

مشہور خبریں۔

انتخابات میں سیکیورٹی نہیں دے سکتے، فوج کا وزارت داخلہ کو جواب

?️ 9 فروری 2023اسلام آباد: (سچ خبریں) جی ایچ کیو  نے کہا ہے کہ مسلح

میری جماعت کو اتحادیوں پر مکمل اعتماد ہے، اتحادی بہت وضع دار لوگ ہیں:شاہ محمود قریشی

?️ 14 مارچ 2022اسلام آباد(سچ خبریں)وزیر خارجہ شاہ محمود قریشی نے  صحافیوں سے بات کرتے

قوم کو اپنے شہداء اور غازیوں پر فخر ہے، صدر مملکت کا یومِ بحریہ پر پیغام

?️ 8 ستمبر 2025اسلام آباد (سچ خبریں) صدر مملکت آصف علی زرداری نے پاک بحریہ

بائیڈن ایران اور سعودی عرب سے تیل مانگتے ہیں: کانگریس

?️ 13 مئی 2022سچ خبریں: اوکلاہوما کے ریاستی نمائندے مارکوِن میلن نے جمعرات کو صدر

صیہونی حکومت کا جنوبی شام کے آبی وسائل قبضہ کرنے کا خطرناک منصوبہ

?️ 25 دسمبر 2024سچ خبریں:شام کے ایک مقامی ذریعے نے انکشاف کیا ہے کہ صیہونی

سیلاب کے باعث پاکستان کو 10 ارب ڈالر کا نقصان

?️ 30 اگست 2022اسلام آباد(سچ خبریں)وفاقی حکومت نے ہفتوں کی طوفانی بارشوں اور اس کے

داعش کا مقابلہ کرنے کے لیے الحشد الشعبی کی خصوصی بٹالین

?️ 16 مارچ 2022سچ خبریں:عراق کے صوبہ دیالہ میں الحشد الشعبی کے ترجمان نے اعلان

عراق کے پارلیمانی انتخابات مستقبل کی علاقائی کشیدگی میں فیصلہ کن ثابت ہوں گے

?️ 12 نومبر 2025عراق کے پارلیمانی انتخابات مستقبل کی علاقائی کشیدگی میں فیصلہ کن ثابت

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے