گندم کی نقل و حمل پر کوئی پابندی عائد نہیں کی گئی، حکومت پنجاب

?️

لاہور: (سچ خبریں) محکمہ خوراک پنجاب نے واضح کیا ہے کہ اس نے گندم کی بین الصوبائی یا بین الاضلاعی نقل و حمل پر پابندی نہیں لگائی جب کہ اس نے اناج کی نقل و حمل سے متعلق نوٹیفکیشن کی ’غلط تشریح‘ کو کنفیوژن کی وجہ قرار دیا ہے۔

میڈیا رپورٹس  کے مطابق پنجاب میں فصل کی کٹائی کے رواں موسم میں گندم کی کثرت کا بحران ہے، بحران کی وجہ ملک میں فصل کٹنے کے وقت کے قریب نگران حکومت کی جانب سے اناج کی بھاری درآمد ہے۔

عام طور پر صوبائی حکومت 40 لاکھ ٹن سے زیادہ سالانہ گندم خریدتی ہے، تاہم اس کے باوجود کہ اس نے فصل بوائی کے موسم کے آغاز پر گزشتہ اکتوبر، نومبر میں ’مزید گندم اگاؤ‘ مہم بھی چلائی تھی، رواں سیزن میں صوبائی حکومت نے بلکل گندم نہیں خریدی۔

عام طور پر صوبائی حکومت سالانہ چالیس لاکھ ٹن گندم خریدتی ہے۔ تاہم، اس سیزن میں، اس نے گزشتہ اکتوبر اور نومبر میں بوائی کے موسم کے آغاز پر ”زیادہ گندم اگاؤ“ مہم چلانے کے باوجود کوئی گندم نہیں خریدی۔

بمبر فصل کاٹنے والے کاشت کار اب فری مارکیٹ کے رحم و کرم پر ہیں اور پیداوار ایک ہزار روپے من بیچنے پر مجبور ہیں جو کہ 40 کلو گرام کے لیے مقرر کردہ سرکاری کم از کم سپورٹ پرائس سے بہت زیادہ کم ہے۔

دو روز قبل جاری سوشل میڈیا پر زیر گردش نوٹی فکیشن جس میں اسمگلنگ کے خاتمے کے لیے اچھی ساکھ والے افسران کی چیک پوسٹوں پر تعیناتی کا کہا گیا، اس سے یہ تاثر گیا کہ حکومت پنجاب گندم کی بین الصوبائی نقل و حمل پر پابندی لگا رہی ہے۔

محکمے کے ایک ترجمان نے اتوار کو وضاحت کی کہ گندم کی نقل و حمل پر پابندیاں عائد نہیں کی گئیں۔

حکومت پنجاب کی پالیسی کے تحت گندم کی بین الصوبائی اور بین الااضلاعی نقل و حمل کی مکمل اجازت ہے اور اس سلسسلے میں کسی اجازت نامے کی ضرورت نہیں ہے۔

انہوں نے وضاحت کی کہ کچھ عناصر اسمگلنگ کی روک تھام کے لیے وفاقی حکومت کی جانب سے لکھے خط کو گندم کی نقل و حمل سے جوڑ رہے ہیں جو کہ مکمل طور پر غلط فہمی ہے۔

ترجمان نے وضاحت کی کہ چیک پوسٹوں پر تعینات اسٹاف گندم ڈلیوری کا ریکارڈ رکھے گا تاکہ اس بات کا پتا لگایا جا سکے کہ کتنی گندم کس ڈسٹرکٹ اور صوبے کو بھیجی گئی۔

انہوں نے کہا کہ دوسری دیگر اشیا کی طرح یہ ریکارڈ رکھنا ضروری ہے تاکہ بد عنوان عناصر کو مارکیٹ میں منصوعی قلت کا تاثر پیدا کرنے سے روکا جائے۔

اسی حوالے سے سامنے آنے والی ایک پیشرفت میں خیبر پختونخوا کی حکومت نے پاکستان ایگری کلچرل اسٹوریج اینڈ سروسز کارپوریشن (پاسکو) کو نظر انداز کرتے ہوئے گندم خریداری کرنے کا فیصلہ کیا ہے اور دعویٰ کیا ہے کہ اس سے صوبائی حکومت کے 12 ارب روپے کی بچت ہوگی۔

وزیر خوراک خیبر پختونخوا نے کہا کہ پاسکو ہمیں 40 کلو گرام گندم 5 ہزار 600 میں دے رہا ہے لیکن ہم نے کسان سے 40کلو گرام گندم 3 ہزار 9 سو میں براہ راست خریدنے کا فیصلہ کیا ہے جس نے حکومت کو 12 ارب روپے کی بچت ہوگی۔

پاسکو حکومت کی زیر ملکیت کمپنی ہے جو پاکستان کے اسٹوریج سیکٹر کو آپریٹ کرتی ہے۔

انہوں نے کہا کہ صوبائی حکومت نے 3 لاکھ ٹن گندم مقامی کسانوں سے خریدنے کا فیصلہ کیا ہے، انہوں نے زور دے کر کہا کہ درآمد شدہ گندم کو مارکیٹ سے نہیں خریدا جائےگا۔

انہوں نے وضاحت کی کہ حکومت نے گندم خریداری شروع کردی ہے، ابتدائی روز کو مقامی کسانوں سے خریداری کے لیے مختص کیا گیا ہے، 17 مئی کے بعد پنجاب کے کسانوں کو بھی گندم فروخت کرنے کی اجازت ہوگی۔

انہوں نے کہا کہ اگر کسی سرکاری افسر نے درآمد شدہ گندم صوبے میں حکومتی خریداری کے لیے لانے کی کوشش کی تو سخت کارروائی کی جائے گی۔

ان کا کہنا تھا کہ سابقہ وفاقی نگران حکومت کی جانب سے درآمد شدہ 35 لاکھ ٹن گندم پنجاب میں اسٹاک تھی جس کی وجہ سے صوبائی حکومت نے مقامی کسانوں سے گندم خریدنے سے انکار کیا۔

وزیر صحت خیبر پختونخوا نے کہا کہ پنجاب کے کسان مشکل وقت سے گزر رہے ہیں، اس لیے ہم نے ان سے گندم خریدنے کا فیصلہ کیا ہے۔

انہوں نے بتایا کہ 20 کلو گرام آٹے کے تھیلے کی قیمت 3 ہزار 2 سو سے کم ہوکر ایک ہزار 650 روپے ہوگئی ہے۔

مشہور خبریں۔

 نیتن یاہو اور ٹرمپ کی ملاقات کا نتیجہ علاقائی معاملات پر سودے بازی ہوگا:صہیونی امور کے تجزیہ کار

?️ 28 دسمبر 2025  نیتن یاہو اور ٹرمپ کی ملاقات کا نتیجہ علاقائی معاملات پر

رواں سال میں امریکہ میں جرائم کے اعدادوشمار کتنے بڑھے؟

?️ 9 اگست 2023سچ خبریں: واشنگٹن پولیس ڈیپارٹمنٹ نے انکشاف کیا ہے کہ امریکی دارالحکومت

ٹرمپ امریکی صدر بن جائیں گے تو نیٹو کے ساتھ کیا کریں گے؟

?️ 5 اگست 2023سچ خبریں: وائٹ ہاؤس کے سابق مشیر کا خیال ہے کہ سابق

افغانستان بارے اجلاس میں عدم شرکت، سہیل آفریدی نے سیاسی پوائنٹ سکورنگ کی۔ عطا تارڑ

?️ 17 اکتوبر 2025اسلام آباد (سچ خبریں) وفاقی وزیر اطلاعات عطاء اللہ تارڑ نے کہا

9 مئی سے متعلق ملٹری ٹرائل کی قرارداد سیاسی نوعیت کی ہے، وکیل عمران خان

?️ 20 فروری 2025اسلام آباد: (سچ خبریں) سپریم کورٹ میں سویلین کے فوجی عدالتوں میں

یمن کی جنگ اور محاصرے کے تباہ کن نتائج

?️ 3 مارچ 2022سچ خبریں:سعودی اماراتی اتحاد کی جانب سے مسلسل محاصرے کی وجہ سے

متحدہ عرب امارات اور پاکستان کے درمیان سیاسی مشاورت کا دوسرا دور ابوظہبی میں منعقد

?️ 29 جون 2025ابوظہبی: (سچ خبریں) متحدہ عرب امارات اور اسلامی جمہوریہ پاکستان کے درمیان

ایران، روس اور چین کے بڑھتے ہوئے تعلقات پر امریکہ کی تشویش

?️ 23 مارچ 2024سچ خبریں: امریکی سینٹرل کمانڈ کے سربراہ نے ایران، چین اور روس

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے