کرغزستان سے وطن واپس آنے والے پاکستانی طلبا نے تشدد اور مارپیٹ کی داستان سنا دی

?️

لاہور: (سچ خبریں) کرغزستان سے لاہور ایئرپورٹ پہنچنے والے پاکستانی طلبا نے تشدد اور مارپیٹ کی داستان سنادی۔یاد رہے کہ گزشتہ رات کرغزستان میں حملوں کے بعد پاکستانی طالب علموں کی روانگی شروع ہوئی تھی، رات 12 بجے کے بعد پہلی پرواز 140 پاکستانی طلبا سمیت 180 مسافروں کو لے کر لاہور پہنچی تھی۔

میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے عمر نامی طالب علم نے بتایا کہ مقامی افراد بڑی تعداد میں پاکستانی اور بھارتیوں کے ہاسٹلز کے باہر جمع ہونا شروع ہوئے، ٹک ٹاک پر لائیو ویڈیو بھی چلائی گئیں،کرسیوں، مکیوں، آہنی کلپس سے تشدد کیا۔

شاہزیب نامی طالب علم نے بتایا کہ جب صورتحال بے قابو ہوئی تو وہ اپنے دوستوں کے ہمراہ فلیٹ میں چھپے ہوئے تھے۔

انہوں نے بتایا کہ بشکیک میں مصری لوگوں نے ایک جھگڑے کے دوران مقامی لڑکوں کو مارا تھا، لڑائی کے دوران ویڈیوز بھی بنائی گئیں، مصری لڑکوں نے وہ ویڈیوز سوشل میڈیا پر اپلوڈ کردی تھیں، ویڈیوز سوشل میڈیا پراپلوڈ کرنے کے بعد فسادات شروع ہوئے۔

شاہزیب نے بتایا کہ وہاں کے مقامی ٹرانسپورٹرز بھی غیر ملکی طلبا پر تشدد کر رہے ہیں جبکہ یونیورسٹیز انتظامیہ بھی جھوٹ بول رہی ہے۔

طالب علم کا کہنا تھا کہ کوئی جگہ بھی محفوظ نہیں سڑکوں پر بھی ڈھونڈ ڈھونڈ کر طلبا کو مارا جارہا ہے، وہاں کی مقامی پولیس بھی کوئی تعاون نہیں کررہی، پولیس واقعے کے 2 سے 3گھنٹے بعد جائے وقوع پر پہنچی۔

ایک سوال کے جواب میں طالب علم شاہزیب کا کہنا تھا کہ ہم نے واپسی کے لیے اپنے ٹکٹس خود بک کرائی ہیں، پاکستانی سفارت خانے کا اس میں کوئی عمل دخل نہیں۔

ان کا مزید کہنا تھا کہ ہم لوگ پاکستان اپنی مدد آپ کے تحت واپس آئے ہیں، کرغزستان میں پاکستان کے طالب علموں کی تعداد تقریباً 10 ہزار ہے جن کی بڑی تعداد اس وقت مشکل میں ہے۔

18 مئی کو کرغزستان میں طلبہ کے ہاسٹل پر مقامی انتہاپسند عناصر نے حملہ کیا تھا جس میں متعدد طالبعلم زخمی ہو گئے تھے اور ان حملوں کے بعد سیکڑوں پاکستانی طالبعلم بشکیک میں محصور ہو کر رہ گئے ہیں۔

بشکیک میں حملوں کے طلبہ کو مقامی انتہا پسندوں نے ہاسٹلز سے جبری بے دخل کرنا شروع کردیا ہے جس کے بعد پہلے سے عدم تحفظ کا شکار یہ طلبہ بے سروسامانی کی حالت میں محفوظ مقامات تلاش کرتے پھر رہے ہیں جبکہ کچھ طلبہ اپنے اپنے ہاسٹل کے کمروں تک محدود ہیں جہاں انہیں کھانے پینے کی اشیا کی شدید قلت کا سامنا ہے۔

مشہور خبریں۔

میلبورن یونیورسٹی کی جانب سے صیہونی حکومت کا بائیکاٹ

?️ 18 اگست 2022سچ خبریں:   نیو عرب ویب سائٹ کے مطابق آسٹریلیا کی میلبورن یونیورسٹی

ترکی میں دہشت گردی کے الزام میں سیکٹروں افراد گرفتار

?️ 23 جون 2021سچ خبریں:ترک سکیورٹی فورسز نے متعدد صوبوں میں بیک وقت کاروائیوں کے

نوکنڈی اور پنجگور میں ایف سی پر حملے ناکام بنادیے گئے، متعدد دہشتگرد ہلاک

?️ 1 دسمبر 2025نوشکی: (سچ خبریں) سیکیورٹی فورسز نے اتوار کی رات نوشکی کے علاقے

پاکستان اڑان بھر چکا، جلد دنیا کی بہترین معیشتوں میں شامل ہوگا، عطا اللہ تارڑ

?️ 6 اپریل 2025لاہور: (سچ خبریں) وفاقی وزیر اطلاعات و نشریات عطا اللہ تارڑ کا

2022 کے آغاز سے اب تک 20000 یمنی بے گھر :اقوام متحدہ

?️ 24 فروری 2022سچ خبریں:اقوام متحدہ کے بین الاقوامی ادارہ برائے مہاجرت(IOM)کا کہنا ہے کہ

سوڈان میں جنگ کے باعث 10 لاکھ سے زیادہ بچے بے گھر: یونیسیف

?️ 17 جون 2023سچ خبریں:اقوام متحدہ کے بچوں کے فنڈ یونیسیف نے اعلان کیا ہے

غزہ میں خوراک کی فراہمی میں رکاوٹ ڈالنے پر اسرائیل کی شدید مذمت کرتے ہیں، وزارت خارجہ

?️ 25 جولائی 2025اسلام آباد: (سچ خبریں) وزارت خارجہ نے کہا ہے کہ اسرائیل کی

امریکہ نے ہمارے اور خطہ کے بارے میں غلط راستے کو چُنا ہے:آیت اللہ خامنہ ای

?️ 22 مارچ 2021سچ خبریں:آیت اللہ خامنہ ای نےکہا کہ امریکہ نے ہمارے اور اس

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے