ڈپٹی چیئرمین سینیٹ کی ملک میں 9 صوبوں کے قیام کی تجویز

?️

اسلام آباد: (سچ خبریں) ڈپٹی چیئرمین سینیٹ مرزا محمد آفریدی نے ملک میں کراچی سمیت 9 نئے صوبوں کی تشکیل کی تجویز دی ہے۔مرزا محمد آفریدی نے یہ تجویز نجی ٹی وی  کے پروگرام ’دوسرا رخ‘ میں ایک انٹرویو میں دی جو آج شام 7 بجے نشر کیا جائے گا۔

قبائلی ضلع سے تعلق رکھنے والے ڈپٹی چیئرمین سینیٹ 2018 میں آزاد امیدوار کی حیثیت سے سینیٹ کے رکن منتخب ہوئے تھے۔

انہوں نے کراچی، وفاق کے زیر انتظام قبائلی علاقہ جات (فاٹا) اور ہزارہ ضلع کے صوبے بنانے کے ساتھ ساتھ پنجاب اور بلوچستان کو 3، 3 صوبوں میں تقسیم کرنے کی بھی تجویز دی۔

ڈپٹی چیئرمین سینیٹ نے کہا کہ بلوچستان کو دیکھیں، اس کا رقبہ کتنا وسیع ہے، بلوچستان میں تین صوبے اور پنجاب میں تین الگ صوبے بننے چاہئیں۔

انہوں نے کراچی کو مکمل طور پر الگ صوبہ بنانے پر زور دیتے ہوئے مزید کہا کہ فاٹا کو الگ صوبہ بنایا جائے اور ہزارہ کے لیے بھی ایک صوبہ بنایا جانا چاہیے۔

مرزا محمد آفریدی نے کہا کہ پاکستان میں جتنے صوبے ہوں گے اتنا ہی ملک بہتر ہوگا۔

ماضی میں متحدہ قومی موومنٹ-پاکستان کی جانب سے انہی مطالبات کے جواب میں پیپلز پارٹی کے اعتراضات کے حوالے سے ڈپٹی چیئرمین سینیٹ نے کہا کہ 18ویں ترمیم منظور ہو چکی ہے اور نیشنل فنانس کمیشن (این ایف سی) ایوارڈ بھی طے پاچکا ہے، درست؟ جب نئے صوبے بنیں گے تو این ایف سی ایوارڈ بھی اسی طرح تقسیم کیا جائے گا۔

انہوں نے وضاحت کرتے ہوئے کہا کہ اگر مذکورہ صوبے بن جاتے ہیں تو وہ این ایف سی ایوارڈ کے تحت بجٹ میں سے اپنا حصہ وصول کرتے رہیں گے۔

انٹرویو کے دوران ایک موقع پر جب ان سے پوچھا گیا کہ کیا فاٹا کو خیبرپختونخوا میں ضم کرنے کا فیصلہ عجلت میں کیا گیا تو مرزا محمد آفریدی نے جواب دیا کہ ہمیں وعدوں پر عمل کرنا چاہیے تھا۔

ڈپٹی چیئرمین سینیٹ نے اس بات پر افسوس کا اظہار کیا کہ حکومت نے سابقہ فاٹا سے کیے گئے اپنے وعدے پورے نہیں کیے اور وہاں کے عوام کو آج بھی بہت سی مشکلات کا سامنا ہے۔

انہوں نے کہا کہ میں نے فنڈز کا معاملہ وزیر خزانہ اسحٰق ڈار کے ساتھ بھی اٹھایا اور زور دیا کہ نئے صوبے بننے سے ملک کو درپیش مسائل حل ہوجائیں گے۔

مرزا محمد آفریدی کا نئے صوبوں کی تشکیل کا بیان ایک ایسے موقع پر سامنے آیا ہے جب مارچ میں مسلم لیگ (ن) کے سینیٹرز نے جنوبی پنجاب اور ہزارہ صوبے کے قیام کے لیے دو بل پیش کیے تھے۔

جنوبی پنجاب صوبہ بنانے کا بل مسلم لیگ (ن) کے سینیٹر رانا محمود الحسن نے پرائیویٹ ممبر کے طور پر پیش کیا تھا جبکہ ہزارہ صوبہ کے قیام کا بل مسلم لیگ (ن) کے سینیٹر پیر صابر شاہ نے پیش کیا تھا۔

سینیٹ کی قائمہ کمیٹی برائے قانون و انصاف نے دو متنازع آئینی ترمیمی بلوں کی منظوری دے دی تھی۔

اس کے علاوہ سابق وزیر اعظم اور پیپلز پارٹی کے وائس چیئرمین یوسف رضا گیلانی نے گزشتہ ماہ کہا تھا کہ سرائیکی صوبے کے قیام کا بل جلد اسمبلی میں پیش کرنے کے لیے ملک کی تمام سیاسی جماعتوں سے مشاورت کی جائے گی۔

مشہور خبریں۔

بحیرہ احمر میں امریکہ، متحدہ عرب امارات، بحرین اور صیہونی حکومت کی مشترکہ بحری مشقیں

?️ 13 نومبر 2021سچ خبریں: الجزیرہ کے مطابق، متحدہ عرب امارات، بحرین اور امریکہ نے

حکومتی اتحادی جماعتوں کا اجلاس، تین رکنی بینچ پر عدم اعتماد کا اظہار

?️ 2 اپریل 2023اسلام آباد: (سچ خبریں) وزیر اعظم شہباز شریف کی زیر صدارت وفاقی

امریکہ اور افغانستان؛ فوجی انخلا یا افراتفری پیدا کرنا

?️ 14 اگست 2021سچ خبریں:اس میں کوئی شک نہیں کہ مشرق وسطیٰ میں امریکی فوجیوں

انصاراللہ کا قابضین کے خلاف آپریشن، مزید شدت کے ساتھ جاری 

?️ 20 جون 2024سچ خبریں: یمنی مسلح فوج غزہ کی حمایت میں اپنی کارروائیوں کے چوتھے

یمنی بحران سیاسی طور پرحل ہونا چاہیے: خلیج تعاون کونسل

?️ 29 مارچ 2022سچ خبریں:خلیج تعاون کونسل کے سکریٹری جنرل نے دعویٰ کیا کہ یہ

قیدیوں کے تبادلے کے معاہدے کی ناکامی کی وجوہات 

?️ 4 مارچ 2025سچ خبریں: صیہونی ٹی وی چینل 12 نیوز سائٹ کے تجزیہ کار

پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں اضافے پر معاون خصوصی کی وضاحت

?️ 5 نومبر 2021اسلام آباد(سچ خبریں) پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں اضافے پر وزیراعظم عمران

ایران کے خلاف سلامتی کونسل کی سیاسی کاری کشیدگی کا باعث بنتی ہے: روس

?️ 10 جون 2026سچ خبریں: اقوام متحدہ میں روس کے مستقل مندوب واسیلی نیبینزیا نے زور

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے