ڈاکٹر عافیہ صدیقی کو رہا نہ کرکے امریکا ہمیں ہماری اوقات دکھا رہا ہے، اسلام آباد ہائیکورٹ

?️

اسلام آباد: (سچ خبریں) اسلام آباد ہائیکورٹ کے جسٹس سردار اعجاز اسحٰق نے کہا ہے کہ ڈاکٹر عافیہ صدیقی کو رہا نہ کرکے امریکا ہمیں ہماری اوقات دکھا رہا ہے۔

ڈان نیوز کے مطابق ڈاکٹر عافیہ صدیقی کی امریکی جیل سے رہائی اور وطن واپسی کی درخواست پر اسلام آباد ہائیکورٹ کے جسٹس اعجاز اسحقٰ خان نے سماعت کی۔

دوران سماعت ڈاکٹر فوزیہ صدیقی اور ان کے امریکی وکیل کلائیو اسمتھ ویڈیو لنک کے ذریعے عدالت میں پیش ہوئے، وکیل درخواست گزار عمران شفیق اور ایڈیشنل اٹارنی جنرل بھی عدالت میں پیش ہوئے۔

اسلام آباد ہائیکورٹ کو آگاہ کیا گیا کہ سابق امریکی صدر جو بائیڈن نے ڈاکٹر عافیہ صدیقی کی رحم کی اپیل مسترد کر دی، امریکا نے پاکستان کے ساتھ قیدیوں کی رہائی کے لیے معاہدہ کرنے سے انکار کر دیا۔

جسٹس سردار اعجاز اسحقٰ خان نے ریمارکس دیئے کہ ڈاکٹر عافیہ کی صدیقی کے رہائی کے معاملے پر امریکا ہمیں ہماری اوقات دکھا رہا ہے، سابق امریکی صدر نے اپنے بیٹے کی سزا تو معاف کر دی لیکن ہمارے قیدی کو رہا نہیں کیا۔

دوران سماعت وزیراعظم اور وزیر خارجہ کے بیرون ممالک دوروں کی تفصیلات پر مشتمل رپورٹ بھی عدالت میں پیش کی گئی، علاوہ ازیں امریکا میں پاکستانی سفیر کی ڈاکٹر عافیہ صدیقی سے متعلق ملاقاتوں میں شرکت نہ کرنے پر بھی جواب جمع کرایا گیا۔

وزارتِ خارجہ نے عدالتی سوالات کے جوابات پر مشتمل رپورٹ عدالت میں جمع کرائی۔

بعد ازاں عدالت نے کیس کی سماعت 2 ہفتے کے لیے ملتوی کردی۔

خیال رہے کہ گزشتہ ہفتے (18 جنوری) کو امریکا میں 86 سال قید کی سزا کاٹنے والی پاکستانی نیورو سائنٹسٹ ڈاکٹر عافیہ صدیقی نے سابق امریکی صدر جوبائیڈن سے سزا معافی کی اپیل کی تھی۔

عافیہ صدیقی کو 2010 میں ایک امریکی وفاقی عدالت نے 86 سال قید کی سزا سنائی تھی جب وہ افغانستان میں امریکی حراست میں تھیں، انہیں فوجیوں پر فائرنگ کرنے کے علاوہ 6 دیگر الزامات کے تحت مجرم قرار دیا گیا تھا۔

ان کے وکلا نے 12 سال کی سزا کی درخواست کی تھی جبکہ استغاثہ نے عمر قید کی سزا کے لیے دلائل دیے تھے، استغاثہ نے الزام لگایا تھا کہ عافیہ صدیقی نے امریکی فوجی کی رائفل سے فوجیوں پر فائرنگ کی تھی۔

عافیہ صدیقی کے اہل خانہ اور حامیوں کا دعویٰ ہے کہ انہیں پاکستان میں گرفتار کر کے انٹیلی جنس ایجنسیوں کے حوالے کیا گیا تھا جنہوں نے انہیں امریکی تحویل میں منتقل کر دیا تھا تاہم امریکی اور پاکستانی حکام دونوں کا دعویٰ ہے کہ انہیں افغانستان میں گرفتار کیا گیا تھا۔

عافیہ صدیقی نے میساچیوسس انسٹی ٹیوٹ آف ٹیکنالوجی اور برینڈیز یونیورسٹی سے حیاتیات اور نیورو سائنس میں ڈگریاں حاصل کر رکھی ہیں جب کہ وہ 1991 سے جون 2002 کے درمیان امریکا میں مقیم بھی رہ چکی ہیں، انہوں نے خود پر عائد الزامات کی تردید کرتے ہوئے ہتھیار پکڑنے یا اسلحے کے استعمال سے واقفیت رکھنے سے انکار کیا تھا۔

افغانستان میں ملنے سے قبل وہ مبینہ طور پر 5 سال تک لاپتا رہی تھیں۔

مشہور خبریں۔

صرف ایک گھنٹہ لگا

?️ 31 اکتوبر 2023سچ خبریں:مزاحمت نے ایک بار پھر اپنی منطق دکھانے کے لیے امریکی

ٹرمپ نے 2024 کے امریکی انتخابات میں نکی ہیلی کی امیدواری کا خیرمقدم کیا

?️ 16 فروری 2023سچ خبریں:ہیلی کو اپنے سابقہ وعدوں پر قائم نہیں رہنا چاہیے جو

ملک بھر میں کورونا سے ہلاکتوں کی تعداد میں اضافہ

?️ 30 اکتوبر 2021اسلام آباد(سچ خبریں) کورونا سے متعلق سرکاری ویب سائٹ کے مطابق پچھلے

کاراکاس میں وینزویلا اور امریکہ کے درمیان اعلیٰ سطحی مذاکرات

?️ 12 فروری 2026 سچ خبریں:وینزویلا کی قائم مقام صدر ڈیلسي روڈریگزی اور امریکہ کے

درگاہ ابراہیمی میں فلسطینیوں کے قتل عام کی 29 برسی

?️ 25 فروری 2023سچ خبریں:25 فروری 1994 جمعہ کی صبح، 15 رمضان المبارک تھی جب

صحافت کو دبانے کی سعودی حکومت کے ہتکھنڈے

?️ 10 مئی 2022سچ خبریں:انسانی حقوق کی ایک یورپی تنظیم کا کہنا ہے کہ سعودی

انصاراللہ کا قابضین کے خلاف آپریشن، مزید شدت کے ساتھ جاری 

?️ 20 جون 2024سچ خبریں: یمنی مسلح فوج غزہ کی حمایت میں اپنی کارروائیوں کے چوتھے

پاکستان میں سعودی سرمایہ کاری اور تجارتی و اسٹریٹجک شراکت داری کے نئےدور کا آغاز ہورہا ہے، وزیراعظم

?️ 18 اپریل 2024اسلام آباد: (سچ خبریں) وزیراعظم شہباز شریف نے کہا ہے کہ پاکستان

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے