?️
اسلام آباد(سچ خبریں) سپریم کورٹ میں چیف جسٹس گلزار احمد کی سربراہی میں 5 رکنی بینچ نے سینیٹ انتخابات اوپن بیلٹ سے متعلق سماعت کی سماعت میں چیف جسٹس نے ریمارکس دیے ہیں کہ قانون میں جو بھی درج ہے اس پر نیک نیتی سے عمل کرنا ہوتا ہے قانون مکمل طور پر معصوم اور اندھا ہوتا ہے، (تاہم) قانون پر بدنیتی سے عمل ہو تو مسائل جنم لیتے ہیں۔
چیف جسٹس گلزار احمد کی سربراہی میں 5 رکنی بینچ نے سینیٹ انتخابات اوپن بیلٹ سے کرانے کے لیے دائر کردہ صدارتی ریفرنس پر سماعت کی، اس دوران اٹارنی جنرل برائے پاکستان خالد جاوید خان، صوبائی نمائندے و معاملے میں فریق دیگر افراد پیش ہوئے۔
سماعت کے دوران چیف جسٹس نے اٹارنی جنرل کو مخاطب کرتے ہوئے کہا کہ ہمارا اور آئرلینڈ کا آئین ایک جیسا ہے، آئرلینڈ میں بھی الیکشن خفیہ بیلٹ سے ہوتا ہے، اس نقطہ پر آپ کو سننا چاہیں گے۔
ساتھ ہی چیف جسٹ نے کہا کہ آئرش سپریم کورٹ کا بھی اس معاملہ پر فیصلہ موجود ہے، جس پر اٹارنی جنرل نے کہا کہ آئرلینڈ کی پارلیمنٹ کے دو ایوان ہیں، آئرلینڈ میان لوئر ہاوس کے انتحابات پاپولر ووٹ سے ہوتے ہیں، آئرلینڈ میں پاپولر ووٹ خفیہ ہوتے ہیں، شہری ووٹرز کا حق کبھی اوپن نہیں ہوتا۔
انہوں نے کہا کہ آئرش سپریم کورٹ کے فیصلے میں شہری ووٹ کی بات کی گئی ہے، پاکستان میں بھی شہری کا ووٹ خفیہ رکھا جاتا ہے، ساتھ ہی انہوں نے کہا کہ اپرہاؤس (ایوان بالا) کا الیکشن ڈائریکٹ نہیں ہوتا۔
اس موقع پر عدالت میں موجود پیپلزپارٹی کے وکیل رضا ربانی نے کہا کہ رولز صدارتی انتخابات کے لیے کمشنر کو ہدایات جاری کرنے کا اختیار دیتے ہیں، شیڈول 2 کے باوجود صدارتی انتخابات کے لیے رولز بنائیں گے، یہ بتانے کا مقصد یہ ہے کہ سینیٹ کے انتخابات بھی آئین کے تحت ہوتے ہیں۔
ان کی بات پر جسٹس اعجازالاحسن نے کہا کہ یہ رولز آئین کے تحت بنے ہیں، رولز صدارتی الیکشن کا اختیار دیتے ہیں، الیکشن ایکٹ کے لیے بنے رولز کی حیثیت آئینی نہیں ہے۔
سماعت کے دوران رضا ربانی نے کہا کہ سینیٹ کبھی تحلیل نہیں ہوتی بلکہ ارکان ریٹائرڈ ہوجاتے ہیں، اس پر چیف جسٹس نے کہا کہ قانون میں جو بھی درج ہے اس پر نیک نیتی سے عمل کرنا ہوتا ہے، قانون مکمل طور پر معصوم اور اندھا ہوتا ہے، (تاہم) قانون پر بدنیتی سے عمل ہو تو مسائل جنم لیتے ہیں۔اس دوران بینچ کے رکن جسٹس اعجاز الاحسن نے ریمارکس دیے کہ سینیٹ الیکشن کا مکمل طریقہ کار آئین میں نہیں قانون میں ہے۔
عدالت عظمیٰ میں سماعت کےٍ دوران متناسب نمائندگی پر دلائل دیتے ہوئے رضا ربانی نے کہا کہ متناسب نمائندگی کا مطلب یہ نہیں کہ اسمبلی کی اکثریت سینیٹ میں بھی ملے، متناسب نمائندگی نظام کے تحت نشستوں کی تعداد میں کمی بیشی ہو سکتی ہے، جہاں ووٹوں کی خریدو فروخت ہوگی قانون اپنا راستہ بنائے گا۔
ساتھ ہی انہوں نے کہا کہ شواہد کے بغیرنشستوں کی تعداد میں فرق کو ووٹ فروخت کرنا نہیں کہہ سکتے، بیلٹ پیپرز کی سیکریسی (رازداری) متاثر نہ ہو تو الیکشن کمیشن ووٹوں کا جائزہ لے سکتا ہے۔
اس پر جسٹس اعجاز الاحسن نے کہا کہ ایسا طریقہ بھی بتا دیں کہ ووٹ دیکھا بھی جائے اور سیکریریسی متاثر نہ ہو، جس پر رضا ربانی نے کہا کہ رشوت لینا یا لینے پر آمادگی ظاہر کرنا ووٹ دینے کے پہلے کے مراحل ہیں، ووٹ کے لیے پیسے لینے والا ووٹنگ سے پہلے کرپشن کر چکا ہوتا ہے، کرپشن ووٹنگ سے پہلے ہوتی ہے تو اسکے لیے ووٹ دیکھنے کی ضرورت نہیں۔
ان کی بات پر جسٹس اعجاز الاحسن نے کہا کہ اگر معاہدہ ہو کہ آدھی رقم ووٹ ڈالنے کے بعد ملے گی تو پھر کیا ہوگا، ووٹ ڈالنا ثابت ہوگا تو ہی معلوم ہوگا رقم الیکشن کے لیے دی گئی۔سماعت کے دوران چیف جسٹس نے ریمارکس دیے کہ الیکشن اتحاد کی گنجائش سیاسی جماعتوں میں ہمشہ رہتی ہے۔
انہوں نے کہا کہ عوام کا حق ہے کہ سینیٹ الیکشن شفاف اور کرپشن سے پاک ہوں، کسی کو سینیٹ الیکشن میں شفافیت پر اعتراض نہیں،اختلاف رائے صرف سینیٹ الیکشن کو شفاف بنانے کے طریقہ کار پر ہے۔
دوران سماعت رضا ربانی نے کہا کہ کوئی پیسے لیتا پکڑا گیا تو کوئی شواہد بھی ہوں گے، جس پر جسٹس اعجاز الاحسن نے کہا کہ جہاں ویڈیو آچکی ہے وہاں کوئی کارروائی ہوگی۔
ساتھ ہی چیف جسٹس نے ریمارکس دیے کہ جو لوگ کونے میں کھڑے ہو کر بات کریں تو گواہ کہاں سے آئے گا؟ ایسا کوئی نظام نہیں کہ معلوم ہو سکے کس کو کس نے ووٹ دیا؟ جس پر رضا ربانی نے کہا کہ آئین ووٹ ڈالنے والے کی شناخت ظاہر کرنے کی اجازت نہیں دیتا، اس پر چیف جسٹس نے ریمارکس دیے کہ رشوت ووٹ سے جڑی ہے تو اس کا جائزہ کیسے نہیں لیا جاسکتا۔
جس پر رضا ربانی نے کہا کہ رشوت کسی کو ووٹ نہ ڈالنے کے لیے بھی دی جاسکتی ہے، جو پیسے ہی اس بات کے لے کہ ووٹ نہیں ڈالوں گا تو کیسے پکڑیں گے؟ صرف ووٹ ڈالنا نہیں رقم لینا بھی جرم ہے۔
اس پر جسٹس اعجاز الاحسن نے کہا کہ ووٹ ہی نہ ڈالا جائے تو شناخت کی ضرورت نہیں، کوئی ووٹ نہ ڈالے تو پیسہ لینا ثابت کرنا ہوگا۔
اس کے علاوہ عدالت نے کہا کہ مسلم لیگ (ن) کے بیرسٹر ظفر اللہ کو بھی آدھا گھنٹے کا وقت ملے گا، ساتھ ہی یہ بھی کہا کہ جے یو آئی (ف) اور جماعت اسلامی نے رضا ربانی کے دلائل اپنا لیے ہیں لہٰذا دونوں مذہبی سیاسی جماعتوں کے وکیل الگ دلائل نہیں دیں گے۔
علاوہ ازیں عدالت نے کہا کہ تمام وکلا کے دلائل مکمل ہونے پر جواب الجواب دیں گے، ساتھ ہی چیف جسٹس نے کہا کہ وقت کو مدنظر رکھتے ہوئے ریفرنس پر کارروائی مکمل کرنی ہے۔ جس کے بعد کیس کی مزید سماعت ملتوی کردی گئی۔


مشہور خبریں۔
بدامنی کا سلسلہ جاری اور یوکرین میں انسداد بدعنوانی کے اداروں کی آزادی کی بحالی
?️ 2 اگست 2025سچ خبریں: یوکرین کی پارلیمنٹ نے عوامی مظاہروں اور مغربی ممالک کے
اگست
ایران کو غنیسازی سے روکنے پر راضی کرنا ناممکن ہے: وندی شرمن
?️ 21 مئی 2025 سچ خبریں: امریکہ کے سابق پولیٹیکل ڈپٹی سیکرٹری اور 2015 کے
مئی
سانحہ گل پلازہ پوری قوم کیلئے باعث رنج، قیمتی جانوں کا ضیاع افسوسناک ہے۔ ایاز صادق
?️ 19 جنوری 2026اسلام آباد (سچ خبریں) سپیکر قومی اسمبلی سردار ایاز صادق نے گل
جنوری
دھمکیوں سے کچھ نہیں ہونے والا:شمالی کوریا کا امریکہ کو انتباہ
?️ 15 فروری 2025 سچ خبریں:شمالی کوریا کے دفاعی وزارت کے ایک عہدے دار نے
فروری
نواز شریف کی میڈیکل رپورٹ پر وزیر داخلہ کا بیان سامنے آگیا
?️ 2 فروری 2022اسلام آباد(سچ خبریں) اسلام آباد میں نیوز کانفرنس کرتے ہوئے انہوں نے
فروری
لاپتہ افراد کے متعلق اسلام آباد ہائیکورٹ کا حکومت کو نوٹس
?️ 21 دسمبر 2021اسلام آباد (سچ خبریں) تفصیلات کے مطابق اسلام آباد ہائیکورٹ کے جسٹس
دسمبر
خواتین کی تعلیم میں راولپنڈی سرفہرست ہے: شیخ رشید
?️ 8 اکتوبر 2021راولپنڈی (سچ خبریں) وفاقی وزیر داخلہ شیخ رشیدنے راولپنڈی میں تعلیم کے
اکتوبر
فیض آباددھرناکیس: کمیشن نے سابق سربراہ آئی ایس آئی فیض حمید کو طلب کرلیا
?️ 29 دسمبر 2023اسلام آباد: (سچ خبریں) فیض آباد دھرنا کیس میں تحقیقاتی کمیشن نے
دسمبر