چیف جسٹس نے نگران حکومت پر سوالات اٹھادیے

?️

اسلام آباد: (سچ خبریں) چیف جسٹس قاضی فائز عیسٰی نے ملک بھر میں ایک ساتھ انتخابات کرانےکے کیس کی سماعت کے دوران نگران  حکومت پر  سوالات اٹھادیے۔چیف جسٹس آف پاکستان کی سربراہی میں 3 رکنی بینچ نے درخواست پرسماعت کی۔

وکیل شاہ خاور کا کہنا تھا کہ اب اس درخواست کی ضرورت نہیں رہی، کل عدالت پہلے ہی یہ معاملہ اٹھا چکی ہے، یہ اس وقت ہم نے ایک کوشش کی تھی، اس وقت عدالت نے 14 مئی کو  انتخابات کا  آرڈر  دیا  تھا، اس وقت سپریم کورٹ نے 14 مئی کو پنجاب میں انتخابات کرانےکا حکم جاری کیا تھا، پھر ہم نے ملک میں ایک ساتھ انتخابات کرانےکی درخواست دائر کی۔

چیف جسٹس نے کہا کہ یہی تو سارا جھگڑا ہے،کیا اس وقت کوئی آرڈر آف دی کورٹ جاری ہوا تھا؟ وکیل شاہ خاور کا کہنا تھا کہ چار  آرڈر آف دی کورٹ جاری ہوئے تھے۔

چیف جسٹس کا کہنا تھا کہ کسی مقدمے پر مختلف رائے ہو تو ایک آرڈر آف دی کورٹ جاری ہوتا ہے۔ وکیل شاہ خاور کا کہنا تھا کہ  اس طرح کا آرڈر آف دی کورٹ نہیں ہوا تھا۔

جسٹس اطہرمن اللہ کا کہنا تھا کہ  آپ کو تو 14 مئی انتخابات کے سپریم کورٹ آرڈر کی خلاف ورزی کی درخواست دائر کرنا چاہیے تھی، آپ نے یہ درخواست دائرکرکے آئین کی خلاف ورزی کی کوشش نہیں کی؟

چیف جسٹس کا کہنا تھا کہ کس شخص نے سپریم کورٹ کے 14 مئی کو انتخابات کرانے کے حکم کی خلاف ورزی کی؟ الیکشن کا فیصلہ دینے  والے بینچ کا آرڈر آف دی کورٹ کہاں ہے؟ آرڈر وہ ہوتا ہے جس پر سب ججز کے دستخط ہوں۔

فاروق ایچ نائیک کا کہنا تھا کہ  14 مئی کے الیکشن کا فیصلہ دینے والا  آرڈرآف دی کورٹ موجود ہی نہیں، 14 مئی کوانتخابات کا حکم دے کر 90 دن کی آئینی مدت کی خود عدالت نے بھی خلاف ورزی کی، عدالت نے 14 مئی کا آرڈر دیا وہ 90 دن سے باہر تھا۔

چیف جسٹس پاکستان کا کہنا تھا کہ  یہی تو سمجھ نہیں آرہی کہ انتخابات کرانے کا کیا آرڈر تھا؟ یہ وہی کیس ہے نا جس میں بہت سے ججز نے اپنا اپنا آرڈر لکھا۔

 دوران سماعت  چیف جسٹس قاضی فائز عیسٰی نے نگران حکومت پر سوالات اٹھادیے۔

انہوں نے فاروق ایچ نائیک سے سوال کیا کہ  یہ بتائیں نگران حکومت کس کی ایجاد تھی؟فاروق ایچ نائیک نےکہا کہ 1985 میں ضیاالحق آئینی تجدید کے آرڈر کے ذریعے نگران حکومت کا تصور لائے۔

چیف جسٹس کا کہنا تھا کہ ضیاالحق نے تو اپنے ہی آئینی تجدید کے حکم کی جونیجو صاحب کو ہٹا کر خلاف ورزی کی، 1990 اور 2002 کے انتخابات نگران حکومتوں کے بغیر بھی ہوئے، نگران حکومتوں کا کام کیا ہوتا ہے؟ شفاف الیکشن کاکام تو الیکشن کمیشن کا ہے، صاف شفاف انتخابات الیکشن کمیشن کوکراناہیں تو نگران حکومت کیوں بنائی جاتی ہے؟ الیکشن کمیشن کا پھر کیا کام ہے؟ چلیں خیر  یہ دیکھنا پارلیمنٹ کا کام ہے، ہم تو تشریح  ہی کرسکتےہیں۔

چیف جسٹس پاکستان کا کہنا تھا کہ نگران حکومت کا مقصد مجھے سمجھ نہیں آتا لیکن  اس سسٹم کے تحت ہم چل رہے ہیں، سوال یہ اٹھتا ہے کیا انتخابات سے بالکل پہلے صوبائی اسمبلیاں توڑنے پر قدغن ہے؟ آئین کے تحت تو وزیراعلیٰ کا اختیار ہےکہ اسمبلی پہلے دن تحلیل کرے یا آخری دن، پارلیمنٹ کو دیکھنا چاہیے کہ وقت سے پہلے اسمبلی توڑنے سے ملک کو مالی مسائل درپیش ہوتے ہیں۔

عدالت نے ملک بھر میں انتخابات ایک ساتھ کرانے کی درخواست واپس لینے کی بنیاد پر خارج کر دی۔

مشہور خبریں۔

بحرین میں امریکی سفارت خانے کا ہم جنس پرستی کو فروغ؛عوام غصہ

?️ 5 جون 2023سچ خبریں:بحرین کے عوام نے منامہ میں امریکی سفارت خانے کے ورچوئل

قطر کے قومی سلامتی مشیر کا کابل دورہ

?️ 10 جون 2022سچ خبریں:  قطر کے قومی سلامتی کے مشیر محمد بن احمد المسند

صیہونی حکومت کے وجود کے خلاف تین حقیقی خطرات؛ ایہود باراک کی زبانی

?️ 4 فروری 2022سچ خبریں:سابق اسرائیلی وزیر اعظم نے ایران کے جوہری پروگرام سمیت تین

پی ٹی آئی کی بائیڈن انتظامیہ کی حمایت حاصل کرنے کی سرتوڑ کوششیں

?️ 13 اپریل 2023اسلام آباد:(سچ خبریں) سابق وزیراعظم عمران خان نے ایک مہینے سے بھی

فواد چوہدری کا چارج سنبھالتے ہی بڑا ایکشن

?️ 2 اپریل 2022اسلام آباد (سچ خبریں) فواد چوہدری نے وزیر قانون کا ایڈیشنل چارج سنبھال لیا۔وزیراعظم عمران خان کی

صیہونی حکام کا متحدہ عرب امارات کے ساتھ اظہار ہمدردی

?️ 20 جنوری 2022سچ خبریں:یمنی فوج کی جانب سے متحدہ عرب امارات کے دارالحکومت ابوظہبی

سائبر حملے کے بعد ہزاروں صیہونیوں کی ذاتی معلومات کا انکشاف

?️ 22 ستمبر 2023سچ خبریں:صیہونی حکومت کی سائبر تنظیم نے ایران پر سائبر حملہ کرنے

’پسوڑی‘ پسند نہیں، والدہ علی سیٹھی

?️ 23 مارچ 2025کراچی: (سچ خبریں) معروف گلوکار علی سیٹھی کی والدہ لکھاری و ٹی

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے