چیف جسٹس صاحب! یہ کیسا انصاف ہے کہ آج عدلیہ کا وقار داؤ پر لگا ہوا ہے

?️

اسلام آباد: (سچ خبریں) مرکزی رہنماء پی ٹی آئی اسد قیصر نے کہا ہے کہ چیف جسٹس صاحب! یہ کیسا انصاف ہے کہ آج عدلیہ کا وقار داؤ پر لگا ہوا ہے، عوام کا عدلیہ پر اعتماد تیزی سے متزلزل ہو رہا ہے، آپ کی آئینی اور اخلاقی ذمہ داری بنتی ہے کہ ماتحت عدالتوں کے غیر منصفانہ فیصلوں پر عدالتی کمیشن تشکیل دیں۔

اسد قیصر نے ایکس پر اپنے ردعمل میں کہا کہ میں چیف جسٹس سپریم کورٹ سے پوچھنا چاہتا ہوں کیا فیصل آباد، لاہور اور سرگودھا کی انسدادِ دہشت گردی عدالتوں سے آنے والے حالیہ فیصلے انصاف پر مبنی ہیں؟ 9 مئی کے مقدمات میں جتنے بھی سرکاری گواہان پیش کیے گئے، ان میں سے اکثر اپنے بیانات سے منحرف ہو چکے تھے، اور جنہوں نے بیانات دیے، وہ ان کا دفاع کرنے میں ناکام رہے۔

ایسے میں ان عدالتی فیصلوں کو انصاف کا پیمانہ کیسے قرار دیا جا سکتا ہے۔ چیف جسٹس صاحب! یہ کیسا انصاف ہے، آج عدلیہ کا وقار داؤ پر لگا ہوا ہے۔ عوام کا عدلیہ پر اعتماد تیزی سے متزلزل ہو رہا ہے۔ ایسے حالات میں یہ آپ کی آئینی اور اخلاقی ذمہ داری بنتی ہے کہ ان ماتحت عدالتوں کے غیر منصفانہ فیصلوں پر عدالتی کمیشن تشکیل دیں، ان مقدمات کا ازسرِ نو جائزہ لیں، اور انصاف کے تقاضوں کے مطابق فیصلے یقینی بنائیں۔

ہم پرامید ہیں کہ آپ اپنی ذمہ داریاں پوری کریں گے۔ ہم سیاسی کارکن ہیں۔ ہم نے مشرف کا مارشل لا بھی دیکھا، عدلیہ بحالی تحریک میں جیلیں بھی کاٹی۔ وقت گزر جاتا ہے، مگر تاریخ لکھی جاتی ہے جس کو ہمیشہ یاد رکھا جاتا ہے ۔ اس سے قبل اسد قیصر نے ایکس پر اپنے ردعمل میں کہا کہ 9 مئی کے جعلی فالس فلیگ آپریشن کی آڑ میں آج فیصل آباد کی انسدادِ دہشت گردی عدالت نے بھی ایک ایسا فیصلہ صادر کیا جو انہیں اوپر سے موصول ہوا ہے۔

پاکستان کو عملی طور پر ایک بنانا ریپبلک میں تبدیل کر دیا گیا ہے جہاں کروڑوں عوام کے ووٹوں کی کوئی حیثیت نہیں، جبکہ 26ویں آئینی ترمیم کے تحت مستفید ہونے والوں کے لیے فیصلے تحریر کر کے بھیجے جاتے ہیں اور ان کی بات سنی جاتی ہے۔ یہ کیسی جمہوریت ہے کہ حکومت بھی اپنی مرضی کی، جس کے وزیر اعظم کے پاس محض 17 نشستیں ہیں، اور حزبِ اختلاف بھی اپنی مرضی کی، جس کے پاس 20 بھی حقیقی نشستیں نہیں۔

ان شاء ﷲ، ظلم و جبر کے ان ہتھکنڈوں کے باوجود ہم چیئرمین عمران خان کی قیادت میں اپنی جدوجہد جاری رکھیں گے۔ ایسے فیصلے ہمارے حوصلے پست نہیں کر سکتے بلکہ ہمیں مزید مضبوط بناتے ہیں۔ دوسری جانب پاکستان تحریک انصاف نے 5 اگست کومینارپاکستان پرجلسے کی اجازت کیلئے لاہور ہائیکورٹ سے رجوع کرلیا۔ تحریک انصاف کے رکن پنجاب اسمبلی امتیازمحمود شیخ نے لاہور ہائیکورٹ میں درخواست دائرکی جس میں موقف اختیارکیا گیا کہ ڈپٹی کمشنرلاہورکو جلسے کی اجازت کیلئے درخواست دی ہے، ابھی تک جلسے کیلئے این او سی جاری نہیں کیا گیا۔

درخواست گزار نے کہا کہ جلسہ کرنا آئینی حق ہے،عدالت سے استدعا ہے کہ جلسے کی اجازت کے لئے این اوسی کے اجراء کے احکامات جاری کئے جائیں۔ مزید برآں وزیر اطلاعات و ثقافت پنجاب عظمیٰ بخاری نے گزشتہ روز 9 مئی کے عدالتی فیصلے کو ملک و قوم کے لیے خوش آئند قرار دیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ یہ فیصلہ ریاستی اداروں کے خلاف منفی سوچ رکھنے والوں کے لیے واضح پیغام ہے کہ ایسی حرکات اب برداشت نہیں کی جائیں گی۔ عظمیٰ بخاری نے کہا کہ لوگوں کو زبردستی اداروں کے خلاف اکسانا اور حملے کروانا ناقابلِ برداشت ہے۔ کسی سیاسی جماعت کے نام پر ایسی دہشت گردی کو ہمیشہ کے لیے بند ہونا چاہیے۔

مشہور خبریں۔

بنوں: پولیس چوکی پر فتنۃ الخوارج کی حملے کی بزدلانہ کوشش ناکام، 3 دہشتگرد ہلاک

?️ 18 اکتوبر 2025بنوں: (سچ خبریں) خیبرپختونخوا کے ضلع بنوں میں تھانہ ہوید کی حدود

تم مجھے چھیڑو گے تو میں بھی تمہیں چھیڑوں گا

?️ 5 اگست 2023سچ خبریں:ڈونلڈ ٹرمپ نے 2020 کے صدارتی انتخابات کے نتائج کو کالعدم

ای وی ایم کی مخالفت نہیں کی، جلدبازی میں پورا الیکشن متنازع نہیں بناسکتے، چیف الیکشن کمشنر

?️ 7 دسمبر 2022اسلام آباد:(سچ خبریں) چیف الیکشن کمشنر سکندر سلطان راجا نے کہا ہے

632000 یمنی بچوں کی زندگی خطرے میں

?️ 10 ستمبر 2022سچ خبریں:یمن کی انسانی حقوق کی ایک تنظیم کا کہنا ہے کہ

عدالت نے عمران خان نا اہلی کیس حتمی دلائل کیلئے 13 دسمبر کو مقرر کر دیا

?️ 8 دسمبر 2022اسلام آباد: (سچ خبریں) توشہ خانہ ریفرنس میں الیکشن کمیشن کے نا

ملکی معیشت ایک بار پھر خطرے میں

?️ 26 دسمبر 2021گوادر (سچ خبریں) پاکستانی معیشت کیلئے انتہائی مایوس کن خبر، گوادر میں

یمن کبھی ہتھیار نہیں ڈالے گا:عطوان

?️ 12 جنوری 2025سچ خبریں: علاقائی تزویراتی امور کے تجزیہ کار عطوان نے یمنیوں کو

اردنی بادشاہ کا غذائی تحفظ پر صہیونیوں کے ساتھ تعاون پر زور

?️ 16 اپریل 2022سچ خبریں:صیہونی حکومت کے ساتھ اردن کی پالیسیوں کی ہم آہنگی کو

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے