?️
کراچی: (سچ خبریں) پاکستان پیپلزپارٹی کے رہنما اور سابق وفاقی وزیر خورشید شاہ نے فوری انتخابات کرانے کا مطالبہ کرتے ہوئے کہا ہے کہ 16 مہینے کی پاکستان ڈیموکریٹک موومنٹ (پی ڈی ایم) کی حکومت میں گئے ہم سے غلطی ہوگئی معافی دے دیں لیکن اب انتخابات کرادیں۔
ڈان نیوز کے پروگرام ’دوسرا رخ‘ میں گفتگو کرتے ہوئے خورشید شاہ نے کہا کہ نواز شریف کی تقریر اچھی نہیں تھی، کوئی تنقید نہیں تھی، کسی کو برا بھلا نہیں کہا، اللہ پر چھوڑ دیا اور انتقام کی بات بھی نہیں کی، اچھی بات لیکن الیکشن کمیشن سے کہتے کہ انتخابات کی تاریخ کا اعلان کرو۔
پاکستان ڈیموکریٹک موومنٹ (پی ڈی ایم) کی حکومت فکسڈ میچ ہونے سے متعلق سوال پر انہوں نے کہا کہ فکسڈ میچ تو یہ تھا کہ ان کو ہٹایا جائے لیکن ہم نے کہا کہ آئینی راستے کے علاوہ ہم کوئی اور راستہ نہیں اپنائیں گے۔
خورشید شاہ نے کہا کہ 16 مہینے تھے ہم نے غلطی کی ہمیں معافی دے دو، ہم نے کون سی غلطی کی تھی، ہم نے ملک اور قوم کے لیے راستہ ڈھونڈا تھا۔
ایک سوال پر انہوں نے کہا کہ پرانی باتیں جو ہوگئی ہیں ہوگئیں، 16 مہینے گزر گئے ہیں، ہم نے نگران حکومت بنا کر دی اب انتخابات ہوجائیں، اس کے لیے تاریخ دے دیں۔
انہوں نے کہا کہ پی پی پی نے اپوزیشن میں ہوتے ہوئے حکومت کا ساتھ دیا، ہم نے وہ وقت دیکھا جب میاں صاحب استعفے کی بات کر رہے تھے اور عمران خان حملہ آور ہو رہے تھے تو ہم نے اس وقت بھی حکومت کا ساتھ دیا تھا۔
ان کا کہنا تھا کہ ہم نے حکومت ساتھ نہیں دیا دراصل ہم نے جمہوریت اور پارلیمنٹ کا ساتھ کا ساتھ دیا کہ باہر سے ایک چھوٹا سے گروپ آکر حکومت ہٹا دے کو پھر جمہوریت اور پارلیمنٹ کہاں رکھی، پھر جمہوریت اور عوام کے ووٹ کی عزت ختم ہوگئی۔
پی پی پی کے رہنما نے کہا کہ ہم نے عوام کے ووٹ کو عزت دو کا نعرہ ہم نے بچایا، ہم نے بچایا، مسلم لیگ (ن) نہیں بچایا۔
خورشید شاہ نے کہا کہ پھر کہتا ہوں ہمیں معافی دے دو، ہم 16 مہینے حکومت میں گئے، غلطی ہوگئی معافی دے دو اور اب انتخابات ک اعلان کرو۔
انہوں نے کہا کہ ہم سب سیاست دانوں کو متفقہ طور پر طے کرنا چاہیے، نواز شریف اگر طے کرکے نہیں آئے ہیں تو آصف زرداری کو فون کرکے کہتے میں خیریت سے پہنچا، دعوت دیتا ہوں، آؤ مل کر بیٹھیں بات کریں اور انتخابات کرائیں، یہ کام نواز شریف کا ہے۔
ان کا کہنا تھا کہ اب تک انہوں نے ڈر کے مارے یا کسی اور وجہ سے بات نہیں کی اور خاموشی اختیار کی ہوئی ہے۔
نگران وزیراعظم انوارالحق کاکڑ کی مستقبل میں مسلم لیگ(ن) میں شمولیت سے متعلق سوال پر انہوں نے کہا کہ کاکڑ صاحب آگئے اور وزیراعظم بن گئے ہیں، ان کو آخر کیا چاہیے، وفاقی وزیر یا وزیراعظم تو نہیں بنیں گے بلکہ سینیٹر رہیں گے، پھر مسلم لیگ میں رہیں یا دوسری پارٹی میں کیا فرق پڑتا ہے۔
ان کا کہنا تھا کہ انوارالحق کاکڑ کا سیاسی باب ختم ہوگیا، اپنی پارٹی بنائیں تو بڑی بات ہوگی، کسی پارٹی میں ضم ہوگیا تو ایک کارکن ہوگا، کارکن کی کیا مجال کی بات کرے۔
انہوں نے کہا کہ انتخابات کرادو ملک کو بچالو، ووٹ کو عزت دو، میاں صاحب اپنے نعرے ووٹ کو عزت دو، عوام کو ووٹ کو عزت دو۔


مشہور خبریں۔
AFBI دستاویزات میں نائن الیون حملوں کے ممکنہ سعودی روابط کی تفصیلات
?️ 6 نومبر 2021سچ خبریں: امریکی فیڈرل بیورو آف انویسٹی گیشن (ایف بی آئی) نے حال
نومبر
5 اگست 2019 کے بھارتی اقدامات کو مسترد کرتے ہیں: وزیر خارجہ
?️ 5 اگست 2021اسلام آباد(سچ خبریں) وزیر خارجہ کا کہنا تھا کہ 5 اگست 2019
اگست
ہم جلدی لبنان سے نہیں نکلنے والے؛صیہونی وزیر کا دعوی
?️ 15 فروری 2025 سچ خبریں:صیہونی ریاست کے وزیر برائے اسٹریٹجک امور نے دعویٰ کیا
فروری
سیکیورٹی فورسز کی کارروائیاں، باجوڑ میں خارجیوں کے ٹھکانوں کا مکمل صفایا
?️ 23 اکتوبر 2025راولپنڈی(سچ خبریں) سیکیورٹی فورسز کی باجوڑ میں خارجیوں کیخلاف کامیاب کارروائیاں جاری
اکتوبر
اسرائیل کے لبنان سے فوری انخلاء کی وجہ کیا ہے ؟
?️ 28 نومبر 2024سچ خبریں: خطے میں امریکہ کے خصوصی ایلچی آموس ہوکسٹین نے الجزیرہ نیوز
نومبر
خیبر پختونخواہ کے کئی شہروں کے اسکول بند کرنے کا اعلان کیا
?️ 16 مارچ 2021پشاور(سچ خبریں) حکومت نے کل سے پخیبرپختونخوا کئی شہروں میں تعلیمی ادارے
مارچ
مزاحمتی میزائلوں کو روکنے میں صیہونیوں کا خرچ
?️ 15 مئی 2023سچ خبریں:عبرانی ذرائع ابلاغ کے مطابق صیہونی حکومت نے فلسطینی مزاحمت کے
مئی
شام کی جنگ ختم ہوچکی:صیہونی حکام
?️ 27 فروری 2022سچ خبریں:صیہونی حکام نے اعتراف کیا ہے کہ شام کی جنگ کا
فروری