پی ڈی ایم کا لانگ مارچ کرنے کا اہم اعلان

پی ڈی ایم

?️

اسلام آباد(سچ خبریں) پی ڈی ایم پاکستانی حزب اختلاف جماعتوں کے اتحاد نے اپنے ایک مشترکہ بیان میں کہا ہے کہ وہ 26 مارچ سے اسلام آباد کی طرف لانگ مارچ کریں گے جب کہ اس سے قبل حزب اختلاف جماعتوں نے عمران خان 31 جنوری تک استعفی دینے کی مہلت دی تھی۔

اسلام آباد میں منعقدہ پی ڈی ایم کے سربراہی اجلاس میں طے کیا گیا ہے کہ حزب اختلاف کی جماعتیں سینیٹ انتخابات مشترکہ طور پر لڑیں گی۔اس سے قبل حزب اختلاف نے وزیر اعظم عمران خان کو مستعفی ہونے کے لئے 31 جنوری تک کی ڈیڈ لائن دی تھی۔

پی ڈی ایم میں شامل جماعتوں نے اپنے اراکین اسمبلی سے استعفے بھی لے رکھے ہیں, تاہم اسمبلیوں سے مستعفی ہونے اور وزیر اعظم کے خلاف تحریک عدم اعتماد کی تحریک لانے کا فیصلہ نہیں ہو سکا۔

پی ڈی ایم کے سربراہ مولانا فضل الرحمان کہتے ہیں کہ اسمبلی سے استعفوں اور تحریک عدم اعتماد پر فیصلہ سینیٹ انتخابات کے بعد کیا جائے گا۔انہوں نے کہا کہ 26 مارچ کو ملک بھر سے کارکنوں کے قافلے اسلام آباد کا رخ کریں گے۔

دوسری جانب پاکستان کی پارلیمنٹ میں حکومت اور حزبِ اختلاف کے درمیان جاری محاذ آرائی کے ماحول میں 26 ویں آئینی ترمیم پیش کر دی گئی ہے۔

تحریکِ انصاف کی حکومت کے متعارف کردہ اس ترمیمی بل میں سینیٹ کے ارکان کے طریقۂ انتخاب کو تبدیل کرنا تجویز کیا گیا ہے۔حکومت کا مؤقف ہے کہ وہ سینیٹ انتخابات کا اوپن بیلٹ کے ذریعے انعقاد چاہتی ہے تاکہ ہارس ٹریڈنگ کا خاتمہ ممکن ہو سکے۔

تاہم حزبِ اختلاف کا کہنا ہے کہ حکومت اگر سنجیدہ ہے تو صرف سینیٹ انتخابات نہیں بلکہ انتخابی اصلاحات کا جامع قانون لائے۔

یہ آئینی ترمیمی بل ایسے وقت میں پیش کیا گیا ہے جب دو ہفتے سے جاری قومی اسمبلی کے اجلاس میں حکومتی و اپوزیشن نشستوں کے اراکین کے درمیان سیاسی تقاریر اور نعرے بازی کا معمول بنا ہوا ہے۔

تحریکِ انصاف کی وفاقی حکومت نے پاکستان کی پارلیمان کے ایوانِ بالا یعنی سینیٹ کے انتخابات خفیہ رائے شماری کی بجائے شو آف ہینڈ کے ذریعے کرانے کے لیے بدھ کو آئین میں ترمیم کا بل قومی اسمبلی میں پیش کیا ہے۔

حزبِ اختلاف کے شدید احتجاج اور شور شرابے کے دوران جمعرات کو اس بل پر بحث کا آغاز کیا گیا تو وزیرِ خارجہ شاہ محمود قریشی نے کہا کہ اگر حزبِ اختلاف بات نہیں سننا چاہتی، تو یک طرفہ بحث نہیں ہو سکتی اور یہ عمل جمہوری روایات کے برعکس ہے۔

انہوں نے کہا کہ ہم سینیٹ کے انتخابات میں شفافیت اور ہارس ٹریڈنگ کا خاتمہ چاہتے ہیں۔ اس لیے سپریم کورٹ سے بھی رجوع کیا گیا اور آئینی ترمیم بھی لائی گئی ہے۔

واضح رہے کہ تحریکِ انصاف کی حکومت نے خفیہ رائے شماری کی بجائے شو آف ہینڈ کے ذریعے سینیٹ انتخابات کرانے کے لیے سپریم کورٹ میں بھی صدارتی ریفرنس دائر کیا ہوا ہے جس کی سماعت جاری ہے۔

وزیرِ خارجہ شاہ محمود قریشی نے کہا کہ سب کو معلوم ہے کہ ہمارے پاس آئینی ترمیم کے لیے مطلوبہ دو تہائی اکثریت نہیں ہے۔ لیکن ہم نے اس کے باوجود یہ بل اس لیے پیش کیا، تاکہ میثاق جمہوریت کے علم بردار اور شفاف انتخابات کے دعویداروں کو بے نقاب کیا جائے۔

اس ترمیمی بل میں سینیٹ انتخابات میں حصہ لینے کے لیے غیر ملکی شہریت رکھنے والے پاکستانی شہریوں پر قدغن ختم کرنا بھی تجویز کیا گیا ہے۔

وزیرِ خارجہ نے کہا کہ بیرونِ ملک مقیم پاکستانیوں کی ملک کے لیے بہت خدمات ہیں اور انہیں پاکستان کے عملی سیاسی نظام میں ایک موقع ملنا چاہیے۔وہ کہتے ہیں کہ ان کے لیے انتخابات میں حصہ لینے کے لیے ہم آئینی ترمیم کے ذریعے گنجائش پیدا کرنے جا رہے ہیں۔

دوسری جانب حزبِ اختلاف کی جماعتوں کے رہنماؤں نے اعلان کیا ہے کہ وہ حکومت کی جانب سے لائی گئی آئینی ترمیم کو منظور نہیں ہونے دیں گے۔

خیال رہے کہ پاکستان کے آئین میں ترمیم پارلیمان کے دونوں ایوانوں میں دو تہائی اکثریت سے ہی منظور ہو سکتی ہے۔ سادہ اکثریت رکھنے والی تحریکِ انصاف کی حکومت حزبِ اختلاف کی جماعتوں کے تعاون کے بغیر آئینی ترمیم منظور نہیں کرا سکتی۔

حزبِ اختلاف کی جماعت پشتون خواہ ملی عوامی پارٹی کے سینئر رہنما عثمان کاکڑ کہتے ہیں کہ حکومت صرف سینیٹ انتخابات کی بجائے جامع انتخابی اصلاحات کا بل لے کر آئے تو اپوزیشن حمایت کرے گی۔

وائس آف امریکہ سے گفتگو میں انہوں نے کہا کہ حکومت اس قانون سازی میں سنجیدہ نہیں ہے اور جلد بازی میں قانون کیوں منظور کرانا چاہتی ہے۔

وہ کہتے ہیں کہ حکومت سینیٹ انتخابات اوپن بیلٹ کے ذریعے کرانا چاہتی ہے مگر اس ترمیم میں چیئرمین سینیٹ کا انتخاب خفیہ رائے شماری سے تجویز کیا گیا ہے۔

حزبِ اختلاف کی 10 جماعتوں پر مشتمل اتحاد پاکستان ڈیموکریٹک موومنٹ (پی ڈی ایم) کا اہم اجلاس اسلام آباد میں منعقد ہو رہا ہے جس میں 26 ویں آئینی ترمیمی بل پر مشاورت کی جائے گی اور حتمی فیصلہ بھی ہونے کا امکان ہے۔

یاد رہے کہ سینیٹ کے آدھے اراکین کی مدت رکنیت 11 مارچ کو ختم ہو رہی ہے۔ جس سے قبل خالی ہونے والی نشستوں کے انتخابات کرائے جائیں گے۔ جو 10 فروری سے 10 مارچ کے درمیان کسی بھی وقت منعقد ہو سکتے ہیں۔

مشہور خبریں۔

اسٹیٹ بینک نے شرح سود میں اضافہ کردیا۔

?️ 7 جولائی 2022اسلام آباد:(سچ خبریں)اسٹیٹ بینک نے شرح سود میں مزید 125 بیسز پوائنٹس

طوفان ’تیج‘ سے پاکستانی ساحلی پٹی کو کوئی خطرہ نہیں، محکمہ موسمیات

?️ 22 اکتوبر 2023کراچی: (سچ خبریں) گزشتہ تین روز کے دوران سازگار ماحول کی وجہ

اسرائیلی قیدیوں کے اہلخانہ نے نیتن یاہو سے کیا کہا؟

?️ 30 اکتوبر 2023سچ خبریں: غزہ کی پٹی میں صیہونی قیدیوں کے اہل خانہ نے

جدہ میں آرامکو کی تنصیبات تقریباً مکمل طور پر جل چکی ہے: المیادین

?️ 26 مارچ 2022سچ خبریں:  المیادین نے ہفتہ کی صبح جدہ میں آرامکو آئل ریفائنری

ھآرتض: اسرائیل کا تعلیمی بائیکاٹ آپ کی سوچ سے بھی بدتر ہے

?️ 3 جنوری 2026سچ خبرین: صہیونی اخبار ھآرتض نے دنیا بھر کے ماہرین تعلیم کی

نواز شریف کا احمد آباد طیارہ حادثے میں ہلاکتوں پر اظہار افسوس

?️ 12 جون 2025لاہور (سچ خبریں) سابق وزیراعظم نواز شریف نے بھارت میں طیارہ حادثے

اردنیوں کا فلسطینی مزاحمت کی حمایت میں مظاہرہ

?️ 8 اپریل 2023سچ خبریں:اردن کے دارالحکومت کے مکینوں نے مظاہرہ کرکے فلسطینی عوام کی

زمینی جنگ میں 221 اسائیلی فوجی ہلاک

?️ 23 جنوری 2024سچ خبریں:اسرائیلی فوج نے غزہ کے خلاف زمینی جنگ میں 221 فوجیوں

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے