پی ٹی آئی کے سابق رہنما راجا ریاض کا مسلم لیگ(ن) میں شمولیت کا اعلان

?️

اسلام آباد:(سچ خبریں) پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) کے سابق رہنما اور قومی اسمبلی میں قائد حزب اختلاف راجا ریاض نے لندن میں مسلم لیگ(ن) کے قائد نواز شریف سے ملاقات کے بعد پارٹی میں باقاعدہ شمولیت کا اعلان کردیا۔

راجا ریاض نے لندن میں نواز شریف سے ملاقات کی اور ان کی قیادت پر بھرپور اعتماد کا اظہار کرتے ہوئے مسلم لیگ(ن) میں شمولیت اختیار کر لی، اس موقع پر مسلم لیگ(ن) کے صدر اور سابق وزیر اعظم شہباز شریف، سینیٹر اسحٰق ڈار، میاں ناصر جنجوعہ، عطااللہ تارڑ، ملک احمد خان، اعظم نذیر تارڑ اور امجد پرویز بھی موجود تھے۔

نواز شریف سے ملاقات کے بعد راجا ریاض کے ہمراہ لندن میں میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے مسلم لیگ (ن) کے صدر شہباز شریف نے کہا کہ راجا ریاض کو نواز شریف، میں نے اور مسلم لیگ(ن) نے خوش آمدید کہا ہے اور مجھے پوری امید ہے کہ ان کے آنے سے پارٹی کو بڑی تقویت ملے گی۔

سپریم کورٹ کی جانب سے نیب ترامیم کو کالعدم قرار دیے جانے کے حوالے سے سوال پر شہباز شریف نے کہا کہ اس حوالے سے ہمارا آج تبادلہ خیال ہوا ہے، یہ جو فیصلہ آیا ہے یہ ایک افسوس ناک امر ہے کہ ایک آمر کے قانون کو کافی حد تک بحال کیا گیا، اس کو تبدیل نہیں کیا گیا۔

ان کاکہنا تھا کہ میں یہ بھی بتانا چاہتا ہوں جب عمران نیازی نے ایک نہیں دو مرتبہ صدارتی آرڈیننس کے ذریعے اپنے حواریوں کو این آر او دینے کے لیے نیب کا قانون تبدیل کیا تھا تو اس وقت عمر عطا بندیال کہاں تھے؟، اس وقت انہوں نے یہ کیوں نہیں سوچا، بے شک اس آرڈیننس کی عمر چار مہینے تھی لیکن ان چار مہینوں میں کچھ لوگوں نے اس سے فائدہ حاصل کیا، یہ ہے وہ نیب نیازی گٹھ جوڑ۔

انہوں نے کہا کہ الحمدللہ نوازشریف صاحب 21 اکتوبر کو پاکستان تشریف لارہے ہیں، یہ جو فیصلہ آیا ہے اس کے باوجود نواز شریف کے خلاف قائم جھوٹے اور بے بنیاد مقدمات پر فیصلے میرٹ پر ہوں گے، نوازشریف کے وکلا نے نئے قانون کا سہارا بالکل نہیں لیا، اس لیے اللہ تعالیٰ کے فضل و کرم سے 21 اکتوبر کو میاں صاحب وطن تشریف لا رہے ہیں۔

ایک سوال کے جواب میں مسلم لیگ(ن) کے صدر نے کہا کہ عمر عطا بندیال نے بہت متنازع فیصلے کیے، مثال کے طور پہ جو پارلیمنٹ نے بل پاس کیا تھا اس کے معرض وجود میں آنے سے پہلے ہی اس پر انہوں نے اسٹے آرڈر دے دیا تھا، اس طرح کا واقعہ پہلے کبھی دیکھنے کو نہیں ملا۔

ان کا کہنا تھا کہ سازش کے تحت ایک منتخب وزیراعظم کو ہٹایا گیا، اس سازش کے نتیجے میں آج تک پاکستان کی معیشت انحطاط کا شکار ہے، ان چار برسوں میں معیشت کے ساتھ جو کھیل کھیلا گیا، خارجہ پالیسی کو تہس نہس کیا گیا، اس کی وجہ سے پاکستان کے استحکام میں بے پناہ بگاڑ آیا لیکن مجھے پوری امید ہے اگر اللہ تعالیٰ نے نوازشریف کو موقع دیا تو دوبارہ 2017 سے اس خوش حالی کے سفر کا آغاز ہو گا۔

اس موقع پر میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے راجا ریاض نے کہا کہ میں نواز شریف اور شہباز شریف کا شکریہ ادا کرتا ہوں کہ ان دونوں نے مجھ پر اعتماد کیا ہے، میں مسلم لیگ(ن) کی بہتری، مضبوطی اور میاں نواز شریف کی وطن واپسی کے لیے جس طرح پورا پاکستان متحرک ہے، میں بھی آج کے بعد اس کا حصہ ہوں۔

لندن میں میڈیا کے نمائندوں سے گفتگو کرتے ہوئے اسحٰق ڈار نے کہا کہ پارٹی کے فیصلہ کے مطابق نواز شریف 21 اکتوبر کو پاکستان پہنچیں گے۔

ان کا کہنا تھا کہ نوازشریف کے الیکشن میں حصہ لینے میں کوئی قانونی رکاوٹ حائل نہیں، ان کے الیکشن لڑنے کے لیے 62(1)(ایف) کا قانون پارلیمنٹ پاس کر چکی ہے جس کی منظوری صدر دے چکے ہیں۔

انہوں نے کہا کہ اس قانون کے تحت نااہلی کی مدت صرف 5 سال ہو سکتی ہے، نہ صرف نواز شریف، جہانگیر ترین بلکہ دیگر درجنوں لوگوں کو بھی اس کا فائدہ ہوا ہے جن میں سے کافی لوگوں کا تعلق دیگر جماعتوں سے تھا۔

ان کا کہنا تھا کہ اس کے علاوہ جو دیگر دو مقدمات ہیں ان میں سے بھی ایک میں مریم نواز کی بریت ہو چکی ہے اور اس میں نواز شریف کی بھی بریت ہو جائے گی کیونکہ ان کی غیرموجودگی میں اس کا فیصلہ نہیں ہو سکتا تھا۔

انہوں نے کہا کہ نواز شریف کی وطن واپسی کے حوالے سے قانونی اور دیگر پہلوؤں پر پارٹی کام کر رہی ہے اور وطن واپسی پر ان کا فقیدالمثال استقبال ہو گا۔

اسحٰق ڈار نے کہا کہ بلاول میرے لیے بیٹے کی طرح ہے، یہ مناسب نہیں لگتا اور میں اس پر کچھ نہیں کہنا چاہتا، ہم نے 15ماہ اتفاق رائے سے حکومتی فیصلہ کیے اور شہباز شریف تمام سیاسی جماعتوں کو ساتھ لے کر چلے، ہمیں محض سیاست کی خاطر ایک حد سے آگے نہیں جانا چاہیے۔

ایک سوال کے جواب میں انہوں نے کہا کہ استحکام پاکستان پارٹی سے اتحاد کی باتیں قبل ازوقت ہیں، اس کا انحصار نتائج پر ہے، پاکستان جس بھنور میں پھنس چکا ہے، 2013 میں ہم نے حکومت سنبھالی تو اس وقت بھی پاکستان ڈیفالٹ کے دہانے پر تھا لیکن 2017 تک ہم اسے دنیا کی 24ویں بہترین معیشت بنا چکے تھے جس میں سستی ترین چیزیں تھیں۔

انہوں کہا کہ پراجیکٹ 2011 جو 2018 میں میچور ہوا اور انتخابات میں دھاندلی اور آر ٹی ایس سسٹم بند کر کے پارٹی اور ایک شخص کو لایا گیا، اس نے بہترین معیشت کو 47ویں نمبر تک پہنچا دیا، یہ ہے وہ معاشی تباہی جس کے نتیجے میں ہر پاکستانی آج پریشان ہے۔

مشہور خبریں۔

علاقائی امن اور استحکام کے لیے تہران اسلام آباد تعاون کا اہم کردار؛پاکستانی فوج کا بیان

?️ 16 اکتوبر 2021سچ خبریں:پاکستانی فوج نے پاکستانی فوج کے کمانڈر اور اسلامی جمہوریہ ایران

قائد اعظم کی سیاسی میراث میں ہی پاکستان کی ترقی و خوشحالی کا راز پنہاں ہے، وزیراعظم

?️ 11 ستمبر 2025اسلام آباد: (سچ خبریں) وزیراعظم شہباز شریف نے کہا ہے کہ قائد

افغانستان سے اٹھنے والی دہشتگردی کے خاتمے تک چین سے نہیں بیٹھیں گے،پاک فوج

?️ 13 اکتوبر 2025راولپنڈی: (سچ خبریں) پاک فوج کا کہنا ہے کہ بھارت خطے میں دہشتگردی کو

اسرائیلی قیدیوں کے اہل خانہ نے نیتن یاہو کے خلاف مظاہروں کا مطالبہ کیا ہے

?️ 20 ستمبر 2025سچ خبریں: اسرائیلی قیدیوں کے اہل خانہ نے مقبوضہ بیت المقدس اور

طالبان کے پاس فتنۃ الخوارج یا پاکستان میں سے کسی ایک کے انتخاب کےعلاوہ کوئی آپشن نہیں، فیلڈ مارشل

?️ 8 دسمبر 2025راولپنڈی: (سچ خبریں) چیف آف ڈیفنس فورسرز (سی ڈی ایف) فیلڈ مارشل

نیب قانون اپنی ظالمانہ شکل میں بحال ہو گیا رانا ثنااللہ

?️ 16 ستمبر 2023اسلام آباد:(سچ خبریں) مسلم لیگ (ن) کے سینئر رہنما اور سابق وزیر

بی بی سی میں بڑھتا بحران، نیوزنائٹ پر بھی ٹرمپ کی تقریر کو تروڑ مروڑ کر پیش کرنے کا الزام

?️ 14 نومبر 2025 بی بی سی میں بڑھتا بحران، نیوزنائٹ پر بھی ٹرمپ کی

اسرائیل نے ہمارے امن کے پیغام کا جواب 1000 فضائی حملوں سے دیا: جولانی

?️ 7 دسمبر 2025سچ خبریں: ابو محمد الجولانی، خود ساختہ صدر سوریا، نے الزام لگایا ہے

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے