?️
اسلام آباد: (سچ خبریں) پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) نے مخصوص نشستیں الاٹ نہ کرنے کے الیکشن کمیشن آف پاکستان کے فیصلے کو ’غیر آئینی‘ قرار دیتے ہوئے سپریم کورٹ میں چیلنج کرنے کا اعلان کردیا۔
سینیٹ میں اظہار خیال کرتے ہوئے پی ٹی آئی کے سینیٹر اور ماہر قانون علی ظفر نے الیکشن کمیشن کا فیصلہ آئین کے خلاف قرار دیتے ہوئے الیکشن کمیشن کے تمام اراکین سے استعفے کا مطالبہ بھی کردیا۔
بیرسٹر علی ظفر نے کہا کہ سنی اتحاد کونسل کو مخصوص سیٹیں نہ دینے کا فیصلہ مسترد کرتے ہیں، آئین کے مطابق مخصوص نشستیں سنی اتحاد کونسل کو ملنی چاہئیں۔
انہوں نے کہا کہ سنی اتحاد کونسل کی 23 نشستیں بنتی ہیں اور ہماری نشستیں کسی اور جماعت کو دینا آئین کی خلاف ورزی ہوگی، فیصلے کو عدالتوں میں چیلنج کریں گے۔
ان کا کہنا تھا کہ مخصوص نشستوں کے فیصلے تک صدارتی اور سینیٹ انتخابات نہیں ہوسکتے، جبکہ ہم مطالبہ کرتے ہیں کہ پورا الیکشن کمیشن فوری طور پر مستعفی ہو۔
انہوں نے فیصلے پر اراکین کے خلاف آرٹیکل 6 کے تحت کارروائی کا مطالبہ بھی کیا۔
دوسری جانب سے ڈان نیوز سے گفتگو میں پاکستان تحریک انصاف کے رہنما شعیب شاہین نے کہا کہ الیکشن کمیشن کے مخصوص نشستوں سے متعلق فیصلے کو عدالتوں میں چیلنج کریں گے۔
انہوں نے کہا کہ الیکشن کمیشن کا فیصلہ غلط ہے، یہ فیصلہ کسی طرح بھی درست نہیں ہے جبکہ الیکشن کمیشن کی جانبداری چھوٹی بات ہے۔
ان کا کہنا تھا کہ اس غیر آئینی فیصلے کی کوئی اہمیت اور قانونی حیثیت نہیں اور الیکشن کمیشن کے فیصلے کو ہائی کورٹ اور سپریم کورٹ میں چیلنج کریں گے۔
ادھر فیصلے پر رد عمل دیتے ہوئے سماجی رابطے کی ویب سائٹ ’ایکس‘ پر اپنے آفیشل پیج پر جاری ایک بیان میں پی ٹی آئی نے کہا کہ الیکشن کمیشن آف پاکستان ’عوامی مینڈیٹ اور پاکستان کے عوام کی بے توقیری‘ جاری رکھے ہوئے ہے۔
اس میں کہا گیا کہ سنی اتحاد کونسل کی مخصوص نشستوں پر آج کا فیصلہ چیف الیکشن کمشنر سکندر سلطان راجا کا ’پاکستان میں جمہوریت اور انتخابی عمل کو مکمل طور پر تباہ کرنے کے لیے ایک اور قدم تھا۔
تحریک انصاف نے کہا کہ ’متعصب الیکشن کمیشن نے واضح طور پر اپنے ہی قوانین کی بارہا خلاف ورزی کی ہے۔
واضح رہے کہ الیکشن کمیشن آف پاکستان نے سنی اتحاد کونسل کو مخصوص نشستیں الاٹ کرنے کی درخواستیں مسترد کردیں، چیف الیکشن کمشنر سکندر سلطان راجا کی سربراہی میں 5 رکنی کمیشن نے درخواستوں پر سماعت کرتے ہوئے گزشتہ ہفتے فیصلہ محفوظ کیا تھا۔
آج چار ایک کی اکثریت سے جاری 22 صفحات پر مشتمل فیصلے میں الیکشن کمیشن نے کہا کہ سنی اتحاد کونسل کو مخصوص نشستیں الاٹ نہیں کی جا سکتی، قانون کی خلاف ورزی اور پارٹی فہرست کی ابتدا میں فراہمی میں ناکامی کے باعث سنی اتحاد کونسل مخصوص نشستوں کی حقدار نہیں، سنی اتحاد کونسل نے مخصوص نشستوں کے لیے لسٹ جمع نہیں کرائی۔
فیصلے میں کہا گیا کہ یہ مخصوص نشستیں خالی نہیں رہیں گی، یہ مخصوص متناسب نمائندگی کے طریقے سے سیاسی جماعتوں میں تقسیم کی جائیں گی۔
الیکشن کمیشن نے تمام خالی مخصوص نشستیں دیگر جماعتوں کو الاٹ کرنے کا فیصلہ کرتے ہوئے مسلم لیگ (ن) ، پیپلزپارٹی، ایم کیو ایم پاکستان اور جمعیت علمائے اسلام فضل الرحمٰن (جو یو آئی ف) کو دینے کی درخواست منظور کی ہے۔
چیف الیکشن کمشنر، ممبر سندھ، خیبر پختونخوا اور بلوچستان نے اکثریتی فیصلے کی حمایت کی جب کہ ممبر پنجاب بابر بھروانہ نے اکثریتی فیصلے سے اختلاف کیا۔


مشہور خبریں۔
لاہور ہائیکورٹ نے پنجاب حکومت کو ججز کی تعیناتی کیلئے آخری موقع دے دیا
?️ 20 مئی 2024لاہور: (سچ خبریں) لاہور ہائیکورٹ نے پنجاب حکومت کو ججز کی تعیناتی
مئی
کہیں اور بات نہیں چل رہی، مذاکرات چھپ کر نہیں کھل کر کریں گے، بیرسٹر گوہر
?️ 28 جنوری 2025 اسلام آباد: (سچ خبریں) پی ٹی آئی کے چیئرمین بیرسٹر گوہر
جنوری
روسی کمانڈر کا یوکرین میں جنگ کے خاتمے کا مطالبہ
?️ 17 اپریل 2023سچ خبریں:ماسکو سے منسلک آرمی کی ایک نجی یونٹ واگنر کے کمانڈر
اپریل
عراق میں امریکی فوجی قافلوں پر حملہ
?️ 11 مارچ 2021سچ خبریں:عراقی ذرائع ابلاغ نے بتایا کہ امریکی قابض فوج سے تعلق
مارچ
صاف پانی اسکینڈل میں شہباز شریف کے ساتح بیٹی اور داماد ہوئے اشتہاری
?️ 8 مارچ 2021لاہور {سچ خبریں} احتساب عدالت کے تحریری حکم کے مطابق شہباز شریف
مارچ
مالی سال 2024 کے دوران اقتصادی ترقی کی شرح 2.5 فیصد رہی
?️ 1 اکتوبر 2024اسلام آباد: (سچ خبریں) پاکستان کی مالی سال 24-2023 کے دوران اقتصادی
اکتوبر
امریکہ کا شام میں القاعدہ کے رہنما کے قتل کا دعویٰ
?️ 28 جون 2022سچ خبریں: امریکی فوج نے منگل کی صبح کہا کہ اس نے
جون
نیٹو کے خلاف روس کی کاروائی درست:بین الاقوامی ماہرین
?️ 28 فروری 2022سچ خبریں:بین الاقوامی ماہرین ماہرین اور سیاسی مبصرین پیوٹن کے مغرب کے
فروری