?️
اسلام آباد(سچ خبریں) سینیٹ میں اپوزیشن نے پارلیمنٹ کے ایوان بالا کے لیے اوپن ووٹنگ سے متعلق آرڈیننس کو مسترد کرتے ہوئے پیپلزپارٹی کے سینیٹر میاں رضا ربانی نے ایک قدم آگے جاتے ہوئے حکمران جماعت کے ایجنڈے کو فروغ‘ دینے کے لیے آرڈیننس جاری کرنے پر صدر مملکت ڈاکٹر عارف علوی کے مواخذے کا مطالبہ کردیا صدارتی آرڈیننس پر بحث کے ایک نکاتی ایجنڈے میں حصہ لیتے ہوئے رضا ربانی نے صدر پر آئین کی خلاف ورزی کا الزام لگایا۔
انہوں نے کہا کہ صدر مملکت کی جاننتے تھے کہ آئینی ترمیمی بل قومی اسمبلی میں پہلے سے موجود ہے لیکن انہوں نے پھر بھی سپریم کورٹ میں ریفرنس بھیجا، صدر یہ بھی جانتے تھے کہ پارلیمنٹ کے دونوں ایوانوں کو انہوں نے موقوف کر رکھا ہے اور اگلے ہی دن یہ جانتے ہوئے بھی کہ ریفرنس سپریم کورٹ میں زیرسماعت ہے۔
انہوں نے سینیٹ انتخابات پر آرڈیننس جاری کردیا۔رضا ربانی کا کہنا تھا کہ ’آج ہمیں آئین کے آرٹیکل 47 کے تحت صدر کے خلاف مواخذے کی قرارداد پر غور کرنا چاہیے‘۔
سابق چیئرمین سینیٹ کا کہنا تھا کہ آئین کے آرٹیکل 89 کے تحت (آرڈیننس جاری کرنے کے بعد) اس آرڈیننس کو دونوں ایوانوں میں سے کسی ایک کے پہلے اجلاس میں رکھنا چاہیے تھا جبکہ قومی اسمبلی کا اجلاس جمعہ اور سینیٹ کا ہفتہ کو ہوا لیکن آرڈیننس نہ تو اسمبلی اور نہ ہی سینیٹ میں پیش کیا گیا۔
انہوں نے اعتراض کیا کہ آرڈیننس عبوری قانون سازی کے لیے ہوتا ہے کیونکہ سپریم کورٹ متعدد مرتبہ یہ قرار دے چکی ہے کہ اس طرح کی قانون سازی عارضی ہوتی ہے اور یہ زیادہ سے زیادہ 120 دن کے لیے رہ سکتی ہے اور اس کے بعد خود بخود ختم ہوجاتی ہے، اگر اس پر عمل درآمد نہ ہو تو اسے دوبارہ نامنظوری کی قرارداد کے ذریعے ایک طرف کیا جاسکتا ہے۔
رضا ربانی نے کہا کہ اگر سینیٹ انتخابات آرڈیننس کے تحت ہوتے ہیں تو پھر اس کے اثرات ہوں گے اور آرڈیننس کے ختم ہونے پر قانونی چارہ جوئی کا ایک طوفان برپا ہوجائے گا کہ آیا انتخابات جائز تھے یا نہیں، مزید یہ کہ صرف پارٹی (پی ٹی آئی) میں بغاوت کو روکنے کے لیے آئینی اداروں کو پامال کیا جارہا ہے۔
دوسری جانب وزیر اطلاعات و نشریات سینیٹر شبلی فراز کا کہنا تھا کہ اپوزیشن کو اوپن سینیٹ انتخابات کی حمایت کرنی چاہیے ’ہمیں سینیٹ انتخابات میں ووٹس کی خرید و فروخت کی سیاست کو ختم کرنا ہوگا‘۔انہوں نے انتخابی عمل کے لیے شفافیت لاکر ایوان کے تقدس کو بحال کرنے کا مطالبہ بھی کیا۔
اس موقع پر وزیراعظم کے مشیر برائے پارلیمانی امور بابر اعوان نے رضا ربانی کی تقریر کے کچھ حصوں پر اعتراض کیا اور پوچھا کہ آیا یہ سپریم کورٹ میں زیرسماعت معاملے کی طرف عدم اعتماد تو نہیں تھا۔
آئین کے آرٹیکل 89 کے ذیلی آرٹیکل 2 کا حوالہ دیتے ہوئے انہوں نے کہا کہ آرڈیننس پارلیمنٹ کے ایکٹ کے طور نافذ اور مؤثر ہوگا ساتھ ہی انہوں نے پوچھا کہ کیا کسی اجنبی نے آرڈیننس جاری کیا تھا؟
بابر اعوان کا کہنا تھا کہ آرٹیکل 50 کہتا ہے کہ پارلیمنٹ صدر اور اس کے دو ایوانوں پر مشتمل ہے، اگر یہ غلط لکھا ہے تو پھر ہم اسے تبدیل کرتے ہیں، اگر یہ صدارتی آرڈیننس برا ہے تو پھر آئین سے تمام آرڈیننسز، مارشل لا قوانین اور ایل ایف اوز کو باہر نکال دیں‘۔انہوں نے کہا کہ صدر آرٹیکل 186 کے تحت خصوصی طور پر مشاورتی دائرہ کار استعمال کرسکتے ہیں۔
مشیر پارلیمانی امور کا کہنا تھا کہ جہاں تک مواخذے کی بات ہے تو ان (اپوزیشن) کو خوش آمدید کہیں گے، اس کا مقابلہ کریں گے اور یہ اسی طرح ناکام ہوگا جیسے امریکی صدر کا دو مرتبہ مواخذہ کامیاب نہیں ہوسکا۔ان کا کہنا تھا کہ سپریم کورٹ سے چاہے جو بھی فیصلہ آئے یہ 3 مارچ سے پہلے ہوگا اور اس پر عملدرآمد ہوگا۔


مشہور خبریں۔
فواد خان پرکشش شخصیت کے مالک اور معاون ہیں، وانی کپور
?️ 20 اپریل 2025سچ خبریں: آنے والی رومانٹک بولی وڈ فلم ’ابیر گلال‘ میں پاکستانی
اپریل
کشنر: پیرس معاہدے یوکرین میں امن کی ضمانت نہیں دیتے
?️ 7 جنوری 2026سچ خبریں: امریکی صدر کے داماد نے کہا: یوکرین کے لیے سلامتی
جنوری
امریکہ اور یورپ نے2023 میں کیا پایا؟
?️ 10 جنوری 2024سچ خبریں: پچھلے سال کی عالمی صورتحال کا سرسری جائزہ بتاتا ہے
جنوری
پاکستانی طلبہ پر حملہ: کرغزستان کے ناظم الامور کی دفتر خارجہ طلبی، ڈی مارش کا فیصلہ
?️ 18 مئی 2024اسلام آباد: (سچ خبریں) کرغزستان کے ناظم الامور کو دفتر خارجہ طلب
مئی
پاکستانی وزیر اعظم کے مشیر پر طالبان کا قاتلانہ حملہ
?️ 25 جون 2023سچ خبریں:پاکستانی میڈیا نے اطلاع دی ہے کہ وزیر اعظم پاکستان کے
جون
ایران کے ساتھ مذاکرات میں امریکہ کو کوئی اعلیٰ مقام حاصل نہیں
?️ 30 دسمبر 2021سچ خبریں: ایک ریٹائرڈ امریکی تجزیہ کار اور جنرل نے کہا کہ امریکی
دسمبر
9 مئی کے مقدمات: عمر ایوب، شبلی فراز اور زرتاج گل سمیت 196 ملزمان کو 10 سال تک قید
?️ 31 جولائی 2025اسلام آباد: (سچ خبریں) فیصل آباد میں انسداد دہشتگردی عدالت نے 9
جولائی
05اگست 2019کو کئے گئے فیصلے ہمارے لیے ناقابل قبول ہیں: آغا روح اللہ
?️ 21 اپریل 2024سرینگر: (سچ خبریں) غیر قانونی طور پر بھارت کے زیر قبضہ جموں
اپریل