?️
کراچی(سچ خبریں)وزیر خزانہ مفتاح اسمٰعیل نے کہا ہے کہ وزیر اعظم نے کی ہدایت ہے کہ قوم پیٹرولیم مصنوعات میں مزید اضافے کی متحمل نہیں ہے، اس لیے آئی ایم ایف سے قیمتیں بڑھانے کے لیے وقت مانگیں گے۔
ان کا کہنا تھا کہ شوکت ترین آئی ایم ایف سے جو معاہدہ کر کے آئے تھے اس کے مطابق پیٹرولیم مصنوعات کی قیمت میں 150 روپے تک اضافہ ہونا چاہیے۔
کراچی میں میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے وزیر خزانہ کا کہنا تھا کہ سابقہ حکومت نے آئی ایم ایف سے یہ وعدہ کیا تھا کہ نہ صرف ایندھن پر سبسڈی ختم کریں گے بلکہ اس پر فی لیٹر 30 روپے ٹیکس عائد کریں گے۔
انہوں نے کہا کہ عمران خان اور شوکت ترین کے فارمولے سے مجھے 70 روپے سبسڈی ختم کرکے 250 روپے فی لیٹر ملنے والے پیٹرول پر 17 فیصد ٹیکس عائد کرتے ہوئے اس کی قیمت میں 150 روپے اضافہ کرنا پڑے گا۔
ان کا کہنا تھا کہ عمران خان اور شوکت ترین آئی ایم ایف سے جو معاہدہ کر کے آئے ہیں اس کے نتیجے میں آج ہم یہ چیزیں بھگت رہے ہیں۔
وزیر خزانہ کا کہنا تھا کہ میرے وزیر اعظم نے کہا ہے کہ اس وقت یہ قوم قیمتوں میں اضافے کے متحمل نہیں ہوسکتے، اس لیے میں آئی ایم ایف کے پاس جاؤں گا اور کہوں گا کہ میں مانتا ہوں کہ سابق وزیر خزانہ شوکت ترین نے یہ وعدہ کیا ہے کہ وہ قیمتیں بڑھائیں گے لیکن ہمیں اس کے لیے کچھ وقفہ دیا جائے۔
انہوں نے کہا کہ ہم نے ایک سے ڈیڑھ مہینے سبسڈی کو کھینچا ہے اور شوکت ترین صاحب جب یہ کہتے ہیں کہ وہ سبسڈی کی فنڈنگ چھوڑ کر گئے تھے تو مجھے ہنسی آتی ہے، شوکت ترین اس عمر میں ایسی باتیں کرتے ہیں جیسے عمران خان کے نوجوان سپورٹرز بات کرتے ہیں۔
ان کا کہنا تھا کہ میں آپ کو یقین سے بتارہا ہوں کہ میں نے وزیر خزانہ بننے سے ایک دو روز قبل فنانس سیکریٹری سے ملاقات کی تھی، انہوں نے جو دستاویزات مجھے دکھائیں اس کے مطابق رواں سال کے لیے ایک ہزار 300 ارب روپے کا ابتدائی خسارہ مختص کیا گیا جس میں 56 ارب روپے وفاقی حکومت کا خسارہ تھا
انہوں نے کہا کہ شوکت ترین کہتے ہیں کہ پیسےچھوڑ گئے تھے یہ جھوٹ ہے، آپ نے جو معاہدہ کیا تھا آپ معاہدے کی خلاف ورزی کر رہے ہیں۔
مفتاح اسمٰعیل نے کہا کہ یہ جو 5.97 یا 6.0 فیصد نمو کی شرح دکھائی گئی تھی اس کے حساب میں غلطی ہوئی ہے۔
ان کا کہنا تھا کہ یہ جو 6 فیصد نمو دکھایا گیا ہے، اس پر آئی ایم ایف کہہ رہا ہے کہ آپ کی معیشت بہت تیز چل رہی ہے اس لیے آپ کو کرنٹ اکاؤنٹ خسارہ ہورہا ہے، اس سے بچنے کے لیے معیشت کو آہستہ کریں، اور ان کا فارمولا ہے کہ معیشت آہستہ کرنے کے لیے شرح سود بڑھائیں۔
وزیر خزانہ نے کہا کہ ممکن ہے کہ شوکت ترین کا شوق پورا کرنے کے لیے شرح سود بھی بڑھائی جائے، یہ کام اسٹیٹ بینک کرے گا یہ ہر جگہ بارودی سرنگ کھود کر گئے ہیں، یہ لوگ 20 ہزار ارب روپے کا قرض لے کر گئے ہیں۔
شوکت ترین پاکستان کی تاریخ کا سب سے بڑا خسارہ چھوڑ کر گئے ہیں رواں سال پورے پاکستان کا خسارہ 5 ہزار ارب روپے اور وفاق کا خسارہ 5 ہزار 600 ارب روپے ہوگا، یہ بھی پاکستان کی تاریخ کا سب سےبڑا خسارہ ہے۔
ان کا کہنا تھا کہ پہلے سال اسد عمر نے 9.1 فیصد کا خسارہ دیا تھا جو پاکستان کے 52 سال کا ریکارڈ تھا، گزشتہ سال انہوں نے 1983 کے بعد سب سے کم کپاس اگائی ہے، جب 2018 میں ہم گئے تھے تو یہ ملک گندم برآمد کرتا تھا، آج ہمیں گندم درآمد کرنی پڑ رہی ہے۔
انہوں نے کہا کہ ہم ایل این جی کے طویل المدتی معاہدے کر کے گئے تھے جو انہوں نے جاری نہیں رکھے اور آج پاکستان میں ایندھن کی قلت ہوگئی ہے، یہ سب کچھ عمران خان نے کیا ہے، آج مجھے آئی ایم ایف سے مذاکرات کے لیے دوحہ جانا پڑ رہا ہے، کیونکہ اسلام آباد مذاکرات نہیں ہو پا رہے ہیں۔
ان کا کہنا تھا کہ 21 ارب روپے عمران خان نے آئی ایم ایف سے لے رکھے ہیں جو مجھے اگلے سال تک واپس کرنے ہیں، اس میں سعودی عرب اور یو اے ای کی رقم شامل نہیں ہے۔
مفتاح اسمٰعیل نے کہا کہ یہ سب جان بوجھ کر کیا گیا ہے تاکہ میں پھنس جاؤں اور پھر وہ کہتے ہیں کہ ہم نے ان سے مدد مانگی ہے۔
وزیرخزانہ نے کہا کہ ہمیں آپ سے کسی مدد کی امید نہیں ہے جو اپنے ملک کا نہیں ہوسکتا وہ مسلم لیگ (ن) کا کیا ہوگا، جو اپنے معیشت کو تباہ کر کے گیا ہے وہ مسلم لیگ (ن) کا ساتھ کیا دے گا، اور کیا ہم اس کی مدد مانگیں گے؟
ان کا کہنا تھا کہ عمران خان صاحب دھرنا دھرنا نہ کھیلیں، آج آئی ایم ایف پاکستان میں نہیں ہے اور مجھے دوحہ اس لیے جانا پڑ رہا ہے کہ آپ نے دھرنا دیا تھا۔
وزیر خزانہ نے کہا کہ آپ کے دھرنے کی وجہ سے 2014 میں سی پیک معاہدہ تاخیر کا شکار ہوا تھا پھر آپ نے اقتدار میں آکر سی پیک کو قتل کردیا، اس کے بعد چین کو ہمارے خلاف ہوجانا چاہے تھا لیکن انہوں نے بلاول بھٹو کا استقبال کیا ہے۔
ان کا کہنا تھا کہ عمران خان یہ بھول گئے ہیں کہ جب وہ کہتے تھے کہ میں آٹے اور ٹماٹر کی باتیں نہیں کرنے آیا ہوں میں آپ کو کہتا ہوں کہ شہباز شریف آٹے اور ٹماٹر کی قیمت پر بات کرنے آیا ہے، عمران خان 4 سال رہے کبھی 70 روپے سے نیچے چینی نہیں آئی آج چینی کی ہول سیل قیمت 70 روپے سے نیچے ہے۔


مشہور خبریں۔
کیا سوڈان کی جنگ سعودی عرب اور امارات کے درمیان پراکسی وار ہے
?️ 14 جولائی 2023سچ خبریں:لامریکی جریدے فارن پالیسی نے ایک مضمون میں سوڈانی فوج اور
جولائی
پنجاب حکومت کا یونیورسٹی طلبہ کے لیے لیپ ٹاپ اسکیم میں توسیع کا اعلان
?️ 12 دسمبر 2025لاہور (سچ خبریں) پنجاب حکومت نے اپنے لیپ ٹاپ اسکیم کو پہلی
دسمبر
مسلسل تیسرے سال امریکی گھریلو آمدنی میں کمی
?️ 14 ستمبر 2023سچ خبریں:سرکاری اعداد و شمار بتاتے ہیں کہ 2022 میں امریکی گھرانوں
ستمبر
کسان کے بغیر ہل چلانے والا خودکار ٹریکٹر متعارف کرا دیا گیا
?️ 9 جنوری 2022الینوئے(سچ خبریں) کسان کے بغیر ہل چلانے والا خودکار ٹریکٹر متعارف کرا
جنوری
بھارت تعاون کرے تو ’مخصوص افراد‘ کی حوالگی پر کوئی اعتراض نہیں ہوگا، بلاول بھٹو
?️ 5 جولائی 2025اسلام آباد: (سچ خبریں) پیپلز پارٹی کے چیئرمین اور سابق وزیر خارجہ
جولائی
غیر قانونی تارکین وطن ایک بار پھر ٹرمپ کے عتاب کا شکار
?️ 19 نومبر 2024سچ خبریں:امریکہ کے منتخب صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے غیر قانونی تارکین وطن
نومبر
اسرائیل کو اسلحے کی فروخت پر پابندی، پاکستان کی قرارداد پر اقوام متحدہ میں بحث ہو گی
?️ 4 اپریل 2024اسلام آباد: (سچ خبریں) اقوام متحدہ کی انسانی حقوق کونسل میں جمعے
اپریل
لوئر دیر: دہشت گردوں کےخلاف آپریشن میں 7 ایف سی اہلکار شہید، 13 زخمی
?️ 12 ستمبر 2025لوئر دیر: (سچ خبریں) لوئر دیر کے علاقے میدان، سر بانڈہ میں
ستمبر