?️
اسلام آباد:(سچ خبریں) الیکشن کمیشن آف پاکستان کی پنجاب میں 14 مئی کو انتخابات کے فیصلے کے خلاف دائر اپیل کو 15 مئی کو سماعت کے لیے مقرر کردیا گیا۔
چیف جسٹس کی سربراہی میں جسٹس اعجاز الاحسن اور جسٹس منیب اختر پر مشتمل تین رکنی بینچ کیس کی سماعت کرے گا۔
یاد رہے کہ 4 اپریل کو عدالت عظمیٰ نے الیکشن کمیشن کا 22 مارچ کا فیصلہ کالعدم قرار دیتے ہوئے صوبہ پنجاب میں 14 مئی کو الیکشن کرانے کا حکم دیا تھا۔
سپریم کورٹ نے اپنے فیصلے میں وفاقی حکومت کو فنڈز کی مد میں 10 اپریل تک 21 ارب جاری کرنے کا حکم دیتے ہوئے کہا تھا کہ الیکشن کمیشن 11 اپریل کو فنڈ کی وصولی کی رپورٹ سپریم کورٹ میں جمع کروائے، فنڈز نہ جمع کروانے کی صورت میں عدالت مناسب حکم جاری کرے گی۔
فیصلے میں کہا گیا تھا کہ وفاقی حکومت، اپنے آئینی فرائض کی ادائیگی میں، پنجاب اور خیبرپختونخوا میں انتخابات کے انعقاد کے لیے الیکشن کمیشن کو ضرورت کے مطابق امداد اور تعاون فراہم کرنے کی پابند ہے۔
عدالت عظمیٰ نے الیکشن کمیشن کو ہدایت کی تھی کہ وہ پہلے پنجاب اسمبلی کے انتخابات کے لیے فنڈز استعمال کرے اور مزید کہا کہ اگر بعد میں خیبر پختونخوا میں انتخابات کے لیے فنڈز میں کمی ہوئی تو عدالت مناسب فیصلہ جاری کرے گی۔
عدالت نے پنجاب کی نگراں حکومت، انسپکٹر جنرل اور چیف سیکریٹری (سیکیورٹی) کو 10 اپریل تک انتخابی ادارے کو سیکیورٹی پلان فراہم کرنے کی بھی ہدایت کی تھی۔
فیصلے میں کہا گیا تھا کہ حکومت پنجاب اور اس کے تمام عہدیداروں کو بھی اس صورت میں آئینی اور قانونی فرائض اور ذمہ داریوں کی ادائیگی کے سلسلے میں عام انتخابات کے انعقاد کے لیے کمیشن کو فعال طور پر ہر طرح کی مدد اور تعاون فراہم کرنا چاہیے۔
واضح رہے کہ 23 مارچ کو الیکشن کمیشن آف پاکستان نے 30 اپریل بروز اتوار کو شیڈول پنجاب اسمبلی کے عام انتخابات کو ملتوی کردیا تھا۔
الیکشن کمیشن آف پاکستان کے جاری بیان میں کہا گیا تھا کہ پنجاب اسمبلی کے انتخابات 8 اکتوبر کو ہوں گے، آئین کے تحت حاصل اختیارات استعمال کرتے ہوئے انتخابی شیڈول واپس لیا گیا اور نیا شیڈول بعد میں جاری کیا جائے گا۔
بیان میں کہا گیا تھا کہ اس وقت فی پولنگ اسٹیشن اوسطاً صرف ایک سیکیورٹی اہلکار دستیاب ہے جبکہ پولیس اہلکاروں کی بڑے پیمانے پر کمی اور ’اسٹیٹک فورس‘ کے طور پر فوجی اہلکاروں کی عدم فراہمی کی وجہ سے الیکشن ملتوی کرنے کا فیصلہ کیا گیا۔
فیصلے کی تفصیل کے حوالے سے کہا گیا تھا کہ اس صورت حال میں الیکشن کمیشن انتخابی مواد، پولنگ کے عملے، ووٹرز اور امیدواروں کی حفاظت یقینی بنانے کے لیے متبادل انتظامات کرنے سے قاصر ہے۔
مزید کہا گیا تھا کہ وزارت خزانہ نے ’ملک میں غیر معمولی معاشی بحران کی وجہ سے فنڈز جاری کرنے میں ناکامی‘ کا اظہار کیا ہے۔
الیکشن کمیشن نے نشان دہی کی تھی کہ الیکشن کمیشن کی کوششوں کے باوجود ایگزیکٹو اتھارٹیز، وفاقی اور صوبائی حکومتیں پنجاب میں آزادانہ، منصفانہ اور شفاف انتخابات کے انعقاد میں انتخابی ادارے کے ساتھ تعاون کرنے کے قابل نہیں تھیں۔
الیکشن کمیشن کے اس فیصلے کے ردعمل میں 23 مارچ کو پی ٹی آئی نے پنجاب میں 30 اپریل کو ہونے والے انتخابات ملتوی کرنے کا الیکشن کمیشن کا فیصلہ سپریم کورٹ میں چیلنج کرنے کا اعلان کیا تھا۔
بعد ازاں 25 مارچ کو پی ٹی آئی نے الیکشن کمیشن کی جانب سے پنجاب اسمبلی کے انتخابات ملتوی کرنے کے فیصلے کو کالعدم قرار دینے کے لیے سپریم کورٹ میں درخواست دائر کر دی تھی۔
جس پر 4 اپریل کو سماعت کرتے ہوئے عدالت نے فیصلے میں کہا تھا کہ الیکشن کمیشن 90 دن سے آگے نہیں جاسکتا، الیکشن کمیشن کے غیر قانونی فیصلے سے 13 دن ضائع ہوئے، آئین اور قانون الیکشن کمیشن کو تاریخ میں توسیع کی اجازت نہیں دیتا، الیکشن کمیشن نے انتخابات کی 8 اکتوبر کی تاریخ دے کر دائرہ اختیار سے تجاوز کیا۔
فیصلے میں کہا گیا کہ صدر مملکت کی دی گئی تاریخ کا فیصلہ بحال کیا جاتا ہے، 30 اپریل سے 15 مئی کے درمیان صوبائی انتخابات کرائے جائیں۔
خیال رہے کہ مارچ میں ہی الیکشن کمیشن نے 30 اپریل بروز اتوار پنجاب میں صوبائی اسمبلی کے عام انتخابات پر پولنگ کے لیے شیڈول جاری کر دیا تھا۔
3 مارچ کو صدر مملکت ڈاکٹر عارف علوی نے پنجاب اسمبلی کے عام انتخابات 30 اپریل بروز اتوار کرانے کی تجویز دی تھی۔
ایوان صدر کی جانب سے جاری بیان میں کہا گیا تھا کہ صدر مملکت نے تاریخ کا اعلان الیکشن کمیشن کی جانب سے تجویز کردہ تاریخوں پر غور کرنے کے بعد کیا۔
یاد رہے کہ سپریم کورٹ نے اپنے فیصلے میں کہا تھا کہ پنجاب اور خیبر پختونخوا اسمبلیوں کے انتخابات 90 روز کی مقررہ مدت میں کرائے جائیں، تاہم عدالت عظمیٰ نے الیکشن کمیشن کو اجازت دی تھی کہ وہ پولنگ کی ایسی تاریخ تجویز کرے جو کہ کسی بھی عملی مشکل کی صورت میں 90 روز کی آخری تاریخ سے ’کم سے کم‘ تاخیر کا شکار ہو۔


مشہور خبریں۔
کسان اتحاد کا آئندہ سال گندم کی کاشت میں بڑی کمی لانے کا اعلان
?️ 23 اپریل 2025لاہور: (سچ خبریں) پاکستان کسان اتحاد کے چیئرمین خالد حسین کھوکھر نے
اپریل
غزہ میں امدادی کارکنوں کے حالات ناقابل برداشت
?️ 26 جون 2024سچ خبریں: اقوام متحدہ کے سیکرٹری جنرل کے ترجمان اسٹیفن دوجارک نے
جون
اسرائیلی خاتون کی لاش پر صہیونیوں کا جنجال
?️ 21 فروری 2025سچ خبریں: صیہونی حکومت نے دعویٰ کیا کہ جمعرات کے روز تحریک حماس
فروری
حماس کے سربراہ کی حسن نصراللہ کے ساتھ ملاقات
?️ 29 جون 2021سچ خبریں:لبنان کے دورے کے دوران حماس کے پولیٹیکل بیورو کے سربراہ
جون
پاکستان اسرائیل کو تسلیم نہیں کررہا، ہمارے خلاف سازش ہو رہی ہے، ایاز صادق
?️ 4 اکتوبر 2025اسلام آباد: (سچ خبریں) قائمقام صدر اور اسپیکر قومی اسمبلی سردار ایاز
اکتوبر
شمال شام میں فوجی ہوائی اڈے پر اسرائیلی فضائی حملے پر ٹرمپ کا ردعمل
?️ 20 اگست 2026سچ خبریں: امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے صیہونی حکومت کے ٹیلی ویژن
اگست
نیتن یاہو کے جھوٹ کیس پر ہاریٹز کی رپورٹ؛ کیا ہم فتح سے ایک قدم دور تھے؟
?️ 12 اگست 2026سچ خبریں: مقبوضہ یروشلم کہ اسرائیلی اخبار ہارٹز نے ایک تفصیلی رپورٹ
اگست
فوجی ماہر: سوڈان کی جنگ "الفشر” کی طویل مدتی/اسٹریٹیجک اہمیت ہے
?️ 2 نومبر 2025سچ خبریں: عسکری اور تزویراتی امور کے ایک ماہر نے تیز رد
نومبر