نیب ترامیم کیس: سپریم کورٹ نے 16 مئی کو درخواست پر سماعت مقرر کردی

?️

اسلام آباد:(سچ خبریں) سپریم کورٹ نے پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) چیئرمین عمران خان کی طرف سے قومی احتساب بیورو (نیب) ترامیم کے خلاف دائر درخواست 16 مئی کو سماعت کے لیے مقرر کردی۔

چیف جسٹس پاکستان عمر عطا بندیال کی سربراہی میں تین رکنی بینچ نیب ترامیم کیس کی سماعت کرے گا جس میں جسٹس اعجاز الاحسن اور جسٹس منصور علی شاہ بھی شامل ہوں گے۔

خیال رہے کہ سپریم کورٹ میں نیب ترامیم کیس کی گزشتہ سماعت 16 مارچ کو ہوئی تھی۔

گزشتہ سماعت کے دوران سپریم کورٹ نے پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) چیئرمین عمران خان کی طرف سے ترامیم کے خلاف دائر درخواست میں قومی احتساب بیورو (نیب) سے آج (16 مارچ) تک برآمد کی گئی رقم کی تفصیلات طلب کر لیں تھیں۔سپریم کورٹ میں عمران خان کی نیب ترامیم کے خلاف درخواست پر چیف جسٹس پاکستان جسٹس عمر عطا بندیال کی زیر سربراہی تین رکنی خصوصی بینچ نے مقدمے کی سماعت کی تھی۔

سپریم کورٹ نے تفصیلات طلب کرتے ہوئے کہا تھا کہ بتایا جائے اب تک نیب سے کتنی ریکوری ہوئی اور پیسہ کہاں خرچ کیا گیا؟ نیب نے کس صوبے اور وفاقی حکومت کو کتنا پیسہ جمع کرایا؟

سپریم کورٹ نے سرکاری اداروں، بینکوں اور عوام کو واپس کیے گئے پیسے کی تفصیلات بھی فراہم کرنے کا حکم دیا تھا۔ ‎

دوران سماعت نیب پراسیکیوٹر نے عدالت کو بتایا کہ حکومت یا ادارے کی خورد برد کردہ رقم ریکوری کے بعد اسے ہی دی جاتی ہے۔

چیف جسٹس نے احکامات دیے تھے کہ تمام تفصیلات آئندہ سماعت تک جمع کرائیں پھر جائزہ لیں گے۔

چیف جسٹس عمر عطا بندیال نے ریمارکس دیے تھے کہ یہ کہا جاتا ہے کہ نیب نے گزشتہ سالوں میں ریکارڈ ریکوریاں کی ہیں، نیب ترامیم کے بعد اب بے نامی اور آمدن سے زائد اثاثے ثابت کرنا نیب کی ذمہ داری ہے۔

انہوں نے کہا تھا کہ نیب ترامیم کے مطابق بے نامی کی مالی ادائیگی کا ثبوت بھی نیب نے دینا ہے۔

اس موقع پر جسٹس اعجازالاحسن نے ریمارکس دیے تھے کہ بے نامی جائیدادیں بنانے والے کی مالی ادائیگی کا ریکارڈ ثابت کرنے ہی کے لیے کیس بنایا جاتا ہے۔

ان کا مزید کہنا تھا کہ نیب قانون کے مطابق بے نامی دار میں صرف خاوند یا اہلیہ، رشتہ دار یا ملازم ہو سکتے ہیں، نیب ترامیم نے قانون کا دائرہ بڑھانے کے بجائے محدود کر دیا ہے۔

جسٹس اعجازالاحسن نے ریمارکس دیے تھےکہ پراسیکیوشن کسی صورت بے نامی پراپرٹیز کو ثابت نہیں کر سکتی جب تک متاثرہ فریق ثبوت نہ دے۔

وفاقی حکومت کے وکیل مخدوم علی خان نے عدالت کو بتایا تھا کہ اس ترمیم کا مقصد یہ ہے کہ نیب کسی پر بے وجہ الزامات عائد کر کے کارروائی نہ کرے۔

انہوں نے دلائل دیے تھے کہ ترامیم کے بعد نیب کو کسی پر الزامات عائد کرنے سے پہلے ٹھوس ثبوت دینا ہوں گے۔

بعد ازاں عدالت نے کیس کی سماعت 4 اپریل تک ملتوی کر دی تھی۔

خیال رہے کہ رواں سال جون میں مسلم لیگ (ن) کی زیر قیادت اتحادی حکومت نے نیب آرڈیننس میں 27 اہم ترامیم متعارف کروائی تھیں لیکن صدر مملکت ڈاکٹر عارف علوی نے ان کی منظوری نہیں دی تھی، تاہم اس بل کو پارلیمنٹ کے مشترکہ اجلاس میں منظور کیا گیا اور بعد میں اسے نوٹیفائی کیا گیا تھا۔

نیب (دوسری ترمیم) بل 2021 میں کہا گیا ہے کہ نیب کا ڈپٹی چیئرمین، جو وفاقی حکومت کی جانب سے مقرر کیا جائے گا، چیئرمین کی مدت ملازمت پوری ہونے کے بعد بیورو کا قائم مقام چیئرمین بن جائے گا، بل میں چیئرمین نیب اور بیورو کے پراسیکیوٹر جنرل کی 4 سال کی مدت بھی کم کر کے 3 سال کردی گئی ہے۔

قانون کی منظوری کے بعد نیب وفاقی، صوبائی یا مقامی ٹیکس کے معاملات پر کارروائی نہیں کر سکے گا، مزید یہ کہ ملک میں کام کرنے والے ریگولیٹری اداروں کو بھی نیب کے دائرہ کار سے باہر نکال دیا گیا ہے۔

بل میں کہا گیا ہے کہ اس آرڈیننس کے تحت افراد یا لین دین سے متعلق زیر التوا تمام پوچھ گچھ، تحقیقات، ٹرائلز یا کارروائیاں متعلقہ قوانین کے تحت متعلقہ حکام، محکموں اور عدالتوں کو منتقل کی جائیں گی، بل نے احتساب عدالتوں کے ججوں کے لیے 3 سال کی مدت بھی مقرر کی ہے، یہ عدالتوں کو ایک سال کے اندر کیس کا فیصلہ کرنے کا پابند بھی بنائے گا۔

مجوزہ قانون کے تحت نیب کو پابند کیا گیا ہے کہ وہ ملزم کی گرفتاری سے قبل اس کے خلاف شواہد کی دستیابی کو یقینی بنائے، بل میں شامل کی گئی ایک اہم ترمیم کے مطابق یہ ایکٹ قومی احتساب آرڈیننس 1999 کے شروع ہونے اور اس کے بعد سے نافذ سمجھا جائے گا۔

مشہور خبریں۔

روس اور یوکرین کے درمیان مضحکہ خیز جنگ ختم ہونی چاہیے: ٹرمپ

?️ 21 ستمبر 2026سچ خبریں:امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے روس اور یوکرین کے درمیان جنگ

کیا یورپ بحرانوں کی دلدل سے نکل پائے گا؟

?️ 16 جنوری 2023سچ خبریں:تقریباً ایک سال سے یوکرین کے بحران سے متاثر سبز براعظم

حریر امریکی اڈے پر حملہ کس نے کیا ؟

?️ 10 نومبر 2023سچ خبریں:عراقی اسلامی مزاحمت نے امریکی قابضین کے خلاف حملوں کے تسلسل

وزیراعظم کل 3 روزہ دورے پر سعودی عرب روانہ ہوں گے

?️ 22 اکتوبر 2021اسلام آباد (سچ خبریں) وزیراعظم عمران خان کل تین روزہ دورے پر

علیمہ خان کے 7 ویں مرتبہ ناقابل ضمانت وارنٹ گرفتاری جاری

?️ 3 نومبر 2025اسلام آباد (سچ خبریں) انسداد دہشت گردی عدالت نے بانی پی ٹی

چیف جسٹس کی ماہانہ تنخواہ بڑھا کر 12 لاکھ 29 ہزار 189 روپے مقرر

?️ 4 جولائی 2023اسلام آباد: (سچ خبریں) قائم مقام صدر اور چیئرمین سینیٹ صادق سنجرانی

صیہونی حکومت کے ٹھکانوں پر حزب اللہ کے میزائل اور ڈرون حملوں کا تسلسل

?️ 5 مئی 2026سچ خبریں: حزب اللہ تحریک نے صیہونی حکومت کے ٹھکانوں کے خلاف

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے