پنجاب میں گورننس کا بحران سنگین ہوگیا ہے

وزیر اعلی

?️

لاہور(سچ خبریں)  پنجاب میں گورننس کا بحران سنگین ہوگیا ہے کیوں کہ صوبائی حکومت اپنی بیوروکریٹک طاقت کو کم استعمال کرتے ہوئے سینیئر افسران جن کی پہلے ہی کمی ہے انہیں جونیئر عہدوں پر تعینات کر رہی ہے انتہائی کمزور عذر پر جلد بازی میں تبادلے سے افسران میں عہدوں کی مدت کے حوالے سے عدم تحفظ کا احساس پیدا ہورہا ہے۔

ڈان اخبار کی رپورٹ کے مطابق اس وقت گریڈ 20 کے 14 انتظامی سیکریٹریوں کے عہدے گریڈ 21 کے افسران نے سنبھالے ہوئے ہیں جبکہ سینیئر عہدے خالی پڑے ہیں جن میں سے کچھ کو اضافی چارج دے کر چلایا جارہا ہے۔

دوسری جانب پنجاب میں بورڈ آف ریونیو (ایس ایم بی آر) کے سینیئر رکن کا گریڈ 21 کا عہدہ گریڈ 22 کے افسر بابر حیات تارڑ نے سنبھالا ہوا ہے۔

پاکستان تحریک انصاف کی پنجاب حکومت اپنے قیام سے ہی گورننس کے مسائل پر قابو پانے کے لیے جدوجہد کر رہی ہے جس کی بنیادی وجہ قومی احتساب بیورو (نیب) کی کارروائیوں کی وجہ سے سول بیوروکریسی کا اقدامات سے گریز ہے۔اس صورتحال سے انتظامی سیکریٹریوں کی اسامیوں پر تعیناتی کے منتظر کئی افسران مایوسی کا شکار ہیں۔

تعیناتی کے منتظر ایک سینیئر افسر نے ڈان سے بات کرتے ہوئے کہا کہ گریڈ 21 کے افسران کو وفاقی حکومت کے پاس جانے کی ضرورت ہے لیکن وہ پنجاب کے دارالحکومت میں جو اختیارات اور مراعات حاصل کر رہے ہیں ان کے لیے حکومت پنجاب سے چپکے رہتے ہیں۔

ایک افسر نے بتایا کہ کئی سینئر عہدوں کو اضافی چارج کی بنیاد پر چلایا جا رہا ہے جبکہ تعیناتی کے اہل افسران پہلے ہی اہم عہدوں پر فائز ہیں۔

ذرائع کا کہنا ہے کہ وزیراعلیٰ عثمان بزدار کی انتظامیہ سینئر بیوروکریسی کا اعتماد بحال کرنے کے لیے مسلسل کوششیں کر رہی ہے۔

تاہم افرادی سطح پر افسران میں بڑے مالی اور انتظامی فیصلوں کے حوالے سے حکومتی یقین دہانیوں پر اعتماد کا فقدان ہے جن پر نیب کے نوٹسز آسکتے ہیں۔

ذرائع نے کہا کہ سینیئر عہدوں پر تعینات بیوروکریٹس مسلسل اہم فیصلوں کی ذمہ داریاں صوبائی کابینہ پر ڈال رہے ہیں کیوں کہ بڑے ایجنڈا آئٹمز کے ساتھ تقریباً 50 اجلاس ہوچکے ہیں۔

ایک افسر نے ڈان کو بتایا کہ بغیر کسی معقول وجہ کے اچانک تبادلوں کے خوف سے سینئر افسران بھی دلچسپی کھو دیتے ہیں اور اپنے متعلقہ محکموں میں مسائل کی گہرائی میں جانے سے گریز کرتے ہیں۔

حال ہی میں وفاقی حکومت نے روٹیشن پالیسی کے تحت پنجاب سے 4 سینیئر افسران واپس لیے ہیں اور سیکریٹری خزانہ کا اہم عہدہ خالی رہ گیا ہے، اسی طرح پنجاب منیجمنٹ اینڈ پروفیشنل ڈیولپمنٹ (ایم پی ڈی ڈی) کے بھی اہم عہدے خالی ہوگئے ہیں۔

دوسری جانب اسپیشل سیکریٹریز کی کم از کم تین اسامیاں دو اسپیشل سیکریٹری ٹو چیف منسٹر اور نئے بنائے گئے اسپیشل سیکریٹری ٹو سی ایم آفس کا عہدہ بھی خالی پڑا ہے۔

متعدد عہدوں پر اعلیٰ گریڈ کے افسران کی تعیناتی کے بارے میں جب سیکریٹری پنجاب سے سوال کیا گیا تو انہوں نے جواب دینے سے گریز کیا۔

مشہور خبریں۔

نیب رضاکارانہ واپسی کے تحت طے شدہ رقم میں اضافہ نہیں کر سکتا، سپریم کورٹ

?️ 19 اکتوبر 2023اسلام آباد:(سچ خبریں) سپریم کورٹ نے کہا ہے کہ قومی احتساب بیورو

امریکہ کی لبنان کو اسرائیل کے ساتھ سمجھوتہ کے جال میں گھسیٹنے کی کوشش

?️ 30 مارچ 2025سچ خبریں: لبنان کی ترقی پسند سوشلسٹ پارٹی کے سابق سربراہ اور

واٹس ایپ نے تصویروں کے لئے نیا فیچر متعارف کروادیا

?️ 26 جولائی 2021سان فرانسسکو(سچ خبریں) دنیا بھر میں پیغام رسانی کیلئے استعمال کی جانے

سندھ حکومت نے غریب کا جینا مشکل کر دیا ہے: فرخ حبیب

?️ 5 نومبر 2021اسلام آباد(سچ خبریں) وزیرِ مملکت برائے اطلاعات فرخ حبیب کا کہنا ہے

سوریہ کی تقسیم تل ابیب کی پہلی ترجیح کب ہے؟

?️ 29 اگست 2025سچ خبریں: لبنانی اخبار کے ایڈیٹر ابراہیم امین نے اپنے ایک مضمون میں

وسیع معلومات کا خزانہ ہیکرز کے ہاتھوں لگا؛صیہونی میڈیا کا اعتراف

?️ 8 جنوری 2026سچ خبریں:صیہونی حکومتی میڈیا نے اعتراف کیا ہے کہ تین سرکردہ صیہونی

قطر گیٹ اسکینڈل؛ کیا دوحہ کے ڈالرز نے صیہونی پالیسیوں کو خرید لیا؟  

?️ 6 اپریل 2025 سچ خبریں:قطر گیٹ کا معاملہ محض ایک مالی اسکینڈل سے آگے

سائنسدانوں  کا ماں کے دودھ کا متبادل تیار کرنے کا دعویٰ

?️ 5 جون 2021لندن (سچ خبریں )بایو لاجسٹ ڈاکٹر اسٹرک لینڈ (Dr Leila Strickland) کی

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے