پنجاب میں چینی کافی مقدار میں موجود ہے

?️

لاہور(سچ خبریں) تفصیلات کے مطابق چینی کی موجودہ صورتحال کے بارے میں پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے معاون خصوصی برائے اطلاعات اور ترجمان حکومت پنجاب حسان خاور نے کہا کہ سندھ حکومت کی طرف سے گنے کے کرشنگ سیزن کا آغاز خوش آئند ہے- دیر آید درست آید- سندھ نے اب ارادہ کر ہی لیا ہے تو اس راہ میں روڑے نہ اٹکائے۔

پنجاب میں کرشنگ سیزن کے آغازکا پہلے ہی اعلان کیا جا چکا ہے۔ جنوبی پنجاب میں کرشنگ سیزن 15 نومبر سے جبکہ صوبے کے باقی حصوں میں 20 نومبر سے شروع ہو رہا ہے۔ حسان خاورنے چینی کی قلت یا عدم دستیابی کے بارے میں افواہوں کی سختی سے تردید کی اور بتایا کہ پنجاب میں گھریلو صارفین کی چینی کی روزانہ کھپت 28 ہزار ٹن ہے۔ ہمارے پاس اگلے 15 دن کی ضروریات کے لئے اس سے دوگنا مقدار میں چینی کا سٹاک موجود ہے۔

انہو ں نے بتایا کہ اس وقت مارکیٹ میں 46 ہزار ٹن چینی کا پرائیویٹ سٹاک موجود ہے۔ تقریبا ایک لاکھ ٹن کا سٹاک حکومت پنجاب اور پنجاب میں واقع یوٹیلیٹی سٹوروں پر موجود ہے۔کچھ سٹاک ڈپٹی کمشنروں کی زیرنگرانی اضلاع کے گوداموں میں موجود ہے۔ مزید 40 ہزار ٹن بحری جہاز کے ذریعے پاکستان پہنچ رہا ہے۔ انہوں نے بتایا کہ وفاقی حکومت نے ڈیڑھ لاکھ ٹن چینی درآمد کی ہے، حکومت پنجاب نے بھی ڈیڑھ لاکھ ٹن چینی امپورٹ کی ہے جس میں سے 80 ہزار ٹن فروخت کی جا چکی ہے۔
وفاقی حکومت اور پنجاب حکومت نے چینی پر پانچ ارب روپے سبسڈی بھی دی ہے۔ حسان خاورنے بتایا کہ حکومت پنجاب مقرر نرخوں پر چینی کی دستیابی یقینی بنانے کے لئے خصوصی مہم چلا رہی ہے۔ گزشتہ تین دن کے دوران 1933 مقامات کا معائنہ کیا گیا۔ ذخیرہ اندوزی کی 1738 شکایات کو چیک کیا گیا، 18 ایف آئی آرز درج کروائی گئیں، 63 گودام سربمہر کئے گئے، چینی کے21 ہزار تھیلے قبضے میں لئے گئے اور ملوں کو ساڑھے تین لاکھ روپے جرمانہ کیا گیا۔

انہوں نے کہا کہ شوگر ملوں کا کیس عدالت میں زیر سماعت ہے۔ عدالت کا حکم امتناعی ہے کہ حکومت شوگر ملوں سے زبردستی سٹاک نہیں اٹھا سکتی۔ اس لیے ہم عدالت کے احکامات کی روشنی اور قانون کے دائرے میں رہ کر تمام کاروائی کر رہے ہیں۔ ترجمان حکومت پنجاب نے بتایا کہ ہماری انفورسمنٹ حکمت عملی کے تین پہلو ہیں۔ہم شوگر ملوں سے بات کر رہے ہیں۔ چند شوگر ملوں نے اس امر پر رضامندی ظاہر کی ہے کہ وہ رضاکارانہ طور پر اپنا اسٹاک کنٹرولڈ پرائس ایکس مل 85 روپے کلو کے حساب سے حکومت کو دیں گی۔

بعض ملوں کے ساتھ ہم مانیٹرڈ سیلز میں جا رہے ہیں یعنی ہم ڈیلروں کو ان شوگر ملوں کے پاس لے کر جا رہے ہیں تاکہ وہ کنٹرول ریٹ پر سٹاک اٹھائیں اور چینی مارکیٹ میں آئے۔اس کے علاوہ ذخیرہ اندوزی کے خلاف بھی ہمارا آپریشن جاری ہے۔ حسان خاور نے کہا کہ ذخیرہ اندوزی اور بلیک مارکیٹنگ کرنے والے یہ افواہ پھیلا رہے ہیں کہ درآمد شدہ چینی کی مٹھاس کم ہے۔
انہوں نے کہا کہ یہ بات سراسر غلط ہے، فرق صرف یہ ہے کہ درآمد کی جانے والی چینی باریک جبکہ مقامی چینی کا دانہ موٹا ہے۔ دونوں قسم کی چینی کا ذائقہ بالکل ایک جیسا ہے۔ درآمدی چینی پورے پنجاب میں 90 روپے کلو کے حساب سے دستیاب ہے۔ شہری درآمد شدہ چینی خریدیں اور بلیک مارکیٹنگ کا راستہ روکیں۔درآمد شدہ چینی خریدیں چوربازاری اور ذخیرہ اندوزی کا دروازہ بند ہو جائے گا۔ ترجمان حکومت پنجاب نے کہا کہ حکومت جب بھی عوام کے مفاد کے تحفظ کے لئے سٹیٹس کو کے حامیوں اور مافیا کھڑی ہوتی ہے تو اسے ایسے مسائل کا سامنا کرنا پڑتا ہے- حکومت لوگوں کے مسائل حل کر رہی ہے اور چینی کی قیمت کنٹرول کرنے کے لئے تمام ضروری اقدامات کر رہی ہے۔

مشہور خبریں۔

پاکستان نے افغانستان کے الزامات کو مسترد کر دیا

?️ 16 جولائی 2021اسلام آباد (سچ خبریں) پاکستانی دفتر خارجہ نے افغان نائب صدر امر

ابراہیم رئیسی کا دورہ دمشق

?️ 4 مئی 2023سچ خبریں:شام کے ساتھ علاقائی اور عرب سیاسی ممالک کے درمیان تعلقات

کلبھوشن یادیو کا کیس مسلم لیگ ن نے بگاڑا: وزیر خارجہ

?️ 13 جون 2021ملتان(سچ خبریں)وزیر خارجہ شاہ محمود قریشی نے اپوزیشن کو تنقید کا نشانہ

ڈگری کیس: جسٹس طارق جہانگیری نے کیس قابل سماعت ہونے کا فیصلہ وفاقی آئینی میں چیلنج کردیا

?️ 17 دسمبر 2025اسلام آباد: (سچ خبریں) اسلام آباد ہائیکورٹ کے جسٹس طارق جہانگیری نے

ٹرمپ کے منصوبے پر عمل درآمد مشکل ہے : صہیونی ذرائع 

?️ 24 دسمبر 2025سچ خبریں: صیہونی میڈیا کے حوالے سے شائع ہونے والی اطلاعات کے مطابق،

امریکہ کو چین سے مقابلے کے لیے کس چیز کی ضرورت ہے؟

?️ 14 اگست 2023سچ خبریں:میڈیا اور سیاسی حلقے ان دنوں ریاض اور تل ابیب کے

صدر کے استعفیٰ کے بعد عراق میں سیاسی تبدیلیاں

?️ 14 جون 2022سچ خبریں:   اتوار کی رات 22 جون کو عراق میں صدر دھڑے

یمنیوں نے صیہونی جہاز رانی کے نظام کے ساتھ کیا کیا؟

?️ 21 نومبر 2023سچ خبریں: بحیرہ احمر میں صیہونی جہاز کے قبضے سے اس حکومت

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے