?️
لاہور: (سچ خبریں) پنجاب کے پراسیکیوٹر جنرل نے تعلیمی اداروں میں جنسی تشدد کی روک تھام کے لیے اساتذہ اور عملے کی جانچ کے لیے ایسے میکانزم کا مطالبہ کیا ہے جس سے یہ معلوم کیا جا سکے کہ آیا ان کا کوئی جنسی جرائم کا ریکارڈ موجود ہے یا نہیں۔
تفصیلات کے مطابق یہ تجویز منگل کو پنجاب کے پراسیکیوٹر جنرل سید فرہاد علی شاہ کی جانب سے صوبائی پبلک پراسیکیوشن ڈیپارٹمنٹ کے سیکریٹری کو لکھے گئے ایک خط میں پیش کی گئی۔
یہ خط وفاقی وزارتِ قانون کو بھیجا جائے گا جس میں کہا گیا کہ نادرا کی جانب سے ’جنسی جرائم پیشہ افراد سے متعلق ملک گیر سطح پر مرتب شدہ ڈیٹا بیس، جنسی تشدد کے خلاف جنگ اور معاشرے کے کمزور ترین افراد کے تحفظ کے لیے ایک طاقتور ذریعہ ہے۔
پراسیکیوٹر جنرل سید فرہاد علی شاہ نے نشاندہی کی کہ تعلیمی اداروں کے تحفظ میں ایک انتہائی اہم خلا موجود ہے۔
ان کا کہنا تھا کہ اس ڈیٹا بیس کی مکمل صلاحیت کو روک تھام کے اقدامات کے طور پر استعمال نہیں کیا جا رہا، خصوصاً ایسے ماحول میں جہاں بچے اور نوجوان زیادہ متاثر ہونے کے خطرے سے دوچار ہوتے ہیں۔
پراسیکیوٹر جنرل نے وزارتِ قانون و انصاف سے درخواست کی کہ ایسا باضابطہ میکانزم تیار اور نوٹیفائی کیا جائے جس کے تحت تمام سرکاری و نجی تعلیمی اداروں کی ہائرنگ اتھارٹی بھرتی کے عمل کو مکمل کرنے سے قبل نادرا کے زیرِ انتظام ’جنسی جرائم پیشہ افراد‘ کے حوالے سے کردار کی تصدیق لازمی طور پر کر سکیں۔
خط میں مزید کہا گیا کہ یہ میکانزم تعلیمی اداروں کے موجودہ اساتذہ/ تدریسی اور غیر تدریسی عملے کی تصدیق کو بھی ممکن بنائے۔
انہوں نے مزید زور دیا کہ وزارتِ قانون اس تصدیق کو لازمی اور بھرتی کے عمل کا ناقابلِ مذاکرات حصہ قرار دے۔
اس ضمن میں وفاقی و صوبائی تعلیم کے محکموں کے ساتھ ساتھ جامعات، کالجوں اور اسکولوں کی انتظامیہ کو واضح ہدایات جاری کی جائیں۔
پراسیکیوٹر جنرل نے انسدادِ ریپ (سیکس آفینڈرز رجسٹر) رولز 2023 کے اجراء کو سراہا جو انسدادِ ریپ (انویسٹی گیشن اینڈ ٹرائل) ایکٹ 2021 کے تحت نافذ کیے گئے۔
گزشتہ دہائیوں میں پاکستان کے انسدادِ ریپ قوانین میں مختلف اصلاحات کے بعد انسدادِ ریپ (انویسٹی گیشن اینڈ ٹرائل) ایکٹ 2021 کو متاثرین کے لیے ایک بڑا سنگِ میل قرار دیا گیا تھا۔
اس ایکٹ نے ریپ کی تعریف کو وسیع کیا، متاثرہ افراد کو جلد انصاف کی فراہمی کے لیے مقررہ وقت میں ٹرائل یقینی بنانے کے اقدامات متعارف کروائے اور گواہان کے تحفظ کی دفعات شامل کیں۔
پراسیکیوٹر جنرل نے لکھا (تعلیمی ادارے، اسکول، کالج اور یونیورسٹیاں) سیکھنے اور نشوونما کے لیے محفوظ مقامات ہونے چاہئیں۔
انہوں نے نوٹ کیا کہ اساتذہ، تدریسی عملے اور غیر تدریسی عملے کی بھرتی اس وقت تعلیمی قابلیت، پیشہ وارانہ تجربے اور بیک گراؤنڈ چیک کی بنیاد پر ہوتی ہے، جو جنسی جرائم کی تاریخ کو ظاہر نہیں کر سکتے۔
انہوں نے خبردار کیا کہ یہ ایک خطرناک خلا چھوڑ دیتا ہے جس کے ذریعے کوئی سزا یافتہ جنسی مجرم طلبہ پر اختیار اور بھروسے والی پوزیشن میں ملازمت حاصل کر سکتا ہے، جس سے پورا ادارہ خطرے میں پڑ سکتا ہے۔
پراسیکیوٹر جنرل نے مؤقف اختیار کیا کہ یہ تعلیمی اداروں کی جانب سے طلبہ کے لیے نمایاں طور پر محفوظ ماحول پیدا کرے گی، جو انسدادِ ریپ قوانین کے مقاصد اور روح سے مکمل ہم آہنگ ہے۔


مشہور خبریں۔
امریکہ پر کتنا قرضہ ہے؟
?️ 19 ستمبر 2023سچ خبریں: امریکی قومی قرضہ پہلی بار 33 ٹریلین ڈالر سے تجاوز
ستمبر
مشہور فلسطینی فٹ بال کھلاڑی صیہونی جارحین کے ہاتھوں شہید
?️ 12 مارچ 2024سچ خبریں: عرب میڈیا نے غزہ کی پٹی پر صیہونی حکومت کے
مارچ
اسرائیلی اور فلسطینی مظاہرین کے مابین شدید جھڑپیں، 100 سے زائد افراد زخمی ہوگئے
?️ 23 اپریل 2021یروشلم (سچ خبریں) رمضان المبارک کے مہینے کے آغاز کے ساتھ ہی
اپریل
امریکہ نے یوکرین حکومت کو کیا بنا دیا ہے؟روس
?️ 19 دسمبر 2024سچ خبریں:روسی وزارت خارجہ کی ترجمان ماریا زاخارووا نے کہا ہے کہ
دسمبر
پٹرولیم کی قیمتوں کے متعلق حکومت نے لیا اہم فیصلہ
?️ 29 اکتوبر 2021اسلام آباد (سچ خبریں) حکومت نے پٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں مزید
اکتوبر
خیبرپختونخوا میں سیکیورٹی فورسز کی کارروائیاں، فتنۃ الخوارج کے 20 دہشتگرد ہلاک
?️ 10 نومبر 2025پشاور: (سچ خبریں) خیبرپختونخوا میں سیکیورٹی فورسز نے 2 مختلف کارروائیوں کے
نومبر
وینزویلا پر حملے میں 150 سے زائد طیاروں نے حصہ لیا:امریکہ
?️ 4 جنوری 2026 وینزویلا پر حملے میں 150 سے زائد طیاروں نے حصہ لیا:امریکہ
جنوری
پٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں کمی ہونے کا امکان ہے
?️ 24 دسمبر 2021لاہور (سچ خبریں)تفصیلات کے مطابق وزرات خزانہ کے ترجمان مزمل اسلم نے
دسمبر