?️
لاہور: (سچ خبریں) لاہور ہائیکورٹ میں سابق وزیر اعلٰی پنجاب پرویز الہٰی پر درج مقدمات کی تفصیلات سے رپورٹ جمع کروادی گئی جس میں کہا گیا ہے کہ پرویز الہٰی کے خلاف 20 مقدمات درج ہیں۔
ڈان نیوز کے مطابق انسپکٹر جنرل پنجاب نے پرویز الہٰی پر درج مقدمات کی تفصیلات سے متعلق رپورٹ عدالت میں جمع کروائی۔
رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ چوہدری پرویز الٰہی کو لاہور میں درج 3 مقدمات میں نامزد کیا گیا اور یہ فیصل آباد کے 4 کیسز میں بھی نامزد ہیں۔
رپورٹ کے مطابق پرویز الٰہی کو راولپنڈی کے 11 مقدمات جبکہ ضلع اٹک کے ایک کیس میں نامزد کیا گیا ہے۔
اس میں کہا گیا ہے کہ پرویز الٰہی کو گوجرانوالہ کے ایک کیس میں بھی نامزد کیا گیا ہے۔
واضح رہے کہ جسٹس امجد رفیق نے آئی جی پنجاب کو کیسز کی تفصیلات فراہم کرنے کا حکم دیا تھا۔
13 مارچ کو سابق وزیر اعلٰی پنجاب نے عدالت میں اپنے خلاف مقدمات کی تفصیلات فراہمی کا مقدمہ درج کیا تھا، اسی روز لاہور ہائی کورٹ کے جسٹس شہباز علی رضوی نے رہنما پاکستان تحریک انصاف کی اپنے خلاف درج مقدمات کی تفصیلات فراہمی کی درخواست پر سماعت کرنے سے معذرت کرلی تھی۔
بعد ازاں 22 اپریل کو لاہور ہائی کورٹ نے سابق وزیر اعلیٰ پنجاب پرویز الہٰی پر درج مقدمات کی تفصیلات لینے کے لیے دائر درخواست کی فائل چیف جسٹس لاہور ہائی کورٹ کو ارسال کردی۔
پرویز الہٰی پی ٹی آئی کے ان متعدد رہنماؤں اور کارکنوں میں شامل ہیں جنہیں 9 مئی کو ہونے والے ہنگاموں کے بعد پی ٹی آئی کی قیادت کے خلاف ریاستی کریک ڈاؤن کے دوران گرفتار کیا گیا تھا۔
انہیں پہلی بار یکم جون کو اینٹی کرپشن اسٹیبلشمنٹ (اے سی ای) نے ان کی لاہور رہائش گاہ کے باہر سے ترقیاتی منصوبوں میں مبینہ طور پر رشوت لینے کے الزام میں گرفتار کیا تھا۔
اگلے ہی روز لاہور کی ایک عدالت نے انہیں مقدمے سے ڈسچارج کر دیا تھا لیکن اے سی ای نے انہیں گوجرانوالہ کے علاقے میں درج اسی طرح کے ایک مقدمے میں دوبارہ گرفتار کر لیا۔
اس کے بعد گوجرانوالہ کی ایک عدالت نے انہیں 3 جون کو فنڈز کے غبن سے متعلق بدعنوانی کے دو مقدمات میں بری کر دیا تھا۔
مقدمے سے ڈسچارج ہونے کے باوجود اینٹی کرپشن اسٹیبلمشنٹ نے پھر پرویز الہٰی کو پنجاب اسمبلی میں ’غیر قانونی بھرتیوں‘ کے الزام میں دوبارہ گرفتار کر لیا۔
9 جون کو ایک خصوصی انسداد بدعنوانی عدالت نے اے سی ای کو غیر قانونی تعیناتیوں کے کیس کا ریکارڈ پیش کرنے کا ’آخری موقع‘ دیا تھا۔
اسی روز قومی احتساب بیورو حرکت میں آیا اور گجرات اور منڈی بہاؤالدین میں ترقیاتی منصوبوں میں مبینہ طور پر غبن میں ملوث ہونے پر صدر پی ٹی آئی کے خلاف ایک اور انکوائری شروع کردی گئی۔
12 جون کو سیشن عدالت نے غبن کیس میں جوڈیشل مجسٹریٹ کی جانب سے پرویز الہٰی کی بریت کے فیصلے کو کالعدم قرار دے دیا تھا جس کے اگلے روز لاہور ہائی کورٹ نے سیشن کورٹ کے مذکورہ حکم کو معطل کردیا اور جوڈیشل مجسٹریٹ نے انہیں دوبارہ جوڈیشل لاک اپ بھیج دیا۔
20 جون کو پرویز الہٰی نے بالآخر لاہور کی انسداد بدعنوانی عدالت سے ریلیف حاصل کر لیا لیکن جیل سے رہا نہ ہو سکے کیونکہ ان کی رہائی کے احکامات جیل انتظامیہ کو نہیں پہنچائے گئے تھے۔
اسی روز ایف آئی اے نے ان پر، ان کے بیٹے مونس الہٰی اور تین دیگر افراد کے خلاف منی لانڈرنگ کے الزام میں مقدمہ درج کیا۔
جس کے اگلے روز ایف آئی اے نے انہیں جیل سے حراست میں لے لیا اور منی لانڈرنگ کیس میں انہیں روزہ جوڈیشل ریمانڈ پر جیل بھیج دیا گیا۔
24 جون کو لاہور کی اسپیشل کورٹ سینٹرل نے سابق وزیراعلیٰ کی منی لانڈرنگ کیس ضمانت منظورکی تھی۔
تاہم 26 جون کو لاہور کی ایک ضلعی عدالت نے منی لانڈرنگ کیس کے سلسلے میں انہیں دوبارہ 14 روزہ جوڈیشل ریمانڈ پر جیل بھیج دیا، جس کے فوراً بعد ایف آئی اے نے انہیں کیمپ جیل کے باہر سے گرفتار کیا۔
پھر 4 جولائی کو لاہور کی انسداد دہشت گردی کی عدالت نے پرویز الہٰی کی بعد از گرفتاری ضمانت کی درخواست کو ان کے گھر پر چھاپہ مارنے والی پولیس ٹیم پر حملہ کرنے کے کیس میں ناقابل سماعت قرار دیتے ہوئے مسترد کر دیا تھا۔
تقریباً ایک ہفتے بعد لاہور ہائی کورٹ نے انسپکٹر جنرل جیل خانہ جات کے آئی جی میاں فاروق کو ہدایت کی کہ وہ جیل میں فراہم کی جانے والی بنیادی سہولیات کے فقدان سے متعلق پی ٹی آئی صدر کی شکایات کا ازالہ کریں۔
12 جولائی کو لاہور کی سیشن عدالت نے غیر وضاحتی بینکنگ ٹرانزیکشنز کے کیس میں پرویز الہٰی کے جسمانی ریمانڈ سے انکار کے خلاف ایف آئی اے کی درخواست خارج کردی۔
اس کے دو روز بعد لاہور ہائی کورٹ نے پولیس اور اے سی ای کو پنجاب کے سابق وزیر اعلیٰ کو کسی بھی نامعلوم کیس میں گرفتار کرنے سے روک دیا تھا۔
بعد ازاں 15 جولائی کو بینکنگ جرائم کی ایک عدالت نے منی لانڈرنگ کیس میں چوہدری پرویز الہٰی کی کیمپ جیل سے رہائی کے احکامات جاری کیے تھے۔
تاہم انہیں رہا نہیں کیا گیا تھا اور پولیس نے بتایا کہ پی ٹی آئی رہنما کے خلاف غالب مارکیٹ تھانے میں دہشت گردی کی دفعات کے تحت مقدمہ درج کیا گیا ہے۔
14 اگست کو نیب نے پرویز الہٰی کو اڈیالہ جیل سے رہا ہوتے ہی آمدن سے زائد اثاثوں اور سرکاری ٹھیکوں میں مبینہ گھپلوں کے الزام میں دوبارہ گرفتار کرلیا تھا، جبکہ راولپنڈی کی مقامی عدالت نے نیب کی درخواست منظور کرتے ہوئے چوہدری پرویز الہٰی کا راہداری ریمانڈ منظور کیا تھا۔
بعد ازاں 19 ستمبر کو پرویز الہٰی کو غیر قانونی بھرتی کے مقدمے سمیت محمد خان بھٹی کی غیر قانونی تقرری کے معاملے پر دوبارہ میں حراست میں لے لیا گیا تھا۔
28 اکتوبر کو اے سی ای نے لاہور کی ایک ڈسٹرکٹ اینڈ سیشن عدالت کو بتایا کہ انہوں نے پنجاب اسمبلی میں غیر قانونی تقرریوں سے متعلق کیس میں پی ٹی آئی کے صدر پرویز الٰہی کے گھر سے مبینہ طور پر 41 لاکھ روپے برآمد کر لیے ہیں۔
7 نومبر کو انسداد بدعنوانی کی خصوصی عدالت نے پی ٹی آئی کے صدر پرویز الٰہی کے خلاف پنجاب اسمبلی میں مبینہ غیر قانونی تقرریوں کے کیس کا ریکارڈ پیش نہ کرنے پر تفتیشی افسر پر برہمی کا اظہار کرتے ہوئے اگلی سماعت پر تفصیلات پیش کرنے کا حکم دیا۔
16 نومبر کو غیر قانونی تقرریوں کے کیس میں پرویز الہٰی کے جوڈیشل ریمانڈ میں 14 روز کی توسیع کی گئی، یکم دسمبر کو لاہور کی سیشن عدالت نے ان کو ریمانڈ پر بھیج دیا تھا۔
یاد رہے کہ سابق وزیراعلیٰ پنجاب و صدر پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) چوہدری پرویز الہٰی اور مونس الہٰی سمیت دیگر کے خلاف گجرات میں تعمیراتی ٹھیکوں میں کرپشن و کک بیکس کے الزامات کی تحقیقات مکمل کرنے کے بعد نیب نے 2 دسمبر کو ایک ارب 23 کروڑ روپے سے زائد کا کرپشن ریفرنس احتساب عدالت لاہور میں دائر کر دیا تھا۔
نیب لاہور کی جانب سے دائر ریفرنس میں پرویز الہٰی اور ان کے بیٹے مونس الہٰی کو مرکزی ملزم نامزد کیا گیا ہے جنہوں نے ریفرنس کے مطابق 74 کروڑ 45 لاکھ روپے کے کک بیکس حاصل کیے، پرویز الہٰی سمیت 14 ملزمان کے خلاف دائر ریفرنس کے مندرجات ’ڈان نیوز‘ نے حاصل کر لیے۔
ریفرنس میں مؤقف اپنایا گیا ہے کہ پرویز الہٰی اور مونس الہٰی سمیت دیگر ملزمان قومی خزانے کو نقصان پہنچانے میں ملوث پائے گئے ہیں، پرویز الہٰی نے اپنے عہدے کا ناجائز استعمال کرتے ہوئے کک بیکس اور رشوت وصول کی۔
9 جنوری کو لاہور کی احتساب عدالت نے ترقیاتی منصوبوں میں مبینہ کرپشن کیس میں سابق وزیر اعلٰی پنجاب پرویز الٰہی کے شریک ملزم آصف محمود کا جسمانی ریمانڈ منظور کرلیا تھا۔


مشہور خبریں۔
حماس کا صیہونی حکومت کے ساتھ تعلقات کو معمول پر لانے کے منصوبے کو منسوخ کرنے کا مطالبہ
?️ 4 دسمبر 2021سچ خبریں:اسلامی مزاحمتی تحریک (حماس) کے سیاسی بیورو کے سربراہ نے بعض
دسمبر
افغان ترجمان پاکستان کے بجائے اپنے ملک سے متعلق امور پر توجہ مرکوز کریں۔ دفتر خارجہ
?️ 13 اکتوبر 2025اسلام آباد (سچ خبریں) ترجمان دفتر خارجہ نے افغان حکومت کے ترجمان
اکتوبر
جوہری ہتھیاروں کے استعمال کے بارے میں روس کو امریکی دھمکی
?️ 26 ستمبر 2022سچ خبریں:امریکی وزیر خارجہ نے جوہری جنگ کی صورت میں ایکشن پلان
ستمبر
کسی کو دوسری یا چوتھی بار وزیراعظم بنانے سے بہتر ہے عوام مجھے موقع دیں، بلاول
?️ 17 نومبر 2023ایبٹ آباد: (سچ خبریں) پاکستان پیپلز پارٹی کے چیئرمین بلاول بھٹو زرداری
نومبر
وزیر خارجہ شاہ محمود قریشی نے بھارت کے فیصلےکا خیر مقدم کیا
?️ 18 نومبر 2021اسلام آباد(سچ خبریں) وزیر خارجہ شاہ محمود قریشی نے بھارت کے کرتار
نومبر
صہیونی نسل پرستی پر ایمنسٹی انٹرنیشنل بھی خاموشی توڑنے پر مجبور
?️ 24 مارچ 2022سچ خبریں:صیہونی حکومت کی نسل پرستانہ پالیسیوں پر ایمنسٹی انٹرنیشنل کی رپورٹ
مارچ
اسرائیلی فوج کی نفسیاتی اور پروپیگنڈہ کارروائیوں کے طریقہ کار میں تبدیلی
?️ 1 نومبر 2024سچ خبریں: اسرائیلی فوج نے ایک بیان جاری کرتے ہوئے دعویٰ کیا ہے
نومبر
غزہ جنگ دوبارہ شروع ہونے پر ہم فورا حمایتی محاذ پر واپس جائیں گے: یمن کا انتباہ
?️ 8 اکتوبر 2026سچ خبریں: یمن کی مسلح افواج کے چیف آف اسٹاف نے طوفان
اکتوبر