?️
راولپنڈی (سچ خبریں) ڈی جی آئی ایس پی آر میجر جنرل بابر افتخار نے پریس کانفرنس کرتے ہوئے کہا ہے کہ کچھ عرصے سے پاکستان کے مختلف اداروں کے خلاف منظم مہم چلائی جا رہی ہے۔یہ لوگ پہلے بھی ناکام ہوئے تھے اب بھی ہوں گے۔۔انہوں نے کہا کہ پریس کانفرنس کا مقصد خطے کی صورتحال کا جائزہ لینا ہے۔پاک بھارت 2003 کے سیز فائر پر فروری 2021 میں رابطہ ہوا۔
فروری 2021 میں معاہدےے کے بعد ایل او سی پر پورا سال امن رہا۔ ایل او سی پر مقامی روزمرہ زندگی میں امن سے تبدیلی آئی۔ بھارت اندرونی طور پر مذہبی انتہا پسندی کا شکار ہے۔کشمیر میں انسانی تاریخ کا بدترین محاصرہ جاری ہے۔بھارت نے کشمیر کی صورتحال کو بدترین انسانی المیے میں بدل دیا ہے۔حال ہی میں بھارتی فوج نے وادی نیلم کے سامنے ایک جعلی انکاؤنٹر کیا۔
بھارتی فوج نے جعلی انکاؤنٹر کا الزام پاکستان پر لگا دیا۔ بھارتی فوجی قیادت نے منفی اور جھوٹا پراپیگنڈا کیا۔بھارتی الزامات ایک پولیٹیکل ایجنڈے کی نشاندہی کرتے ہیں۔2021 میں مغربی بارڈر پر صورتحال چیلنجگ رہی۔2021 میں شمالی وزیرستان میں اہم آپریشن کیا گیا۔ ڈی جی آئی ایس پی آر نے مزید کہا کہ افغانستان سے غیرملکی افواج کے انخلا کا اثر پاکستان پر ہوا،افغانستان کی موجودہ صورتحال ایک سنگین انسانی المیے کو جنم دے سکتی ہے۔
پاکستان افغانستان میں مکمل ہم آہنگی پائی جاتی ہے۔ ویسٹرن بارڈر پر مقامی آپریشنل معاملات ہیں جن کو ایڈریس کیا جاتا ہے۔ شدید موسمی حالات کے باعث فینسنگ کا کام رکا جسے آپریشن کے بعد مکمل کیا گیا۔ہم مکمل طور پر فوکسڈ ہیں۔فینسنگ کا کام پایہ تکمیل تک پہنچائیں گے۔باڑ لگانے کا عمل 95 فیصد مکمل ہو چکا ہے۔ باڑ لگانے میں ہمارے شہدا کا خون شامل ہے،یہ مکمل ہو گی اور قائم رہے گی۔
ڈی جی آئی ایس پی آر نے مزید کہا کہ پاک ایران بارڈر پر باڑ لگانے کا کام 71 فیصد مکمل ہوچکا ہے۔ آپریشن ردالفساد دیگر کے مقابلے میں مختلف تھا۔میجر جنرل بابر افتخار نے مزید کہا کہ طاقت کا استعمال صرف ریاست کا اختیار ہے اور اس حوالے سے کسی کو بھی رعایت نہیں دی جائیگی۔پاکستان میں کسی بھی مسلح گروہ کو قانون ہاتھ میں لینے کی اجازت نہیں دی جائے گی۔
نفرت انگیز مواد اور دہشتگردوں کے بیانیے کو ناکام بنایا جا رہا ہے۔انہوں نے مزید کہا کہ کراچی میں بھی ٹارگٹ کلنگ میں کمی ہوئی۔ڈی جی آئی ایس پی آر نے مزید کہا کہ کچھ عرصے سے پاکستان کے مختلف اداروں کے خلاف منظم مہم چلائی جا رہی ہے۔ایسی تمام سرگرمیوں سے نہ صرف آگاہ ہیں بلکہ ان کے لنکس سے بھی آگاہ ہیں۔ یہ لوگ پہلے بھی ناکام ہوئے تھے اب بھی ناکام ہوں گے، اس مہم کا مقصد حکومت، عوام اور اداروں کے درمیان خلیج پیدا کرنا ہے۔


مشہور خبریں۔
ایران سے متعلق ٹرمپ کے نئے دعوے، جنگ اور مذاکرات پر متضاد بیانات
?️ 25 جون 2026سچ خبریں:امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ایران کے ساتھ جاری مذاکرات اور
جون
تل ابیب غزہ کی نصف حصے پر قبضہ اور آبادی کو بے دخل کرنے کی منصوبہ بندی
?️ 13 جولائی 2025سچ خبریں: ایک فلسطینی ذرائع نے فرانسیسی خبر ایجنسی سے بات چیت میں
جولائی
حکومتی شخصیات کو توہین عدالت کا مرتکب ٹھہرانے کی کوشش کی جارہی ہے، اعظم نذیر تارڑ
?️ 25 اپریل 2023اسلام آباد: (سچ خبریں) وزیر قانون اعظم نذیر تارڑ نے سابق چیف
اپریل
افغانستان میں قحط کو فروغ نہیں دینا چاہیے، حنا ربانی کھر
?️ 30 جون 2022اسلام آباد(سچ خبریں)وزیر مملکت برائے خارجہ امور حنا ربانی کھر نے طالبان
جون
ویکسینیشن سینٹرز کے اوقاتِ کار میں تبدیلی کر دی گئی
?️ 8 اپریل 2021اسلام آباد(سچ خبریں) اسلام آباد کے کورونا ویکسینیشن سینٹرز کے اوقات کار
اپریل
پیٹرول ڈیلرز نے حکومتی عہدیداران کے پمپ سیل کرنے کے اختیارات کی مخالفت کردی
?️ 30 مئی 2025اسلام آباد: (سچ خبریں) وفاقی وزیر پیٹرولیم علی پرویز ملک نے پیٹرولیم
مئی
شام کے شمال مغرب میں دہشت گردانہ حملوں کا سلسلہ جاری
?️ 28 نومبر 2024سچ خبریں: النصرہ فرنٹ کے دہشت گردوں نے شام کے شہر حلب، حماہ
نومبر
شام کے بارے میں ترک وزیر خارجہ کے ایران پر عائد الزامات کہاں تک صحیح ہیں؟
?️ 15 دسمبر 2024سچ خبریں:شام کے بارے میں ایران کے ساتھ معاہدے پر مبنی ترکی
دسمبر