پاکستان کو بھارت سے جنگوں سے زیادہ نقصان افغانستان کے اندرونی حالات سے پہنچا، آصف درانی

?️

اسلام آباد: (سچ خبریں) افغانستان کے لیے پاکستان کے نمائندہ خصوصی سفیر آصف درانی نے کہا ہے کہ پاکستان کو بھارت کے ساتھ ہونے والی تین جنگوں میں جانی و مالی خون کے مقابلے میں افغانستان کے اندرونی حالات سے زیادہ نقصان پہنچا ہے۔

آصف درانی نے انسٹی ٹیوٹ آف اسٹریٹیجک اسٹڈیز اسلام آباد اور جرمن فریڈرک ایبرٹ سٹفٹنگ کے زیر اہتمام ایک روزہ بین الاقوامی کانفرنس پاکستان ان دی ایمرجنگ جیو پولیٹیکل لینڈ اسکیپ سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ دہشت گردی کے خلاف جنگ میں گزشتہ دو دہائیوں کے دوران 80ہزار سے زائد پاکستانی ہلاک ہوئے اور ملک کو آج بھی جانی اور مالی نقصان ہو رہا ہے۔

انہوں نے کہا کہ نیٹو افواج کے انخلا کے بعد امید تھی کہ افغانستان میں امن سے خطے میں امن آئے گا تاہم یہ توقعات پوری نہ ہو سکیں۔

ان کا کہنا تھا کہ پاکستان کے سرحدی علاقوں پر کالعدم دہشت گرد تنظیم تحریک طالبان پاکستان (ٹی ٹی پی) کے حملوں میں 65 فیصد اضافہ ہوا جبکہ خودکش حملوں میں 500 فیصد اضافہ دیکھا گیا ہے۔

افغانستان کے لیے نمائندہ خصوصی نے مزید کہا کہ افغان سرزمین استعمال سے ٹی ٹی پی کے پاکستان پر بڑھتے ہوئے حملے پاکستان کے لیے باعث تشویش ہیں اور اس سے زیادہ تشویشناک بات یہ ہے کہ ان حملوں میں افغان شہری بھی ملوث ہیں۔

انہوں نے کہا کہ جب سے سوویت یونین نے پڑوسی ملک پر حملہ کیا ہے، پاکستان کو جغرافیائی طور پر کافی نقصان اٹھانا پڑا ہے، 9/11 کے بعد بننے والے عالمی نظام نے پاکستان پر منفی اثرات مرتب کیے ہیں۔

پاکستان کو گزشتہ دو دہائی کے دوران پہنچنے والے نقصان کا حوالہ دیتے ہوئے آصف درانی نے کہا کہ اس دوران 80ہزار شہریوں نے اپنی جانیں گنوائیں جبکہ قانون نافذ کرنے والے اداروں کے 8ہزار سے زائد اہلکار بھی مارے گئے جبکہ اس دوران ملک کو اقتصادی طور پر 150ارب ڈالر کا نقصان ہوا۔

انہوں نے نشاندہی کی کہ جب پاکستان کو نان نیٹو اتحادی نامزد کیا گیا تھا تو نیٹو اراکین کی جانب سے سفری ایڈوائزری کے نفاذ سے پاکستان پر منفی اثر پڑا کیونکہ پاکستان کے ساتھ کاروبار کرنا مہنگا ہو گیا اور انشورنس کی لاگت بڑھ گئی جس کے نتیجے میں پاکستان کی برآمدات جمود کا شکار رہیں۔

علاقائی تناظر میں پاکستان کے مستقبل کے نقطہ نظر کے بارے میں بات کرتے ہوئے آصف درانی نے کہا کہ ہمارا مشرقی پڑوسی ممکنہ طور پر اپنی پاکستان مخالف سرگرمیوں کو جاری رکھے گا، لیکن مغربی سرحد اضطراب کا باعث ہے۔

تاہم انہوں نے امید ظاہر کی کہ اچھی سفارت کاری کی بدولت پکاستان ٹی ٹی پی کے چیلنج سمیت افغانستان کے ساتھ مسائل و مشکلات پر قابو پا سکتا ہے۔

مشہور خبریں۔

ڈھاکا میں انتشار اور دہلی سے کشیدگی؛ بنگلہ دیش کس سمت جا رہا ہے؟

?️ 21 دسمبر 2025ڈھاکا میں انتشار اور دہلی سے کشیدگی؛ بنگلہ دیش کس سمت جا

مغرب نے مشرق وسطیٰ کو ایک بڑی جنگ کے دہانے پر لا کھڑا کیا

?️ 8 نومبر 2023سچ خبریں:پیر کی شام، ماسکو میں روس کی بین الاقوامی نمائش میں

بشام واقعہ میں ملوث عناصر نہیں چاہتے پاک-چین دوستی آگے بڑھے، وزیراعظم

?️ 30 مارچ 2024اسلام آباد: (سچ خبریں) وزیراعظم شہباز شریف نے کہا ہے کہ بشام

ایرانی حملے کے بعد اسرائیلی حکام تذبذب کا شکار کیوں ہیں؟

?️ 16 اپریل 2024سچ خبریں: صیہونی میڈیا کے موقف کے برعکس، ایران کا حملہ حساب

صیہونیوں کی شہید نصر اللہ کی تشییع جنازے کو روکنے کی آخری ناکام کوشش

?️ 23 فروری 2025 سچ خبریں:صیہونی حکومت پوری طاقت سے سید حسن نصر اللہ کی

آرمی چیف کی بلوچستان میں سیکیورٹی استحکام کی یقین دہانی

?️ 30 جنوری 2022راولپنڈی(سچ خبریں) آرمی چیف جنرل قمر جاوید باجوہ  نے بلوچستان میں سیکیورٹی

امریکی صدارتی امیدواروں کو کیا خطرہ ہے؟

?️ 6 فروری 2024سچ خبریں: حالیہ سکیورٹی واقعات کا حوالہ دیتے ہوئے، 2024 کے امریکی

عسکری ٹاور تھوڑ پھوڑ کا مقدمہ: پولیس کو یاسمین راشد سے تفتیش کی اجازت

?️ 6 جون 2023لاہور: (سچ خبریں) لاہور کی انسداد دہشتگردی کی عدالت نے پاکستان تحریک

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے