پاکستان نے ’چین کے بلاک‘ میں شمولیت اختیار نہیں کی، دفتر خارجہ

?️

اسلام آباد:(سچ خبریں) امریکا اور چین کے درمیان عالمی طاقت کی دشمنی کے درمیان پاکستان نے ان قیاس آرائیوں کو مسترد کر دیا کہ وہ ’چین بلاک‘ میں شامل ہو گیا ہے۔

دفتر خارجہ کی ترجمان ممتاز زہرہ بلوچ نے ہفتہ وار پریس بریفنگ میں بتایا کہ ’میں ایسی کسی بھی قیاس آرائی کی تردید کرنا چاہوں گی کہ پاکستان کسی نہ کسی بلاک میں شامل ہو گیا ہے‘، پاکستان کی مستقل پالیسی ہے کہ ہم بلاکس کی سیاست پر یقین نہیں رکھتے۔

انہوں نے کہا کہ پاکستان کی چین کے ساتھ ’ہر موسم کی تزویراتی تعاون کی شراکت داری‘ ہے، یہ ایک ایسا رشتہ ہے جو گزشتہ کئی دہائیوں میں مضبوط سے مضبوط تر ہوتا چلا گیا اور دونوں ممالک اس تعلقات کے لیے پرعزم ہیں۔

اسی طرح انہوں نے کہا پاکستان کے دنیا بھر، مشرق وسطیٰ، ایشیا پیسیفک، یورپ اور افریقہ میں بڑی تعداد میں ممالک کے ساتھ بہترین تعلقات ہیں۔

انہوں نے کہاکہ امریکا خاص طور پر پاکستان کا سب سے پرانا دوست اور شراکت دار اور سب سے بڑی برآمدی منڈی ہے، امریکا کے ساتھ ہمارے تعلقات شاید اتنے ہی پرانے ہیں جتنے خود پاکستان پرانا ہے۔

ان کا مزید کہنا تھا کہ پاکستان اور امریکا کے تعلقات کثیر الجہت ہیں اور پاکستانی نژاد امریکی تعاون کے کئی شعبوں میں پاکستان اور امریکا کے درمیان ایک پل کا کردار ادا کر رہے ہیں۔

ترجمان دفتر خارجہ نے واضح کیا کہ ’ہمیں کسی ایک بلاک یا دوسرے میں شامل ہونے کی کوئی خواہش نہیں ہے‘۔

پاکستان میں انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں کے بارے میں 60 سے زائد کانگریس اراکین کی جانب سے امریکی وزیر خارجہ کو لکھے گئے خط کے بارے میں ایک سوال کا جواب دیتے ہوئے، انہوں نے کہا کہ ’ہم نے خط دیکھا ہے، اس میں جس طرح 9 مئی کے واقعات کی خصوصیت اور پاکستان کی صورتحال ظاہر کی گئی ہے ہم اس سے اتفاق نہیں کرتے‘۔

ممتاز زہرا بلوچ نے کہا کہ قومی سلامتی کمیٹی نے 9 مئی کے واقعات سے منسلک حقائق پر مبنی صورتحال کو واضح کر دیا ہے، ’پاکستان اپنے تمام شہریوں کے حقوق اور املاک کے تحفظ کے لیے اپنی آئینی ذمہ داریوں کے حوالے سے پر عزم ہے، ان آئینی ضمانتوں اور بنیادی آزادیوں کو ہماری عدلیہ نے زیر تحریر کیا ہے۔

سری نگر میں G-20 ٹورازم ورکنگ گروپ کے اجلاس کی میزبانی کے بھارتی اقدام پر تنقید کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ جموں و کشمیر بین الاقوامی سطح پر تسلیم شدہ متنازع علاقہ ہے۔

انہوں نے کہا کہ یہ تنازع سات دہائیوں سے زیادہ عرصے سے اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل (یو این ایس سی) کے ایجنڈے پر موجود ہے، اس پس منظر میں بھارت نے اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کی متعلقہ قراردادوں، اقوام متحدہ کے چارٹر کے اصولوں اور بین الاقوامی قانون کی مکمل خلاف ورزی کرتے ہوئے مقبوضہ کشمیر میں اجلاس کی میزبانی کی۔

ممتاز زہرا بلوچ نے یہ بھی اعلان کیا کہ حکومت نے سابق سفیر آصف علی خان درانی کو افغانستان کے لیے پاکستان کا خصوصی نمائندہ مقرر کیا ہے۔

آصف علی درانی محکمہ خارجہ کے ایک ریٹائرڈ افسر ہیں جنہوں نے ایران اور یو اے ای میں پاکستان کے سفیر کے طور پر خدمات انجام دیں اور کابل، تہران، نئی دہلی، لندن میں پاکستان کے مشن اور اقوام متحدہ، نیویارک میں مستقل مشن میں بھی مختلف عہدوں پر فرائض انجام دیے۔

ایک سوال کا جواب دیتے ہوئے انہوں نے بعض لوگوں کے ان دعوؤں کو مسترد کر دیا کہ صدر مملکت ڈاکٹر عارف علوی دفتر خارجہ کو بتائے بغیر مختلف ممالک کے سفیروں سے خفیہ ملاقاتیں کر رہے ہیں۔

مشہور خبریں۔

چین کی دھمکیوں نے عالمی نظام کو چیلنج کردیا: تائیوان

?️ 3 اگست 2022سچ خبریں:   چین کے اس اصرار کے باوجود کہ تائیوان اس کی

اسرائیل کی جنوبی لبنان سے پسپائی میں تاخیر، مزاحمت کی قوت اور صہیونیوں کی غلط فہمی

?️ 29 جنوری 2025سچ خبریں:لبنان کے جنوبی علاقے میں اسرائیلی فوج کے طویل المدتی قیام

حکومت نے کیا اپوزیشن کی سازش کو بے نقاب: شبلی فراز

?️ 12 مارچ 2021اسلام آباد(سچ خیریں) اسلام آباد میں سینیٹ کے باہر میڈیا سے گفتگو

واٹس ایپ نے صارفین کے لیے منفرد سہولت پر شروع کیا کام

?️ 19 فروری 2021سان فرانسسکو {سچ خبریں} دنیا میں سب سے زیادہ استعمال ہونے والے

لبنان کے اندر بعض سیاسی گروہوں کی طرف سے جنگ بندی کے منصوبے

?️ 3 نومبر 2024سچ خبریں: لبنانی محاذ پر اسرائیلی فوج کی زمینی کارروائیوں کے آغاز

مارکو روبیو کی غزہ جنگ روکنے کا مضحکہ خیز تجویز

?️ 28 جولائی 2025مارکو روبیو کی غزہ جنگ روکنے کا مضحکہ خیز تجویز  امریکی سینیٹر

اس وقت زر مبادلہ کا بہاؤ متوازن و مستحکم ہے:خرم دستگیر

?️ 21 جولائی 2022اسلام آباد: (سچ خبریں)وفاقی وزیر اور پاکستان مسلم لیگ (ن) کے سینئر

افغانستان میں اقوام متحدہ کے خصوصی نمائندے کا وقت ختم

?️ 10 جون 2022سچ خبریں: افغانستان کے لیے اقوام متحدہ کے خصوصی نمائندہ ڈیبرا لائنز

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے