?️
اسلام آباد(سچ خبریں) وزیر اعظم کے معاون خصوصی ڈاکٹر فیصل سلطان نے ایک ویڈیو بیان میں کہا کہ 4 جون تک پاکستان میں ویکسین کے لگ بھگ 80 لاکھ خوراکوں کا انتظام کیا جا چکا ہے، ہم نے آسٹریلیا، سوئٹزرلینڈ، پرتگال اور بیلجیئم جیسے 165 ممالک سے زیادہ ویکسین کی خوراکیں دی ہیں انہوں نے بتایا کہ 4 جون تک تقریباً 22 لاکھ افراد کو مکمل طور پر حفاظتی ٹیکے لگائے گئے ہیں جبکہ 37 لاکھ افراد کو اس ویکسین کی ایک خوراک لگی ہے۔
فیصل سلطان نے بتایا کہ کورونا وائرس تیسری لہر کی شدت آہستہ آہستہ کم ہورہی ہے، مثبت کیسز کی شرح میں بھی تیزی سے کمی آرہی ہے اور یہ شرح اب چار فیصد سے بھی کم ہے۔
ان کا کہنا تھا کہ یہ اس بات کا ثبوت ہے کہ حکومت کی لاک ڈاون اور ایس او پیز کے نفاذ کے ساتھ ساتھ زیادہ تعداد میں ویکسین لگانے سے بیماری کے پھیلاؤ پر اثر پڑا ہے اور اس کا پھیلاؤ روکنے میں مدد ملی ہے۔
معاون خصوصی نے کہا کہ اس وقت سندھ دباؤ کا شکار ہے، جیسا کہ ہم نے توقع کی تھی، سندھ میں تیسری لہر باقی ملک کی نسبت تھوڑی دیر بعد شروع ہوئی، سندھ میں مثبت کیسز کا تناسب چھ اور سات فیصد کے درمیان رہا ہے۔
مکمل طور پر ویکسینیشن پر انحصار نہیں کیا جاسکتا، معاون خصوصی
احتیاطی تدابیر پر عمل پیرا رہنے کی ضرورت پر زور دیتے ہوئے ڈاکتر فیصل سلطان نے کہا کہ ہم تعاون پر تمام شہریوں کے مشکور ہیں لیکن کووڈ-19 کے خلاف جنگ ابھی ختم نہیں ہوئی ہے، ہم باقاعدگی کے ساتھ وفاقی اکائیوں کے تمام شعبوں میں تعمیل کی نگرانی کر رہے ہیں۔
انہوں نے کہا کہ نیشنل کمانڈ اینڈ آپریشن سینٹر(این سی او سی) کو شدید تشویش ہے اور انہوں نے تمام صنعتوں کو آگاہ کیا ہے کہ ایس او پیز پر عملدرآمد بتائے گئے طریقہ کار کے مطابق نہیں ہے۔
انہوں نے کہا کہ ایس او پیز پر عملدرآمد کی شرح 46فیصد ہے، یہ اوسط تمام صوبوں اور شعبوں میں ہے، شعبہ جات کے لحاظ سے دیکھا جائے تو نقل و حمل 40فیصد، کاروبار 40.2فیصد، صنعت 38فیصد، مساجد اور امام بارگاہوں میں 41فیصد، ہوائی اڈوں بس اڈوں اور ریلوے اسٹیشنوں میں 50فیصد، عوامی مقامات پر 42فیصد اور ہسپتالوں میں 70فیصد ہے۔
انہوں نے زور دیتے ہوئے کہا کہ ابھی تک ہم نے اس بیماری کے پھیلاؤ کو کم کرنے کے لیے اتنے لوگوں کو ویکسین نہیں لگائی کہ ہم ویکسینیشن پر مکمل طور پر انحصار کر سکیں، تمام خطوں میں اس وائرس کے پھیلاؤ کو کم کرنے کے لیے ایس او پیز پر عمل درآمد بہت اہم ہے۔
گزشتہ ہفتے ملک میں آنے والی فائزر ویکسین کی ایک لاکھ خوراکوں پر تبصرہ کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ ڈرگ ریگولیٹری اتھارٹی آف پاکستان نے اس کے ہنگامی استعمال کی منظوری دے دی ہے۔
معاون خصوصی کے مطابق این سی او سی نے فیصلہ کیا ہے کہ ابھی فائزر ویکسین کی مھدود تعداد ہونے کی وجہ سے حج یا ملازمت/ تعلیم کے لیے بیرون ملک سفر کرنے والوں کو فائزر ویکسین پلائی جائے گی کیونکہ وہاں دیگر ویکسین قبول نہیں کی جاتی اور مسافروں پر لازم ہے کہ وہ ملک میں داخلے پر ویکسین کا سرٹیفکیٹ دکھائیں۔
انہوں نے مزید کہا کہ حکومت کی جانب سے خریدی گئی 10 لاکھ سائنوفرام خوراکیں بھی آچکی ہیں، اب تک پاکستان میں تقریباً ایک کروڑ 18 لاکھ خوراکیں آ چکی ہیں اور حکومت نے تقریباً 76فیصد خریدی ہیں۔
عالمی ادارہ صحت کی جانب سے ہنگامی استعمال کے سائنو ویک ویکسین کے استعمال کی اجازت دیے جانے کے حوالے سے ڈاکٹر فیصل سلطان نے کہا کہ پاکستان 9 مئی سے سائنوویک کا انتظام کر رہا ہے اور ہمیں اس ویکسین کی حفاظت اور افادیت پر مکمل اعتماد ہے۔


مشہور خبریں۔
ایرانی سرزمین پر نئے حملوں کے بارے میں امریکی دہشت گردوں کا بیان
?️ 11 جون 2026سچ خبریں: امریکی فوج کی مرکزی کمان (سینٹ کام) نے اعلان کیا ہے
جون
صیہونی فوجیوں کے ہاتھوں 22 فلسطینی گرفتار
?️ 26 جنوری 2021سچ خبریں:اسرائیلی فوج نے مغربی کنارے پر چھاپہ مارا اور بغیر کسی
جنوری
پاکستان سمیت 8 ملکوں کا صدر ٹرمپ کی غزہ بورڈ آف پیس میں شمولیت کی دعوت کا خیر مقدم
?️ 21 جنوری 2026اسلام آباد (سچ خبریں) پاکستان سمیت 8 اسلامی ملکوں کا غزہ بورڈ
جنوری
ہر فرد کی عزت، مساوات اور انصاف کا تحفظ ریاست کی بنیادی ترجیح ہے: صدر مملکت
?️ 10 دسمبر 2025اسلام آباد: (سچ خبریں) صدرِ مملکت آصف علی زرداری نے کہا ہے
دسمبر
صہیونی ذرائع نے تل ابیب شہر کے ٹرین سسٹم پر سائبر حملہ کی تصدیق کی
?️ 5 جولائی 2022سچ خبریں: عبرانی ذرائع نے پیر کی شام تل ابیب لائٹ ریل
جولائی
صدام کو پکڑنے پر مبنی امریکی آپریشن کی کہانی فرضی تھی: امریکی فوج کےعراقی مترجم
?️ 30 دسمبر 2021سچ خبریں:عراق پر اپنے حملے کا جواز پیش کرنے اور عالمی رائے
دسمبر
یمن پر حملے کے بعد نیتن یاہو کی بکواس
?️ 11 ستمبر 2025سچ خبریں: اسرائیل کے وزیراعظم بینجمن نیتن یاہو نے یمن میں غیرعسکری
ستمبر
غزہ میں 2 سال بعد صہیونی جرائم کے اعدادوشمار؛ دور جدید کی سب سے بڑی انسانی المیہ
?️ 7 اکتوبر 2025سچ خبریں: اس پٹی کے خلاف صیہونی حکومت کی نسل کشی کے
اکتوبر