پاکستان فیڈرل یونین آف جرنلسٹس کی ”ہتک عزت“بل کی مذمت‘لاہور کورٹ سے رجوع کرنے کا اعلان

?️

لاہور: (سچ خبریں) پاکستان فیڈرل یونین آف جرنلسٹس کے صدر جی ایم جمالی اور سیکرٹری جنرل رانا محمد عظیم نے ہتک عزت کے نئے لائے جانے والے نئے قانون کی شدید مذمت کرتے ہوئے اسے آزادی اظہار رائے پر قدغن کے مترادف قرار دیا ہے.

پی ایف یو جے کی قیادت نے کہا ہے کہ حکومت کی جانب سے قانون سازی سے قبل کسی سٹیک ہولڈر کو اعتماد نہیں لیا گیا‘پی ایف یو جے اس مجوزہ قانون کو مسترد کرتی ہے اور اس قانون سازی کے خلاف عدالت میں جائے گی انہوں نے کہاکہ ہم اس مجوزہ قانون کی بھر پورمذمت کرتے ہیں.

انہوں نے کہا کہ یہ مجوزہ قانون صحافتی آزادی کو مزید کم کرنے کی خاطر لایا جا رہا ہے پاکستان فیڈرل یونین آف جرنلسٹس اس قانون کے خلاف ہر سطح پر آواز اٹھائیں گے اورملک گیر احتجاجی تحریک چلائی جائے گی . انہوں نے کہا کہ میڈیا کو پہلے ہی کئی طرح کی پابندیوں کا سامنا ہے مزید پابندیاں برداشت نہیں کریں گے آزادی صحافت اور جمہوریت لازم و ملزوم ہیں اگر آزادی صحافت کوسلب کیا گیا تو ملک میں جمہوریت کو بھی خطرات لاحق ہو جائیں گے پی ایف یو جے کے قائدین نے کہا ہے کہ اگر کسی بہتری کے لئے قانون سازی کرنی ہے تو پہلے پی ایف یو جے سمیت تمام سٹیک ہولڈرز کو اعتماد میں لیا جائے تاکہ ان کے تحفظات دور ہو سکیں.

واضح رہے کہ پنجاب حکومت کے مجوزہ ہتک عزت بل میں کہا گیا ہے کہ’ ’جھوٹی من گھڑت اور بے بنیاد خبروں“ پروپیگنڈے یا کسی کی شہرت کو نقصان پہنچانے پر سزائیں دی جائیں گی نیز اس قانون کا اطلاق پرنٹ، الیکڑانک اور سوشل میڈیا کے ذریعے پھیلائی جانے والی ان تمام جھوٹی اور غیر حقیقی خبروں پر ہو گا جس سے کسی فرد یا ادارے کا تشخص خراب ہو. حکومتی بل کے مطابق قانون کا اطلاق ان جھوٹی خبروں کے تدارک کے لیے کیا جائے گا جو کسی شخص کی پرائیویسی اور پبلک پوزیشن کو خراب کرنے کے لیے پھیلائی جائیں گئیں ہتک عزت آرڈینس 2002 اس قانون کے اطلاق کے بعد سے تبدیل ہو جائے گا اس قانون کا اطلاق اسمبلی سے پاس ہونے کے بعد گورنر کی منظوری سے صوبے بھر میں کر دیا جائے گا.

وزیر اطلاعات پنجاب عظمیٰ بخاری کا کہنا ہے کہ ”ہتک عزت بل“ میں خصوصی ٹربیوبل بنایا جا رہا ہے جو چھ ماہ میں ہتک عزت کے دعوے کا فیصلہ کرنے کا پابند ہوگا اس قانون سے میڈیا پر پابندی کا تاثر غلط ہے ہم صرف جھوٹ اور پروپیگنڈے کو روکنے کی حکمت عملی بنا رہے ہیں. جنرل سیکرٹری پاکستان فیڈرل یونین آف جرنلسٹس رانا عظیم نے ہتک عزت کا ترامیمی بل 2024 مسترد کرتے ہوئے کہا کہ اس معاملہ پر صحافتی تنظیموں کو اعتماد میں نہ لینا اس بات کا ثبوت ہے کہ حکومت میڈیا کا گلا دبانا چاہتی ہے ہم اس بل کے خلاف لاہور ہائی کورٹ سے رجوع کر رہے ہیں.

ہتک عزت ترامیمی بل 2024میں کہا گیا ہے کہ براڈکاسٹنگ یا براڈکاسٹ کا مطلب ہر قسم کی تحریروں، مکالموں، تصاویر اور آوازوں کو کسی بھی الیکٹرانک ڈیوائس پر پھیلانا ہے جس کا مقصد عوام کو معلومات پہنچانا ہو اس قانون میں کوئی بھی شہری یا شخصیت مدعی بن کر سیکشن11 کے تحت ٹربیونل کو ہرجانے اور اخراجات کے لیے درخواست دے سکے گا. کسی کے خلاف جھوٹ پھیلانے یا پروپیگنڈہ کرنے پر دعویٰ کرنے والے کے الزامات کا مدعا علیہ دفاع کرنے کا حق رکھتا ہو گا الزام لگانے والے کو ٹربیونل میں ثبوت بھی پیش کرنا ہوں گے اس قانون کے مطابق جن آئینی دفاتر کو تحفظ حاصل ہے ان میں صدر، گورنر، چیف جسٹس آف پاکستان اور سپریم کورٹ کے ججز، چیف جسٹس اور لاہور ہائی کورٹ کے ججز، وزیر اعظم، قومی اسمبلی میں قائد حزب اختلاف، قومی اسمبلی کے سپیکر شامل ہیں.

سینیٹ کے چیئرمین، وزیر اعلیٰ، صوبائی اسمبلی میں قائد حزب اختلاف، صوبائی اسمبلیوں کے سپیکر، الیکشن کمیشن آف پاکستان کے چیئرمین اور ممبران، آڈیٹر جنرل آف پاکستان، چیئرمین جوائنٹ چیفس آف سٹاف کمیٹی، چیف آف پاکستان آرمی اسٹاف، چیف آف دی نیول اسٹاف اور چیف آف دی ایئر اسٹاف بھی ان عہدوں میں شامل ہوں گے جن کے خلاف کوئی بھی جھوٹی خبر یا معلومات پھیلانا سنگین جرم تصور ہو گا.

اس قانون میں وہ اخراجات شامل ہیں جو ایکٹ کے تحت کارروائی کے لیے فریقین کو ٹریبونل کے ذریعے عائد کیے جائیں گے بل کے مطابق ”ہتک عزت“ کا مطلب ہے کسی جھوٹے یا غلط بیان کی اشاعت زبانی، تحریری یا بصری شکل میں عام ذرائع ابلاغ یا الیکٹرانک اور دوسرے جدید میڈیم، یا سوشل میڈیا کے ذریعے یا کسی بھی آن لائن ویب سائٹ کے ذریعے پھیلایا گیا ایسا بیان جو کسی شخص کی ساکھ کو مجروح کرتا ہے جس کا منفی اثر ہو سکتا ہے یا اسے دوسروں کی نظر میں غیر مقبول کرنے کا رجحان رکھتا ہے یا اس کا مذاق اڑایا جاتا ہے یا اسے غیر منصفانہ تنقید، ناپسندیدگی، حقارت کا نشانہ بنایا جاتا ہے.

مشہور خبریں۔

سپریم کورٹ کے آئین کو ’ری رائیٹ‘ کرنے سے موجودہ بحران پیدا ہوا: مریم نواز

?️ 27 مارچ 2023اسلام آباد:(سچ خبریں) مسلم لیگ (ن) کی چیف آرگنائزر مریم نواز نے

ٹرمپ پر خفیہ دستاویزات رکھنے کے 38 کیسز کا الزام

?️ 10 جون 2023سچ خبریں:امریکہ کی ایک عدالت نے اعلان کیا ہے کہ سابق صدر

ایوارڈز تقریب میں جانے کا فائدہ نہیں ہوتا، سونیا حسین

?️ 10 اکتوبر 2023کراچی: (سچ خبریں) ماضی میں لکس اسٹائل ایوارڈز کی نامزدگیوں پر مایوسی

مستحق بیماروں کے مفت علاج کے لئے وزیر اعلی محمود خان کا اہم قدم

?️ 8 ستمبر 2021پشاور(سچ خبریں) خیبر پختونخوا حکومت نےمستحق بیماروں کے مفت علاج کرنے کے

امریکہ سے مہلک ہتھیاروں اور ایئر ڈیفنس سسٹمز کی خریداری اور یوکرین کو ترسیل

?️ 23 اگست 2025سچ خبریں: نیٹو کے سیکرٹری جنرل مارک روٹے نے دعویٰ کیا ہے کہ

ایران میں دفاعی نظام کی آواز کی وجہ سے تیل کی قیمت میں 5 ڈالر کا اضافہ 

?️ 24 اپریل 2026 سچ خبریں:خبر ایجنسی رویٹرز کے مطابق، تہران میں فضائی دفاع کے

لبنانی حکومت کے گلے میں امریکہ کا بلیڈ؛ اسرائیل سے براہ راست مذاکرات یا جنگ!

?️ 6 نومبر 2025سچ خبریں: اسی وقت جب اسرائیل کی طرف سے لبنان پر بڑے

 غزہ کے لیے امریکہ کا نیا منصوبہ؛ ترک زبان ممالک کے پوشیدہ اہداف کیا ہیں؟

?️ 22 فروری 2026سچ خبریں:ترک زبان ممالک کی امریکی منصوبے میں شرکت نے غزہ کے

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے