?️
سچ خبریں:اسرائیل کی خطے کے مختلف محاذوں پر فوجی کارروائیاں ایک وسیع تر حکمت عملی کا حصہ قرار دی جا رہی ہیں، جس کا مقصد علاقائی طاقت سے خطے کی بالادست قوت بننا ہے۔
صیہونی حکومت کی جانب سے گزشتہ برسوں کے دوران مختلف محاذوں پر کیے جانے والے حملے درحقیقت صیہونی نظریے جنگل کے سلطان کی عکاسی کرتے ہیں، جس کا مقصد خطے کے تمام ممالک پر صیہونی غلبہ قائم کرنا ہے۔
مشرق وسطیٰ کی حالیہ صورتحال غزہ کی جنگ سے لے کر لبنان، شام اور دیگر علاقوں میں بڑھتی ہوئی کشیدگی تک، محض اچانک رونما ہونے والے واقعات کا ردعمل نہیں بلکہ صیہونی حکومت کی ایک وسیع اور طویل المدتی حکمت عملی کے تناظر میں دیکھی جا سکتی ہے۔
میدانی شواہد اور صیہونی حکومت کے مطالعاتی مراکز میں تیار کیے گئے فکری و تزویراتی دستاویزات کا جائزہ ظاہر کرتا ہے کہ ایک ایسے منصوبے پر کام کیا جا رہا ہے جس کا مقصد اسرائیل کو ایک مقامی فوجی طاقت سے تبدیل کرکے علاقائی بالادست قوت بنانا ہے۔
سکیورٹی کے وہم سے جنگل کے سلطان کے خواب تک
صیہونی فوج سے وابستہ صیہونی مرکز برائے فوجی مطالعات دادو کی جانب سے شائع کی گئی دستاویزات اس حوالے سے قابل غور نکات پیش کرتی ہیں۔
اس مرکز میں شائع ہونے والے ایک تجزیہ جنگل کا سلطان؛ نئے علاقائی نظام کی تشکیل میں صیہونی فوجی طاقت کا کردار میں صیہونی فوج کے 2 اعلیٰ افسران، ڈاکٹر ایال فکت اور ڈاکٹر ایال خیمنز نے اس حوالے سے اسرائیل کی حکمت عملی میں تبدیلی کا جائزہ لیا ہے۔
ان محققین نے معروف امریکی نظریہ ساز ہنری کسنجر کے خیالات سے استفادہ کرتے ہوئے موقف اختیار کیا ہے کہ اسرائیل کو پہلے دائرے میں دفاع کی حکمت عملی سے آگے بڑھ کر ایک علاقائی طاقت کے طور پر کردار ادا کرنا چاہیے؛ ایسی طاقت جو پورے مشرق وسطیٰ میں عملی طور پر فوجی موجودگی اور کارروائی کی صلاحیت رکھتی ہو۔
اس کا مطلب یہ ہے کہ تل ابیب دانستہ طور پر خود کو خطے کے سیاسی اور سکیورٹی نظام کی تشکیل کے لیے ایک فیصلہ کن قوت کے طور پر پیش کرنے کی کوشش کر رہا ہے۔
کئی برس پرانا منصوبہ
ابتدائی طور پر یہ تصور کیا جا سکتا ہے کہ غزہ، لبنان اور دیگر محاذوں کے خلاف صیہونی حملے مختلف واقعات کے ہنگامی ردعمل ہیں، تاہم صیہونی حلقوں کی تزویراتی سوچ کا جائزہ ظاہر کرتا ہے کہ یہ اقدامات کئی برس پرانے منصوبوں کے تحت ترتیب دیے گئے ہیں۔
لبنان میں مواصلاتی آلات، بالخصوص پیجرز، میں دھماکوں کی دہشت گردانہ کارروائی اس دعوے کی ایک اہم مثال قرار دی جاتی ہے۔ شواہد سے ظاہر ہوتا ہے کہ اس کارروائی کی منصوبہ بندی میں کئی سال صرف ہوئے۔
یہ صورتحال ظاہر کرتی ہے کہ صیہونی حکومت کی جنگی مشین محض واقعات پر ردعمل ظاہر نہیں کر رہی بلکہ ایک ایسے منصوبے کو مرحلہ وار عملی جامہ پہنا رہی ہے جس کا حتمی مقصد خطے کے ممالک کو اسرائیل کے سنہری دور کے سامنے جھکنے پر مجبور کرنا ہے؛ ایسا دور جس میں امریکہ کی تزویراتی حمایت کے ساتھ تل ابیب کی علاقائی بالادستی ایک مسلمہ حقیقت بن جائے۔
اس حکمت عملی میں مختلف ممالک کی نوعیت کے درمیان کوئی خاص فرق نہیں رکھا جاتا۔ جو بھی ملک اس بالادستی کے خلاف کھڑا ہونے کی کوشش کرے گا، اسے صیہونی حکومت کے غصے اور حملوں کا سامنا کرنا پڑے گا۔
نیتن یاہو کے عزائم؛ غزہ سے شام تک
واشنگٹن کی غیر مشروط حمایت نے صیہونی حکومت کے تزویراتی فیصلہ سازوں کے حوصلے مزید بڑھا دیے ہیں۔ اسی تناظر میں مذکورہ نظریہ ساز ایران کے حوالے سے توازن تبدیل کرنے، قطر پر حملہ کرنے اور شام کے مقبوضہ علاقوں سے انخلا نہ کرنے کی بات کرتے ہیں۔
یہ تمام اقدامات ایک بڑے منصوبے کے مختلف حصے دکھائی دیتے ہیں۔
ان عزائم کے ساتھ مغربی کنارے میں غیر معمولی رفتار سے جاری یہودی بستیوں کی توسیع اور غزہ میں زمین کو بنجر بنانے کی حکمت عملی بھی جاری ہے۔ ان اقدامات کا مقصد ایک ایسی نئی صورتحال مسلط کرنا ہے جس کی بنیاد پورے خطے پر صیہونی حکومت کی بالادستی پر ہو۔
اس ماڈل میں مخالف ممالک اور تحریکوں کو ان قواعد کو تسلیم کرنے پر مجبور کیا جائے گا جو تل ابیب نئے اقتصادی، سیاسی اور سکیورٹی نظام کے لیے طے کرے گا۔
تباہی کا تعطل یا نئے نظام کی پیدائش؟
صیہونی فوجی مرکز دادو کی عسکری اصطلاحات میں جسے عملی آزادیٔ عمل اور متعدد محاذوں پر جنگ کی صلاحیت قرار دیا جاتا ہے، درحقیقت اسے صیہونی حکومت کے روایتی تعطل سے نکلنے کی کوشش کے طور پر دیکھا جا سکتا ہے۔
تاہم خطے کے تجزیہ کاروں کا خیال ہے کہ یہ علاقائی بالادستی کا خواب زمینی حقائق کو نظرانداز کرنے کے مترادف ہے۔
صیہونی حکومت نے ایک علاقائی فریق سے خود کو ایسے جنگل کے سلطان کے طور پر پیش کرنے کی طرف قدم بڑھایا ہے جو دوسروں پر اپنی مرضی مسلط کرنا چاہتا ہے۔ اس کے نتیجے میں اس نے اپنی کشیدگی کا دائرہ اس حد تک وسیع کر لیا ہے کہ طویل مدت میں اس کے اپنے وجود کو سنگین چیلنجز کا سامنا ہو سکتا ہے۔
یہ تجزیہ ظاہر کرتا ہے کہ موجودہ جنگ صرف سکیورٹی کے لیے نہیں بلکہ ایک نئے علاقائی نظام کی تشکیل کے لیے بھی لڑی جا رہی ہے؛ ایسا نظام جس میں صیہونی حکومت بے لگام فوجی طاقت کے سہارے خطے کی ریاستوں اور اقوام کی تقدیر کو اپنے مفاد کے مطابق تبدیل کرنے کی کوشش کر رہی ہے۔


مشہور خبریں۔
رینٹل پاور پروجیکٹ ریفرنس کی سماعت 29 جنوری تک ملتوی
?️ 4 جنوری 2024اسلام آباد:(سچ خبریں) احتساب عدالت اسلام آباد میں زیر سماعت اسپیکر قومی
جنوری
جنگ کے خاتمے کے بغیر قیدیوں کا تبادلہ نا ممکن : فلسطینی مزاحمت
?️ 8 اپریل 2024سچ خبریں: غزہ میں اب تک ہونے والے تمام جنگ بندی مذاکرات کی
اپریل
مسلم لیگ (ن) کا جارحانہ حکمت عملی اپنانے کا فیصلہ
?️ 23 جولائی 2022لاہور: (سچ خبریں)پنجاب کی سیاسی اہمیت کو مدنظر رکھتے ہوئے مسلم لیگ
جولائی
مقبوضہ فلسطین میں توانائی کا بحران؛صیہونی اخبار کی زبانی
?️ 8 اکتوبر 2025سچ خبریں:صیہونی خبررساں ادارے کا کہنا ہے کہ اسرائیل بجلی کے شدید
اکتوبر
محکمہ موسمیات کی آئندہ ہفتے سے ملک کے بیشتر علاقوں میں بارشوں کی پیشگوئی
?️ 25 جولائی 2025اسلام آباد: (سچ خبریں) محکمہ موسمیات نے آئندہ ہفتے ملک کے مختلف
جولائی
امریکی اور چینی صدور کی 6 سال بعد ملاقات
?️ 30 اکتوبر 2025سچ خبریں: امریکی صدر اور چینی صدر نے آج چھ سال بعد
اکتوبر
کرزئی افغانستان سے باہر کیا کر رہے ہیں؟
?️ 20 دسمبر 2022سچ خبریں:افغانستان کے سابق صدر حامد کرزئی نے بیرون ملک بعض افغان
دسمبر
نیتن یاہو کے جنگ طلبانہ بیانات
?️ 19 اکتوبر 2025سچ خبریں:صیہونی وزیر اعظم بنیامین نیتن یاہو نے اعلان کیا ہے کہ
اکتوبر