?️
اسلام آباد(سچ خبریں) وزیر خارجہ شاہ محمود قریشی نے کہا ہے کہ کالعدم تحریک طالبان (ٹی ٹی پی) کے اراکین کو معاف کرنے کے لیے حکومت اس وقت ‘تیار’ ہوگی، اگر وہ وعدہ کریں کہ دہشت گردی کی سرگرمیوں میں ملوث نہیں ہوں گے اور آئین پاکستان کو تسلیم کریں۔
سرکاری خبر ایجنسی اے پی پی کی جانب سے ٹوئٹر پر جاری غیر ملکی اخبار ‘انڈیپنڈنٹ’ کو دیے گئے انٹرویو میں وزیر خارجہ شاہ محمود قریشی نے کہا کہ پاکستان کو ان خبروں پر تشویش تھی کہ ٹی ٹی پی کے رہنماؤں کو طالبان کے قبضے کے بعد جیلوں سے رہا کیا جارہا ہے۔
شاہ محمود قریشی نے کہا کہ اگر افغان حکومت اپنا اثر و رسوخ استعمال کرسکتی ہے اور ٹی ٹی پی سے بات کرے اور اگر ‘ٹی ٹی پی قانون اپنے ہاتھ میں نہ لے اور دہشت گردی کی سرگرمیوں میں ملوث نہ ہو، حکومت اور آئین پاکستان کی رٹ کے سامنے ہتھیار ڈالے تو ہم یہاں تک ان کو معافی کے لیے تیار ہیں’۔
ان کا کہنا تھا کہ ‘جب تک وہ نہیں آتے اور پاکستان میں دہشت گردی کی سرگرمیاں ختم نہیں ہوتیں اس وقت تک ہمیں تشویش ہے’۔
انہوں نے کہا کہ اگر وہ رہائی کے بعد یہاں ہمارے لیے مسائل پیدا کرتے ہیں تو اس سے معصوم لوگوں کی جانوں پر اثر پڑے گا اور ہم ایسا نہیں چاہتے ہیں۔
ان کا کہنا تھا کہ پاکستان کو افغان طالبان کی جانب سے زبانی یقین دہانی کروائی گئی ہے کہ وہ افغانستان سے پاکستان کے اندر کسی گروپ کو دہشت گردی پھیلانے کی اجازت نہیں دیں گے اور پاکستان اس حوالے سے نظر رکھے ہوئے ہے۔
انہوں نے کہا کہ نئی طالبان قیادت کا رویہ 1990 کی دہائی کے مقابلے میں مختلف ہے کیونکہ کابل میں بڑے پیمانے پر احتجاج کو برداشت کیا گیا۔
ان کا کہنا تھا کہ اشرف غنی کو ٹی ٹی پی کے حوالے سے پاکستان نے مسلسل نشان دہی کی لیکن انہوں نے کوئی اقدام نہیں کیا اب دیکھنا ہے کہ افغان طالبان اپنی یقین دہانیوں پر کام کرتے ہیں یا نہیں۔
وزیر خارجہ شاہ محمود قریشی نے کہا ہے کہ پاکستان کی سرزمین میں افغانستان سے آنے والے افراد کے لیے کوئی مہاجر کیمپ یا دوبارہ آباد کرنے کی کوئی سہولت نہیں دی جا رہی ہے۔
شاہ محمود قریشی نے کہا کہ پاکستان ان افراد کے انخلا میں سہولت فراہم کرے گا جن کے پاس مصدقہ دستاویزات ہیں۔
ان کا کہنا تھا کہ افغانستان سے ملحق پاکستانی سرحد پر کوئی دباؤ نہیں ہے کیونکہ افغانستان سے کسی کو بھاگنے کی ضرورت نہیں ہے اور اب ملک میں امن و استحکام آگیا ہے۔
وزیر خارجہ نے کہا کہ ہماری اپنی مجبوریاں ہیں کیونکہ ہم کئی دہائیوں سے 30 لاکھ سے زائد مہاجرین کی میزبانی کر رہے ہیں جو تقریباً 40 لاکھ بن جاتے ہیں اور ہم بغیر کسی بین الاقوامی امداد کے ان سے تعاون کر رہے ہیں اور اب مزید مہاجرین کی میزبانی برداشت کرنا ہمارے بس میں نہیں ہے۔
ان کا کہنا تھا کہ ہماری ترجیح ہے کہ افغانستان کے لوگ اپنے ملک میں رہیں اور انہیں افغانستان کے اندر سلامتی اور تحفظ فراہم کیا جائے۔
انہوں نے کہا کہ برطانیہ کو افغانستان میں نئی حقیقت تسلیم کرلینی چاہیے اور طالبان کی حکومت میں چلنے والے افغانستان کی فوری مدد کرلینی چاہیے اور خبردار کرتے ہوئے کہا کہ طالبان حکام کو تنہا کرنے کی کوشش سے معاشی بحران اور انارکی پھیلے گی۔
شاہ محمود قریشی نے کہا کہ برطانیہ اور اس کے مغربی اتحادی طالبان انتظامیہ کے ساتھ مطلوبہ کام نہیں کر رہے ہیں اور انسانی بحران کے خدشات پر کچھ نہیں کر رہے ہیں۔
ان کا کہنا تھا کہ برطانیہ کو میرا پیغام ہے کہ افغانستان میں ایک نئی حقیقت ہے، اس نئی حقیقت کو تسلیم کریں اور اپنے اہداف کے حصول کے لیے کام کریں۔
انہوں نے کہا کہ ‘آئسولیشن مددگار نہیں ہوگی’ بلکہ اس سے انسانی بحران جنم لے گا اور یہ معاشی بحران کا باعث بنے گا اور اس سے جو عناصر آپ، میں اور ہر کسی کے لیے مدد گار نہیں ہیں ان کے لیے جگہ مل جائے گی۔
وزیر خارجہ نے کہا کہ انارکی اور افراتفری سے انہیں پیر جمانے میں مدد دے گی، اس لیے آئسولیشن کا نہ سوچیں، ہم سمجھتے ہیں کہ ان سے مذاکرات بہتر آپشن ہے، اگر طالبان مثبت بات کر رہے ہیں تو انہیں اس پر چلنے دیں اور انہیں ایک طرف کرنے کی کوشش نہ کریں۔
افغانستان کی مدد کے حوالے سے انہوں نے کہا کہ بنیادی قدم فوری امداد ہے اور اس کے لیے کوئی سیاسی، معاشی یا دیگر مفادات منسلک نہیں ہونے چاہیئں۔
شاہ محمود قریشی کا کہنا تھا کہ یہ ابتدائی اشارے ہیں اور اس کی حوصلہ شکنی نہیں ہونی چاہیے، دیکھتے ہیں کہ وہ اسی سمت سفر جاری رکھتے ہیں۔


مشہور خبریں۔
پاکستان اور سعودی عرب نے مسئلہ کشمیر پر مذاکرات کا مطالبہ کیا
?️ 9 مئی 2021اسلام آباد(سچ خبریں) پاکستان اور سعودی عرب نے مسئلہ کشمیر مذاکرات اور
مئی
وزیر خارجہ اسحٰق ڈار کا مصری اور سعودی ہم منصب سے رابطہ، غزہ کی صورتحال پر تبادلہ خیال
?️ 4 اکتوبر 2025اسلام آباد: (سچ خبریں) نائب وزیراعظم اور وزیر خارجہ اسحٰق ڈار نے
اکتوبر
برداشت کی جنگ
?️ 15 نومبر 2023سچ خبریں:کل اپنے 40ویں دن میں داخل ہو رہا ہے اور ابھی
نومبر
ترکی کے صدر نے نیتن یاہو کس خطاب سے نوازا؟
?️ 4 جون 2024سچ خبریں: ترکی کے صدر نے ایک بیان میں زور دیا کہ
جون
کیا امریکہ ایران کے جزائر کے خلاف امکان زمینی کارروائی کرے گا ؟
?️ 24 جولائی 2026سچ خبریں: ایران اور امریکہ کے درمیان بڑھتی ہوئی کشیدگی کے پیش
جولائی
انتظامیہ نے سیاحوں کو مری میں داخلے کی مشروط اجازت دے دی
?️ 15 جنوری 2022اسلام آباد (سچ خبریں) تفضیلات کے مطابق انتظامیہ نے سیاحوں کو مری
جنوری
کینیڈا نے یوکرین میں خصوصی فورس تعینات کی
?️ 18 جنوری 2022سچ خبریں: یوکرین میں کینیڈین اسپیشل آپریشنز فورسز کی موجودگی روس کو
جنوری
4 ماہ میں ٹرائل مکمل کرنے کے فیصلے میں ملزمان کے حقوق کا تحفظ کیا جائے گا، چیف جسٹس
?️ 17 اپریل 2025اسلام آباد (سچ خبریں) 9 مئی سے متعلق مقدمات کی سماعت کے
اپریل