وزیراعظم نے اقتصادی رابطہ سمیت کابینہ کی 7 کمیٹیاں تشکیل دے دیں

?️

اسلام آباد: (سچ خبریں)وزیر اعظم شہباز شریف نے کابینہ کی 7 کمیٹیاں تشکیل دے دیں، جن میں اقتصادی رابطہ کمیٹی (ای سی سی) اور کابینہ کمیٹی برائے توانائی (سی سی او ای) شامل ہیں۔

کابینہ ڈویژن کی جانب سے علیحدہ جاری نوٹی فکیشن کے مطابق وزیراعظم شہباز شریف اقتصادی رابطہ کمیٹی اور کابینہ کمیٹی برائے توانائی کے چیئرمین ہوں گے، اس سے قبل ای سی سی کی سربراہی وزیر خزانہ کرتے تھے۔

نوٹی فکیشن کے مطابق اقتصادی رابطہ کمیٹی اب وزیراعظم، وفاقی وزرا برائے خزانہ، معاشی امور، تجارت، توانائی، پیٹرولیم اور منصوبہ بندی و ترقی پر مشتمل ہے۔

ٹرمز آف ریفرنس کے مطابق ای سی سی تمام ہنگامی معاشی معاملات اور حکومت کے مختلف ڈویژنوں کی طرف سے شروع کی گئی اقتصادی پالیسیوں کی ہم آہنگی پر غور کرے گی، اس کے علاوہ فلاحی ریاست کا درجہ بتدریج حاصل کرنے کے لیے اقدامات کی نشاندہی اور تجویز، مالیاتی صورت حال پر نظر رکھنا، اور قرضوں کے ضابطے کے لیے تجاویز دینا شامل ہے تاکہ پیداوار اور برآمدات کو بڑھایا اور مہنگائی کو روکا جاسکے۔

یہ زراعت اور صنعتی نمو کے مستقبل کے پیٹرن کا تعین بھی کرے گی اور ملک کی درآمدی پالیسی اور اس کے پیداوار، سرمایہ کاری پر اثرات کا جائزہ بھی لیا جائے گا۔

اب کابینہ کمیٹی برائے توانائی وزیر اعظم، وزرا برائے معاشی امور، خزانہ، پیٹرولیم، منصوبہ بندی و ترقی اور توانائی پر مشتمل ہوگی۔

اسی طرح ملک کے تین اہم ایئرپورٹس کی آؤٹ سورسنگ اور پی آئی اے کی نجکاری کے لیے وفاقی وزیر دفاع اور ہوا بازی خواجہ آصف کی سربراہی میں کمیٹی تشکیل دے دی ہے۔

کمیٹی ارکان میں وزیر نجکاری عبدالعلیم خان کے ساتھ ساتھ وزیر خارجہ اسحٰق ڈار، ڈپٹی چیئرمین پلاننگ کمیشن، سیکریٹری نجکاری اور سیکریٹری ہوا بازی ڈویژن بھی شامل ہیں۔

کمیٹی ایئرپورٹ مینجمنٹ کی آؤٹ سورسنگ کا جائزہ لے گی اور پی آئی اے کی نجکاری سے متعلق امور کی نگرانی بھی کرے گی۔

کابینہ کی ایک اور کمیٹی برائے سرکاری ملکیتی ادارے (ایس او ایز) تشکیل دی گئی ہے، جس کی سربراہی وزیر خزانہ کریں گے، دیگر اراکین میں وزرا برائے سمندری امور، اقتصادی امور، سائنس اور ٹیکنالوجی اور ہاؤسنگ اینڈ ورکس شامل ہیں۔

اسی طرح، کابینہ کمیٹی برائے نجکاری کی سربراہی وزیر خارجہ کریں گے، جو سرکاری ملکیتی اداروں کی نجکاری کے لیے پالیسی مرتب کریں گے، کمیٹی کے دیگر اراکین میں وزرا برائے خزانہ، تجارت، توانائی، صنعت و پیداوار اور نجکاری شامل ہیں۔

وفاقی وزیر قانون و انصاف کی سربراہی میں کابینہ کمیٹی برائے ڈسپوزل آف لیجسلیٹو کیسز تشکیل دی گئی ہے، اس کے دیگر اراکین میں اطلاعات، اووسیز پاکستانیز، تجارت و معاشی امور، صنعت و پیداوار کے وزرا شامل ہیں۔

ایک اور کابینہ کمیٹی برائے چینی سرمایہ کاری پروجیکٹس (سی سی سی آئی پی) تشکیل دی گئی ہے، جس کی سربراہی وزیر برائے منصوبہ بندی و ترقی کریں گے، اس کے دیگر ارکان میں وزرا برائے خارجہ امور، داخلہ، خزانہ، تجارت، پٹرولیم، توانائی، ریلوے اور سائنس و ٹیکنالوجی شامل ہیں۔

سی سی سی آئی پی چینی کمپنیوں کی جانب سے سرمایہ کاری کے منصوبوں کی پیشرفت دیکھے گی، یہ کمیٹی چینی سرمایہ کاروں کو درپیش مسائل کو فوری حل، چینی سرمایہ کاری کو سہولت، سست رفتار منصوبوں کو دوبارہ فعال کرنا اور پاکستان میں کام کرنے والے چینی شہریوں کی سیکیورٹی کا جائزہ لے گی۔

مشہور خبریں۔

افغانستان کے بعض صوبوں میں انٹرنیٹ بحال

?️ 1 اکتوبر 2025 افغانستان کے بعض صوبوں میں انٹرنیٹ بحال ذرائع ابلاغ نے اطلاع

سال کا ایک تہائی حصہ عیاشیوں میں گزارنے والا صدر کس ملک کا ہے؟

?️ 2 جنوری 2024سچ خبریں: ایک امریکی نیوز ویب سائٹ نے اپنی رپورٹ میں لکھا

ترک صدر کا ایک بار پھر اسرائیل پر زبانی حملہ

?️ 4 نومبر 2023سچ خبریں: ترک صدر نے ایک بار پھر غزہ کی پٹی میں

حکومت نے عوام پر ٹیکس کا اضافی بوجھ کیوں ڈالا؟

?️ 4 جولائی 2024سچ خبریں: پاکستان کے حالیہ بجٹ پر نہ صرف اپوزیشن رہنماؤں نے

دہشت گردوں کا مذہب سے کوئی تعلق نہیں، یہ پاکستان کے دشمنوں کی پراکسیز ہیں، آرمی چیف

?️ 1 اکتوبر 2023اسلام آباد:(سچ خبریں) چیف آف آرمی اسٹاف جنرل عاصم منیر نے ملک

اسموتریچ کا بیٹا غزہ کی جنگ سے فرار؛ وجہ؟

?️ 27 جولائی 2025سچ خبریں: بن کاسپٹ نے ایک ٹی وی انٹرویو میں انکشاف کیا

ایران کے ساتھ جنگ ​​کے بعد اسرائیلی معاشرے کی تقسیم اور خلفشار پر صیہونی سیکورٹی سینٹر کی رپورٹ

?️ 3 جولائی 2025سچ خبریں: صہیونی مرکز برائے داخلی سلامتی کے مطالعہ نے رپورٹ کیا

پی ٹی آئی کو جلسے کی اجازت پر عدالت کا ڈپٹی کمشنر لاہور کو شام تک فیصلہ کرنے کا حکم

?️ 20 ستمبر 2024لاہور: (سچ خبریں) لاہور ہائیکورٹ نے ڈپٹی کمشنر کو تحریک انصاف کی

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے