وزیراعظم آرمی چیف کے تقرر پر کسی بھی دباؤ کو قبول نہیں کریں گے۔

?️

اسلام آباد: (سچ خبریں) اگلے آرمی چیف کے تقرر کے حوالے سے ملک کے اندر اور باہر مختلف اسٹیک ہولڈرز کے درمیان اہم بات چیت جاری ہے جب کہ شریف برادران نے گزشتہ روز لندن میں ہونے والی ایک اہم ترین ملاقات میں مبینہ طور پر فیصلہ کیا ہے کہ چاہے کچھ بھی ہو حالات و نتائج ہوں، وزیر اعظم کسی بھی ‘دباؤ’ کو قبول نہیں کریں گے۔

میڈیا رپورٹس کے مطابق دوسری جانب، گزشتہ روز ہی ایک اور اہم پیش رفت سامنے آئی کہ سابق وزیر اعظم نواز شریف کو سفارتی پاسپورٹ جاری کردیا گیا ہے جس کے بعد ان کی وطن واپسی کی راہ ہموار ہوگئی ہے۔

پاکستان تحریک انصاف کے چیئرمین عمران خان کی جانب سے ایسے نئے آرمی چیف کے تقرر کے لیے دباؤ کے پیش نظر جو ان کے لیے قابل قبول ہو اور قبل از وقت انتخابات کا اعلان کرے، وزیراعظم شہباز شریف اور ان کے بڑے بھائی کے درمیان لندن میں ہونے والی اہم بات چیت کے حوالے سے باخبر معتبر ذرائع نے ڈان کو بتایا کہ ملاقات کے دوران دونوں نے فیصلہ کیا کہ آرمی چیف کے تقرر کے وزیر اعظم کے اختیارات کسی بھی قیمت پر کسی دوسرے شخص کو نہیں دیے جائیں گے۔

اندرونی ذرائع نے بتایا کہ وزیر اعظم تیزی سے بدلتے ہوئے سیاسی منظر نامے کے تناظر میں اپنے بڑے بھائی کے سامنے مبینہ طور پر کچھ حلقوں کی جانب سے پیش کیے گئے آپشنز کو رکھنے کے لیے لندن گئے۔

ذرائع نے بتایا کہ دونوں بھائیوں نے عمران خان کے فوری انتخابات کے مطالبے کو تسلیم نہ کرنے پر اتفاق کیا۔

وزیراعظم شہباز شریف نے نواز شریف کو بتایا کہ پاکستان ڈیموکریٹک موومنٹ (پی ڈی ایم) کی تقریباً تمام جماعتیں آرمی چیف کے تقرر اور موجودہ حکومت کی مدت اگست 2023 تک مکمل کرنے کے وزیر اعظم کے اختیارات پر ایک صفحے پر ہیں، پی ڈی ایم میں شامل جماعتیں اپنی حکومت کی قربانی دینے تک کے لیے بھی تیار ہیں لیکن وہ اس معاملے پر اپنے مؤقف سے پیچھے نہیں ہٹیں گی۔

ان ملاقاتوں میں نواز شریف کے بچے مریم نواز، حسن نواز اور حسین نواز بھی موجود تھے۔

وزیر دفاع خواجہ آصف نے بھی نجی ٹی وی چینل کو تصدیق کی کہ شریف برادران نے آرمی چیف کے تقرر سے متعلق بات چیت کی۔

مسلم لیگ (ن) کے اندرونی ذرائع نے کہا کہ اتحادی حکومت پر آرمی چیف کے تقرر اور نئے انتخابات کے معاملے پر کچھ حلقوں کی جانب سے ‘کچھ دباؤ’ تھا۔

انہوں نے کہا کہ اسی دباؤ کے پیش نظر شہباز شریف نے پارٹی قائد سے رابطہ کیا کہ وہ فیصلہ کریں کہ مطالبات مانے جائیں یا نہیں۔

وزیر اعظم دو روز قبل مصر سے واپسی پر اپنے بڑے بھائی اور پارٹی قائد سے نئے آرمی چیف کے تقرر پر ‘حتمی بات چیت’ کے لیے لندن پہنچے تھے جو 3 سال سے خود ساختہ جلاوطن ہیں، ذرائع کا کہنا ہے کہ ملاقات میں جنرل قمر جاوید باجوہ کی مدت ملازمت میں توسیع پر بھی تبادلہ خیال کیا گیا، موجودہ آرمی چیف کی مدت ملازمت 29 نومبر کو ختم ہو رہی ہے۔

رواں سال اپریل میں وزیر اعظم کا عہدہ سنبھالنے کے بعد شہباز شریف کا یہ برطانیہ کا تیسرا دورہ تھا۔

معزول وزیر اعظم عمران خان نے متعدد مواقع پر وزیر اعظم کو اشتہاری مجرم (نواز شریف) کے ساتھ اہم تعیناتی پر بات کرنے پر تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے کہا کہ یہ آفیشل سیکرٹ ایکٹ اور ان کے حلف کی خلاف ورزی ہے۔

تاہم نئے آرمی چیف کے انتخاب سے قبل مشاورت کا بار بار مطالبہ کرنے کے بعد چند روز قبل زمان پارک میں اپنی رہائش گاہ پر صحافیوں سے بات چیت کرتے ہوئے عمران خان نے نئے آرمی چیف کی تعیناتی کے معاملے پر ایک نئے مؤقف کا اظہار کیا اور کہا کہ انہیں شہباز شریف کی زیر قیادت اتحادی حکومت کی جانب سے اس اہم تعیناتی پر کوئی اعتراض نہیں ہے۔

اس سے قبل گزشتہ کئی مہینوں میں متعدد عوامی جلسوں اور بیانات میں عمران خان نے کہا تھا کہ شریف برادران اور آصف زرداری اعلیٰ فوجی عہدے پر تقرر کے لیے نااہل ہیں اور چوروں کو ایسا کرنے کی اجازت نہیں دی جاسکتی۔

انہوں نے الزام لگایا تھا کہ آصف زرداری اور نواز شریف احتساب سے بچنے کے لیے اپنی پسند کا آرمی چیف مقرر کرنا چاہتے ہیں۔

انہوں نے جنرل قمر جاوید باجوہ کو آئندہ انتخابات تک توسیع دینے کی تجویز بھی دی تھی، عمران خان نے کہا تھا کہ نئے آرمی چیف کا تقرر تازہ انتخابات کے بعد منتخب ہونے والے وزیر اعظم کی جانب سے کیا جانا چاہیے، انہوں نے کہا تھا کہ اہم تعیناتی نئی منتخب حکومت کے ذریعے کی جانی چاہیے۔

ڈان کی جانب سے رابطہ کرنے پر وفاقی وزیر اطلاعات مریم اورنگزیب نے شریف برادران کے درمیان ہونے والی بات چیت پر کوئی ردعمل نہیں دیا۔

مشہور خبریں۔

عمان کے مفتی اعظم کا صیہونی حکومت کی انتہا پسند کابینہ کا مقابلہ کرنے کا مطالبہ

?️ 16 جنوری 2023سچ خبریں:عمان کے مفتی اعظم نے اسلامی امت سے متحد ہو کر

ایران کے خلاف ڈیٹرنس پیدا کرنے میں بائیڈن کی ناکامی: گلوبل ٹائمز

?️ 18 جولائی 2022سچ خبریں:    گلوبل ٹائمز امریکی صدر جو بائیڈن نے مشرق وسطیٰ

ٹرمپ کا دعویٰ: ایران کے ساتھ معاہدہ تقریباً مکمل طور پر حتمی ہو چکا ہے

?️ 12 جون 2026سچ خبریں: امریکہ کے صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے نیوز ویب سائٹ نیویارک

فلسطینی نوجوانوں نے اسرائیلی فوج کی ایک چوکی کو آگ لگادی

?️ 5 اپریل 2021مقبوضہ بیت المقدس (سچ خبریں) مقبوضہ بیت المقدس میں اسرائیلی مظالم سے

ملکی معیشت ایک بار پھر خطرے میں

?️ 26 دسمبر 2021گوادر (سچ خبریں) پاکستانی معیشت کیلئے انتہائی مایوس کن خبر، گوادر میں

سینٹ کام کا یمنی ڈرون کو روکنے اور تباہ کرنے کا دعویٰ

?️ 23 مئی 2024سچ خبریں: مغربی ایشیا میں موجود امریکی سینٹرل ملٹری کمانڈ، جسے سینٹ

یوکرین جنگ کو کون نہیں ختم ہونے دے رہا؟

?️ 26 اگست 2023سچ خبریں: 2024 کے امریکی صدارتی انتخابات کے لیے بھارتی نژاد ریپبلکن

امریکہ راستے سے بھٹک چکا ہے ؟ وجہ، ٹرمپ کی زبانی

?️ 28 جنوری 2024سچ خبریں: امریکہ کے سابق صدر نے سرحدی اصلاحات کے دو طرفہ

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے