نواز شریف کا پاسپورٹ نہ بنانے پر مسلم لیگ(ن) کا رد عمل سامنے آگیا

نواز شریف

?️

لاہور(سچ خبریں) مسلم لیگ (ن) کے تاحیات قائد اور سابق وزیر اعظم نواز شریف کا جہاں ایک طرف پاسپورٹ زائد المیعاد (ایکسپائر) ہوگیا ہے وہیں دوسری طرف نیا پاسپورٹ دینے سے انکار کر دیا ہے حکومت کے اس موقف کے بعد مسلم لیگ ن کے کا کہنا کہ وہ حکومت کے فیصلے کو کائی اہمیت نہیں دیتے اور نہ ہی پارٹی کے حالیہ اجلاس میں اس موضوع پر کوئی بات ہوئی ہے۔

پارٹی کے اندرونی ذرائع نے نام ظاہر نہ کرنے کی شرط پر بتایا کہ پارٹی نے 5 وجوہات کے باعث اس معاملے پر اپنی دلچسپی کھو دی ہے، پہلا یہ حکومت نواز شریف کو واپسی لانے کے لیے جو کرسکتی تھی وہ کیا لیکن ناکام رہی یہاں تک کہ پی ٹی آئی حکومت نے اب پاسپورٹ کے معاملے کا ذکر کرنا چھوڑ دیا ہے، حکومت نے اس پر ایک مسئلہ پیدا کرنے کی کوشش کی، عارضی سیاسی فائدہ اٹھانا چاہا اور برطانوی حکومت کو خط لکھا اور ناکام ہوئی۔

یہ معاملہ حکومت کے لیے اس وقت مزید خفت کا باعث بنا جب وزیر داخلہ شیخ رشید احمد نے لاہور میں ایک پریس کانفرنس کے دوران بتایا کہ عمران خان نے انہیں ہدایت کی کہ نواز شریف کو نیا پاسپورٹ جاری نہ کیا جائے جس نے پورا معاملہ عمران خان کی جانب موڑ دیا۔

یہاں تک کہ ناکامی اور سیاسی قیمت کی وجہ سے عمران خان بھی گزشتہ کئی ماہ سے اس پر بات نہیں کر رہے تھے، اس طرح یہ معاملہ حکومت اور پارٹی کے لیے بھی دم توڑ گیا۔

دوسرا یہ کہ سابق وزیر اور پارٹی کے اعلیٰ عہدوں پر موجود لوگوں کے لیے یہ ایک ذاتی مسئلہ سے زیادہ ہے کہ اس موضوع پر پالیسی اور ترجیح کیا ہے، صرف اہل خانہ خاص طور پر لندن میں موجود ان کے صاحبزادوں اور بیٹی مریم نواز اس بارے میں جانتے ہیں۔

پارٹی کے لیے اتنا ہی جاننا کافی ہے کہ ان کے رہنما کو 3 وجوہات کی بنیاد پر برطانیہ میں قیام کے دوران کوئی مسئلہ نہیں ہے، ایک طبی بنیاد پر برطانیہ میں قیام کے لیے 18 ماہ کی قانونی مدت، دوسرا انحصار کا آپشن اور اگر یہ دونوں وجوہات کام نہ کریں تو سرمایہ کاری کا راستہ موجود ہے۔

پارٹی کو بتایا گیا کہ اگر ایک شخص کا طبی علاج ہورہا ہے تو اسے قانونی طور پر ملک میں 18 ماہ تک رہنے کی اجازت ہے، تاہم نواز شریف کے معاملے میں جو ایک ڈپلومیٹک پاسپورٹ رکھتے ہیں اور 10 سال کا ویزا ہے انہیں اس طرح کی اجازت کی ضرورت نہیں ہوگی۔

جہاں تک پاسپورٹ کا معاملہ ہے یہ شہری (نواز شریف) اور اس کی ریاست (پاکستان) کے درمیان ہے، برطانوی حکومت کے لیے تشویش کا واحد سبب یہ ہے کہ ملک میں داخلے کے وقت قانونی معاملات ہوں، لہٰذا ان تمام عوامل کا احاطہ کیا گیا ہے اور پارٹی کی جانب سے کبھی اس سے زیادہ وضاحت نہیں مانگی گئی۔

جہاں تک انحصار کے آپشن کا تعلق ہے تو اگر ایک شخص 65 سال کی عمر عبور کرجاتا ہے تو اس پر انحصار کا قانون لاگو ہوتا ہے، نواز شریف کے معاملے میں ضرورت پڑنے پر اس کا استعمال کیا جاسکتا ہے کیونکہ ان کی عمر اور صحت کے ساتھ ضرورت پر اس کا استعمال ہوسکتا ہے اور نواز شریف، حسن نواز پر انحصار کرنے کی حیثیت سے رک سکتے ہیں، جن کا وہاں پر ایک اچھا کاروبار ہے۔

آخری یہ کہ وہاں سرمایہ کاری کا آپشن بھی ہے اور ایک مخصوص رقم کی سرمایہ کاری کے ساتھ کوئی بھی وہاں ایک مخصوص وقت کے لیے رک سکتا ہے۔

گزشتہ 4 ماہ میں یہ وہ نکتہ ہے جس کے بارے میں پارٹی کو بتایا گیا ہے اور کہا گیا ہے وہ اس معاملے پر پریشان ہونا چھوڑ دیں اور ایسا ہی ہوا ہے۔

مشہور خبریں۔

ہیکرز نے اسرائیلی کنیسٹ کے دو ارکان کے موبائل فونز میں گھس کر ان کی ذاتی معلومات کو بے نقاب کیا

?️ 25 دسمبر 2025سچ خبریں: عبرانی زبان کے میڈیا نے اطلاع دی ہے کہ ہیکرز

ایرانی صدر سے محسن نقوی کی ملاقات، پاک-افغان کشیدگی کم کرانے میں تعاون کی پیشکش

?️ 29 اکتوبر 2025تہران: (سچ خبریں) ایرانی صدر مسعود پزشکیان نے وفاقی وزیر داخلہ محسن

دسمبر 2021ء کے دوران پاکستان کی درآمدات 6 اعشاریہ 9 بلین امریکی ڈالر رہ گئیں

?️ 2 جنوری 2022اسلام آباد (سچ خبریں)  تفصیلات کے مطابق وزیر اعظم عمران خان کے

اس صدی کے معاملہ کے مقاصد تل ابیب اور عرب ممالک کے ساتھ تعلقات

?️ 28 نومبر 2021سچ خبریں: صیہونی حکومت اور عرب ممالک کے درمیان معمول کے معاہدوں کا

شاہ رخ خان کا ہاتھ جوڑ کر مداحوں کو سلام اور شکریہ

?️ 21 اکتوبر 2021ممبئی (سچ خبریں) بالی ووڈ کنگ شاہ رخ خان نے آج صبح

غزہ کے خلاف ٹرمپ کے سازشی مؤقف پر فلسطینی گروپوں کا شدید ردعمل

?️ 6 فروری 2025سچ خبریں: فلسطینی تحریک حماس کے ترجمان حازم قاسم نے امریکی صدر

پاور ڈویژن کی جولائی سے بجلی مزید مہنگی ہونے کی خبروں کی تردید

?️ 15 مئی 2024اسلام آباد: (سچ خبریں) پاور ڈویژن کی جانب سے جولائی سے ملک

عمران خان کا ساتھ دینے کے لئے ہمیں فون آرہے ہیں: مریم نواز

?️ 5 فروری 2021اسلام آباد(سچ خبریں) پاکستان مسلم لیگ (ن) کی نائب صدر مریم نواز

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے