ننکانہ صاحب واقعہ میں پولیس نے 60 افراد کو گرفتار کرلیا

?️

ننکانہ صاحب: (سچ خبریں) ننکانہ صاحب پولیس  نے تھانے کے باہر ایک شخص کو تشدد کر کے قتل کرنے میں ملوث 60 ملزمان کو گرفتار کر لیا۔میڈیا رپورٹس  کے مطابق پولیس کی متعدد ٹیموں نے مشتبہ افراد کی گرفتاری کے لیے رہائش گاہوں، کاروباری مقامات اور دیگر مقامات پر بڑے پیمانے پر کریک ڈاؤن کیا۔

شیخوپورہ کے ریجنل پولیس آفیسر (آر پی او) بابر سرفراز الپا نے بتایا کہ ایف آئی آر میں تقریباً 17 مشتبہ افراد/حملہ آوروں کو نامزد کیا گیا ہے۔

انہوں نے کہا کہ پولیس حملہ آوروں کے خلاف اپنی کارروائی میں بالکل واضح تھی چاہے ان کا تعلق کسی مذہبی تنظیم یا سیاسی جماعت سے ہو۔

ننکانہ صاحب کے ڈسٹرکٹ پولیس آفیسر (ڈی پی او) عاصم افتخار نےڈان کو بتایا کہ ’دیگر ملزمان کی گرفتاری کے لیے چھاپے مارے جا رہے ہیں۔‘

انہوں نے کہا کہ واربرٹن پولیس نے دو فرسٹ انفارمیشن رپورٹس درج کیں، ایک ان سیکڑوں مشتبہ افراد کے خلاف تھی جنہوں نے تھانے پر حملہ کر کے وارث کو قتل کیا اور دوسری قرآن پاک کی بے حرمتی کی تھی

انہوں نے مزید بتایا کہ پولیس ٹیم نے واقعے کی 923 ویڈیو کلپس حاصل کی ہیںجس کے ذریعے ملزمان میں سے 60 کی شناخت کر کے گرفتار کیا جاچکا ہے جبکہ مزید مشتبہ افراد کی شناخت کا عمل جاری ہے۔

انہوں نے مزید بتایا کہ اس کے علاوہ کلپس کا فرانزک تجزیہ بھی کیا گیا جو زیادہ تر موبائل فون سے ریکارڈ کیے گئے تھے۔

ڈی پی او کے مطابق 800 افراد پر مشتمل ہجوم نے توہین مذہب کے الزام میں قید ملزم کو غیر قانونی طور پر حراست میں لینے کے لیے تھانے پر حملہ کیا۔

عاصم افتخار نے کہا کہ 50 پولیس اہلکار تھے جنہوں نے اس شخص کو بچانے کی کوشش کی لیکن ہجوم کی تعداد اس سے کہیں زیادہ تھی۔

انہوں نے کہا کہ نفری کے لیے ہنگامی کال کے جواب میں متعدد پولیس اہلکار اس طرف جارہے تھے لیکن ان کے پہنچنے سے پہلے ہی ہجوم اس شخص کو ہلاک کر چکا تھا۔

انہوں نے بتایا کہ 15 گرفتار افراد کا تعلق مذہبی سیاسی جماعت سے ہے۔

ایک اور سینئر پولیس افسر جو اس واقعے کے قریب موجود تھے، ان کا کہنا تھا کہ تشدد کر کے قتل میں 15 افراد براہِ راست ملوث تھے۔

انہوں نے کہا کہ قتل کیا جانے والا وارث 2019 میں درج کیے گئے توہین مذہب کے مقدمے سے حال ہی میں جیل سے بری ہو کر آیا تھا اور عدالت نے اسے بے گناہ قرار دیا تھا۔

پولیس نے بتایا کہ وارث نے 2016 میں شادی کی تھی لیکن اپنی بیوی کو طلاق دینے کے بعد واربرٹن تھانے کی حدود میں واقع گھر میں اکیلا رہتا تھا۔

پولیس ذرائع کا کہنا تھا واربرٹن پولیس کو گزشتہ کئی روز کے دوران قرآن کی بے حرمتی سے متعلق 3 کالز موصول ہوئی تھیں، ایسی ہی آخری کال میں مقامی افراد نے دعویٰ کیا تھا کہ انہوں نے قرآن پاک کے شہید اوراق اور وارث کی سابقہ اہلیہ کی جلی ہوئی تصویر دیکھی۔

موقع پر پہنچ کر وارث کو بچانے والے پولیس افسر کا مزید کہنا تھا اس سے علاقہ مکینوں میں غم و غصہ پھیل گیا، جو وارث کے گھر پہنچ گئے اور اسے زبردستی مارا پیٹا۔

تاہم مشتعل ہجوم نے وارث کو اپنی تحویل میں لینے کے لیے پولیس کا پیچھا کیا، تھانے لا کر پولیس نے ملزم کو فوری طور پر باتھ روم میں بند کر دیا کیونکہ مقامی مساجد سے قانون کو ہاتھ میں لینے کے اعلانات ہوئے تو عمارت کے باہر مزید لوگ جمع ہونا شروع ہو گئے تھے۔

پولیس ذرائع نے بتایا کہ صورتحال اس وقت قابو سے باہر ہوگئی جب ایک مذہبی جماعت کے کچھ ارکان نے قیادت سنبھالی، ’مذہبی نعرے‘ لگائے اور لوگوں کو پولیس اسٹیشن پر حملہ کرنے کے لیے اکسایا۔

مشہور خبریں۔

صیہونی حکومت زیادہ دیر نہیں رہے گی:لبنانی عہدیدار

?️ 26 ستمبر 2022سچ خبریں:لبنان کی پارلیمنٹ میں مزاحمتی تحریک کے حامی دھڑے کے سربراہ

تم مجھے چھیڑو گے تو میں بھی تمہیں چھیڑوں گا

?️ 5 اگست 2023سچ خبریں:ڈونلڈ ٹرمپ نے 2020 کے صدارتی انتخابات کے نتائج کو کالعدم

خارجہ پالیسی کا ٹرمپ کی "امریکہ فرسٹ” پالیسی اور صیہونی حکومت کے مفادات کے لیے ایک سنگین چیلنج

?️ 14 مئی 2025سچ خبریں: فارن پالیسی میگزین نے آج لکھا ہے کہ صدر کے

وزیر اعظم نے مہنگائی کے خلاف جہاد کا اعلان کر دیا، شبلی فراز

?️ 7 مارچ 2021اسلام اباد(سچ خبریں) اسلام آباد میں میڈیا بریفنگ کے وفاقی وزیر اطلاعات

نیتن یاہو غزہ معاہدے کے دوسرے مرحلے پر مجبور نہیں

?️ 10 دسمبر 2025سچ خبریں: ٹرمپ انتظامیہ دوسرے مرحلے کا آغاز فوری طور پر چاہتی ہے،

تہران اور مسقط کا علاقائی استحکام کے لیے سفارتی مواقع سے فائدہ اٹھانے پر اصرار

?️ 23 جون 2026سچ خبریں: عمان کی سرکاری خبر رساں ایجنسی نے اپنے سوشل میڈیا پلیٹ

صدر مملکت سے نگران وزیرقانون کی ملاقات، انتخابات پر تبادلہ خیال، آئین کی بالادستی پر زور

?️ 4 ستمبر 2023اسلام آباد:(سچ خبریں) صدر مملکت ڈاکٹر عارف علوی نے نگران وفاقی وزیر

کیا امریکہ شام میں نرم حکمت عملی کی جانب واپسی

?️ 21 دسمبر 2025کیا امریکہ شام میں نرم حکمت عملی کی جانب واپسی  برسوں کے

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے