میزائل پروگرام سے متعلق چینی کمپنیوں پر امریکی پابندیاں ’سیاسی‘ ہیں، دفتر خارجہ

?️

اسلام آباد: (سچ خبریں) پاکستان نے اپنے بیلسٹک میزائل پروگرام سے مبینہ طور پر منسلک چینی کمپنیوں پر امریکی پابندیوں کو ’جانبدارانہ اور سیاسی مقاصد پر مبنی‘ قرار دیتے ہوئے واشنگٹن کے ’دوہرے معیار‘ پر کڑی تنقید کی ہے۔

میڈیا رپورٹس کے مطابق دفتر خارجہ کی ترجمان ممتاز زہرہ بلوچ نے پابندیوں کو مسترد کرتے ہوئے انہیں ’متعصبانہ اور سیاسی طور پر محرک‘ قرار دیا۔ انہوں نے کہا کہ ماضی میں کمپنیوں پر ’محض شک کی بنیاد پر‘ پابندیاں عائد کی گئی تھیں۔

انہوں نے کسی ملک کا نام لیے بغیر کہا ’یہ سب کو معلوم ہے کہ کچھ ممالک نے عدم پھیلاؤ کے اصولوں پر سختی سے عمل پیرا ہونے کا دعویٰ کرنے کے باوجود اپنی پسندیدہ ریاستوں کے لیے جدید ملٹری ٹیکنالوجی کے لیے لائسنس کی شرائط کو آسانی سے نظرانداز کردیا‘۔

’اس طرح کے دوہرے معیارات اور امتیازی طرز عمل عالمی عدم پھیلاؤ کی حکومتوں کی ساکھ کو نقصان پہنچاتے ہیں، فوجی عدم توازن میں اضافہ کرتے ہیں، اور بین الاقوامی امن و سلامتی کو خطرے میں ڈالتے ہیں‘۔

یاد رہے کہ امریکی محکمہ خارجہ نے پاکستان کے بیلسٹک میزائل پروگرام کے لیے مبینہ طور پر آلات فراہم کرنے کے الزام میں ایک چینی تحقیقی ادارے اور متعدد کمپنیوں پر پابندیاں عائد کی تھیں۔

پابندیوں کا ہدف ایک چینی ریسرچ انسٹی ٹیوٹ اور متعدد کمپنیوں کو بنایا گیا، جن میں بیجنگ ریسرچ انسٹی ٹیوٹ آف آٹومیشن فار مشین بلڈنگ انڈسٹری، ہوبے ہواچنگدا انٹیلی جنٹ ایکوئپمنٹ کمپنی، یونیورسل انٹرپرائز، اور ژیان لونگدے ٹیکنالوجی ڈویلپمنٹ کمپنی شامل ہیں۔

واشنگٹن نے الزام لگایا کہ بیجنگ ریسرچ انسٹی ٹیوٹ آف آٹومیشن فار مشین بلڈنگ انڈسٹری نے شاہین 3 اور ابابیل سسٹمز اور ممکنہ طور پر بڑے سسٹمز کے لیے راکٹ موٹرز کی جانچ کے لیے آلات کی خریداری کے لیے پاکستان کے ساتھ کام کیا ہے۔

واشنگٹن نے اسی طرح اکتوبر 2023 میں چین میں مقیم تین فرموں کو پاکستان کو میزائل سے متعلق اشیاء کی فراہمی پر پابندیوں کا نشانہ بنایا۔

ہفتہ کو ایک الگ بیان میں دفتر خارجہ نے کہا کہ پاکستان اور چین نے جمعہ کو اسلام آباد میں ہتھیاروں کے کنٹرول اور عدم پھیلاؤ پر دو طرفہ مشاورت کا نواں دور منعقد کیا۔

سفیر طاہر اندرابی، دفتر خارجہ میں آرمز کنٹرول اور تخفیف اسلحہ کے ڈائریکٹر جنرل اور چینی وزارت خارجہ میں آرمز کنٹرول کے ڈائریکٹر جنرل سن شیاؤبو نے وفد کی سطح کے مذاکرات کی قیادت کی۔

مشاورتی اجلاس میں ہتھیاروں کے کنٹرول، عدم پھیلاؤ، عالمی اور علاقائی سلامتی، سائبر سیکیورٹی اور مصنوعی ذہانت جیسی ابھرتی ہوئی ٹیکنالوجیز، بیرونی خلا، اور مشترکہ جوہری ٹیکنالوجی کے تعاون کا احاطہ کیا گیا۔

اجلاس میں کثیرالجہتی فورمز کے ایجنڈوں کا بھی جائزہ لیا گیا جن میں اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی، آئی اے ای اے، کیمیائی ہتھیاروں کی روک تھام کی تنظیم اور دیگر تخفیف اسلحہ کے معاہدوں کا بھی جائزہ لیا گیا۔

مشہور خبریں۔

عراق سے غیر ملکی فوج کب نکلے گی؟

?️ 31 اکتوبر 2023سچ خبریں: عراق کی بدر تنظیم کے سکریٹری جنرل نے یہ بنان

امریکہ یمن کے تیل کو کنٹرول کرنے کی کوشش کر رہا ہے: یمنی اہلکار

?️ 3 جولائی 2022سچ خبریں:    یمن کی نیشنل سالویشن گورنمنٹ کے وزیر اعظم عبدالعزیز

مغربی ممالک میں اسلاموفوبیا؛کیا اب جرمنی کی باری ہے؟

?️ 5 اگست 2023سچ خبریں: عراق میں برلن کے سفارت خانے نے ایک بیان میں

صیہونی حکومت کے حکمران ڈھانچے کے سکینڈلز کا تسلسل

?️ 2 مئی 2023سچ خبریں:یدیعوت احرانوت اخبار کے مطابق پولیس نے رشوت لینے، دھوکہ دہی،

ایران جنگ پر سعودی عرب اور امریکہ کے تعلقات میں شدید کشیدگی؛نیویارک پوسٹ کا انکشاف

?️ 2 جولائی 2026سچ خبریں:نیویارک پوسٹ نے ایران کے خلاف جنگ کے معاملے پر سعودی

برازیل کے صدر نے سلامتی کونسل کے ڈھانچے کو تبدیل کرنے کا مطالبہ کردیا

?️ 29 اگست 2023اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کے موجودہ ڈھانچے پر تنقید کرتے ہوئے

بیرون ملک پھنسے پاکستانیوں کی واپسی کیلئے اقدامات شروع

?️ 5 جولائی 2021اسلام آباد(سچ خبریں) غیر ملکی ایئرلائنز کی جانب سے پروازوں کی منسوخی

یوم شہداء کشمیر اور ہماری ذمہ داریاں

?️ 14 جولائی 2021(سچ خبریں)  پاکستان سمیت دنیا بھر میں منگل کے روز یوم شہداء

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے