موسمیاتی تبدیلی اتھارٹی کیس: سیکریٹری برائے ماحولیاتی تبدیلی، چاروں صوبائی چیف سیکریٹریز طلب

?️

اسلام آباد: (سچ خبریں) سپریم کورٹ نے موسمیاتی تبدیلی اتھارٹی کے قیام سے متعلق کیس میں آئندہ سماعت پر سیکریٹری ماحولیاتی تبدیلی اور چاروں صوبائی چیف سیکریٹریز کو طلب کر لیا۔

ڈان نیوز کے مطابق عدالت نے چاروں چیف سیکریٹریز کو بذریعہ ویڈیو لنک پیش ہونے کی ہدایت کی ہے۔

دوران سماعت وفاقی حکومت نے موسمیاتی تبدیلی اتھارٹی کے قیام کا نوٹیفکیشن عدالت میں پیش کردیا۔

جسٹس منصور علی شاہ نے استفسار کیا کہ اتھارٹی تو قائم ہوگئی لیکن یہ فعال کب ہوگی؟ ایڈیشنل اٹارنی جنرل نے بتایا کہ اتھارٹی کے ممبران کی تعیناتی کے لیے اشتہار جاری کر دیا، دو ماہ میں عمل مکمل ہوگا، عدالت نے مزید دریافت کیا کہ موسمیاتی تبدیلی کے لیے کوئی ٹھوس اقدام کیا ہے تو بتا دیں؟

ایڈیشنل اٹارنی جنرل نے اعتراف کیا کہ اس میں شک نہیں کہ وفاقی و صوبائی حکومتوں کا رویہ سنجیدہ نہیں، جسٹس منصور علی شاہ نے ریمارکس دیے کہ پنجاب حکومت اب تک موسمیاتی تبدیلی کی پالیسی کیوں نہیں بنا سکی؟ پنجاب حکومت نے سیلاب سے نمٹنے کے لیے کیا اقدامات کیے ہیں؟

اس پر ایڈووکیٹ جنرل پنجاب نے بتایا کہ متعلقہ محکموں سے رپورٹس منگوائی ہیں، عدالت نے کہا کہ پنجاب حکومت نے کوئی عملی اقدام کیا ہے تو بتا دیں، جسٹس منسور علی شاہ کا کہنا تھا کہ حیرت ہے کہ موسمیاتی تبدیلی پنجاب حکومت کی ترجیحات میں شامل ہی نہیں۔

ایڈووکیٹ جنرل پنجاب موسمیاتی تبدیلی کے حوالے سے کوئی عمل اقدام پیش نہ کر سکے۔

بعد ازاں ایڈووکیٹ جنرل خیبرپختونخوا نے کہا کہ خیبرپختونخوا حکومت نے بلین ٹری سونامی منصوبہ شروع کیا تھا، منصوبے کے تحت 70 لاکھ درخت لگائے گئے، اقوام متحدہ نے بھی بلین ٹری سونامی منصوبے کو تسلیم کیا۔

جسٹس منصور علی شاہ نے ریمارکس دیے کہ بلین ٹری منصوبے کے تحت لگائے آدھے درخت ختم ہوچکے ہیں، صرف درخت لگانا نہیں ہوتا ان کی دیکھ بھال بھی کرنی ہوتی ہے، تمام چیف سیکریٹریز سے پوچھیں گے کہ پالیسیز بنانے اور عملدرآمد پر کیا پیشرفت ہے؟

بعد ازاں عدالت نے صوبائی چیف سیکریٹریز اور سیکریٹری ماحولیاتی تبدیلی کو طلب کرتے ہوئے سماعت یکم جولائی تک ملتوی کر دی۔

واضح رہے کہ 11 مئی کو سپریم کورٹ نے وفاقی حکومت کو پاکستان کلائمیٹ چینج ایکٹ 2017 کے تحت پندرہ دن کے اندر اتھارٹی قائم کرنے اور موسمیاتی تبدیلی کے خطرات سے نمٹنے کے لیے فنڈز کا قیام مکمل کرنے کا حکم دیا تھا۔

بینچ نے پبلک انٹرسٹ لاء ایسوسی ایشن آف پاکستان کی طرف سے ایڈووکیٹ سید فیصل حسین نقوی کے ذریعے دائر کی گئی درخواست کی سماعت کی، جس میں ماحولیاتی تبدیلی سے ملک کو لاحق خطرے کو اجاگر کیا گیا تھا۔

21 مارچ کو ہونے والی سماعت میں، اٹارنی جنرل برائے پاکستان منصور اعوان نے عدالت کو یقین دہانی کرائی تھی کہ ایکٹ کے تحت ایک ماہ کے اندر کونسل کا اجلاس منعقد کیا جائے گا جس میں اتھارٹی کے قیام کے ساتھ ساتھ فنڈ سے متعلق سوالات کو حل کیا جائے گا۔

بعد ازاں 17 مئی کو وزیراعظم شہباز شریف نے پاکستان موسمیاتی تبدیلی اتھارٹی کے قیام کی منظوری دے دی تھی۔

وزیراعظم کی جانب سے موسمیاتی تبدیلی اتھارٹی کے قیام کی منظوری پاکستان موسمیاتی تبدیلی ایکٹ 2017 کے تحت دی گئی ۔

26 مئی کو وزارت موسمیاتی تبدیلی کی جانب سے موسمیاتی تبدیلی اتھارٹی کے قیام کے لیے اتھارٹی کے چیئرپرسن اور ممبران کی تقرری کے عمل کا آغاز کردیا گیا تھا۔

مشہور خبریں۔

وزیر اعظم پھر عوام سے فون پر بات کریں گے

?️ 10 مئی 2021اسلام آباد (سچ خبریں) تفصیلات کے مطابق پاکستان تحریک انصاف کے سینیٹر

کونڈولیزا رائس نے اسامہ بن لادن کی پاکستان میں موجودگی کا خدشہ ظاہر کیا تھا، یوسف رضا گیلانی

?️ 2 فروری 2024ملتان: (سچ خبریں) سابق وزیر اعظم و رہنما پاکستان پیپلز پارٹی یوسف

عتیقہ اوڈھو نے فردوس عاشق کو ماسک پہننے کا مشورہ دے دیا

?️ 22 مارچ 2021کراچی (سچ خبریں)پاکستان شوبز انڈسٹری کی سینئر اداکارہ عتیقہ اوڈھو نے ٹوئٹ

امریکا، برطانیہ، نیوزی لینڈ کا بیجنگ پرسائبر حملوں کا الزام، چین کی تردید

?️ 26 مارچ 2024سچ خبریں: امریکا، برطانیہ اور نیوزی لینڈ نے بیجنگ میں مقیم سائبر

چارلس افغانستان میں کیا ڈھونڈ رہے ہیں؟

?️ 14 مئی 2023سچ خبریں:چارلس III، جو 20 سال تک افغانستان کے خلاف بڑے پیمانے

’امید ہے نئی عسکری قیادت ملت و ریاست کے درمیان اعتمادکے فقدان کو ختم کرےگی‘

?️ 30 نومبر 2022اسلام آباد:(سچ خبریں) سابق وزیراعظم اور پاکستان تحریک انصاف کے چیئرمین عمران

2 ججز بینچ سے علیحدہ، 7 رکنی بینچ نے سماعت کا دوبارہ آغاز کردیا

?️ 22 جون 2023اسلام آباد:(سچ خبریں) فوجی عدالتوں میں آرمی ایکٹ کے تحت عام شہریوں

غزہ کے بھوکے لوگوں کے خلاف ابو شباب کے جرائم کی نئی تفصیلات

?️ 10 جون 2025سچ خبریں: یورپی میڈیٹیرینین ہیومن رائٹس سنٹر نے انکشاف کیا ہے کہ اسرائیل

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے