?️
اسلام آباد:(سچ خبریں) سابق وزیر اعظم عمران خان کی جماعت پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) کی ایک اور وکٹ گر گئی، پنجاب سے سابق رکن قومی اسمبلی اور پی ٹی آئی کی خواتین ونگ کی صدر منزہ حسن نے استحکام پاکستان پارٹی (آئی پی پی) میں شمولیت اختیار کرلی۔
منزہ حسن نے آئی پی پی میں شمولیت کا اعلان پارٹی سربراہ جہانگیر ترین کے ساتھ پریس کانفرنس کے دوران کیا جوکہ ماضی میں عمران خان کے قریبی ساتھ سمجھے جاتے تھے۔
پی ٹی آئی کے مستقبل کے بارے میں جہانگیر ترین نے کہا کہ یہ کہنا قبل از وقت ہو گا کہ پی ٹی آئی الیکشن میں ہوگی یا نہیں، اس حوالے سے کچھ معاملات جاری ہیں اور وہ بہت جلد منظر عام پر آجائیں گی۔
سابق اپوزیشن لیڈر راجا ریاض سمیت مسلم لیگ (ن) کے کچھ سینیئر رہنماؤں کا خیال ہے کہ آئندہ انتخابات میں پی ٹی آئی کا انتخابی نشان ’بلا‘ بیلٹ پیپرز پر نظر نہیں آئے گا۔
جہاگیر ترین نے پریس کانفرنس کے دوران اس تاثر کو زائل کرنے کی کوشش کی کہ ان کی پارٹی ’کنگز پارٹی‘ ہے۔
آئی پی پی کو انتخابات میں سیٹیں جیتنے میں اسٹیبلشمنٹ کی جانب سے مدد ملنے سے متعلق سوال کے جواب میں جہانگیر ترین نے کہا کہ اسٹیبلشمنٹ سیاست میں مداخلت نہیں کرتی، ہمیں اسٹیبلشمنٹ کی نہیں عوام کی حمایت کی ضرورت ہے۔
تاہم وہ جنوری 2024 میں ہونے والے انتخابات کے حوالے سے پُراعتماد نظر آئے، انہوں نے کہا کہ انتخابات پاکستان اور اس کی معیشت کے لیے ناگزیر ہیں، مجھے یقین ہے کہ انتخابات ہوں گے اور نئی حکومت 5 برس کے لیے اقتدار میں رہے گی۔
جہانگیر ترین نے اپنی تاحیات نااہلی کے بارے میں ایک سوال کے جواب میں کہا کہ میں الیکشن لڑنے کا اہل ہوں کیونکہ مجھے صرف 5 برس کی انتخابی مدت کے لیے نااہل قرار دیا گیا تھا، نواز شریف اور میری نااہلی کی حد 5 برس تھی جو مکمل ہو چکی ہے۔
انہوں نے مزید کہا کہ تاحال ان کی پارٹی کو الیکشن کمیشن سے لیول پلیئنگ فیلڈ کی کوئی شکایت نہیں ہے لیکن آئی پی پی چاہتی یہی ہے کہ تمام سیاسی کھلاڑیوں کے لیے لیول پلیئنگ فیلڈ ہونی چاہیے۔
پی ٹی آئی چھوڑنے والوں کا نیا ٹھکانہ بننے کے باوجود آئی پی پی ابھی تک الیکشن کمیشن میں رجسٹرڈ نہیں ہوئی ہے، تاہم جہانگیر ترین کا کہنا ہے کہ ان کی پارٹی ہوم ورک کر رہی ہے اور مکمل تیاریوں کے ساتھ الیکشن لڑے گی۔
عمران خان سے علیحدگی کی وجہ پوچھے جانے پر جہانگیر ترین نے کہا کہ میں عمران خان کے ساتھ اس لیے ملا کیونکہ وہ پاکستان کے لیے کام کر رہے تھے، اب میری پارٹی ان توقعات پر پورا اترے گی جو عوام کو اُن سے تھیں۔
آئی پی پی قیادت کا کہنا ہے کہ اس کے پاس سیاست کو ایک نئی سمت دینے اور مضبوط معیشت کے ساتھ ملک کو آگے لے جانے کا ایجنڈا موجود ہے۔
جہانگیر ترین کی پارٹی کے شریف برادران کے ساتھ ’بہترین تعلقات‘ ہیں، انہوں نے ابھی تک یہ واضح نہیں کیا ہے کہ پنجاب میں کون سی جماعت ان کی حریف ہوگی۔
دریں اثنا انہوں نے نواز شریف سے کہا کہ وہ سابق آرمی چیف (جنرل قمر جاوید باجوہ) اور سابق چیف جسٹس آف پاکستان کو ٹارگٹ نہ کریں۔


مشہور خبریں۔
دفتر خارجہ کی مقبوضہ کشمیر میں علمائے کرام کی گرفتاری کی مذمت
?️ 18 ستمبر 2022اسلام آباد: (سچ خبریں) پاکستان نے مقبوضہ جموں و کشمیر میں ممتاز
ستمبر
وفاقی وزیر کا ن لیگ سے متعلق اہم انکشاف
?️ 17 جنوری 2022اسلام آباد ( سچ خبریں ) وفاقی وزیر برائے توانائی حماد اظہر
جنوری
کیا غزہ میں دوبارہ جنگ شروع ہوگی؟
?️ 17 مارچ 2025سچ خبریں: کیا غزہ کے خلاف جنگ دوبارہ شروع کرنے یا بڑھتے
مارچ
کورونا کا سب سے بڑا وار، مزید 201 افراد انتقال کر گئے
?️ 28 اپریل 2021اسلام آباد(سچ خبریں) ملک میں کورونا وائرس کی تیسری لہر کا اب
اپریل
طالبان: لڑکیوں کی تعلیم ایک "مناسب” فریم ورک کے اندر کی جائے گی
?️ 16 اگست 2025سچ خبریں: موجودہ افغان حکومت کے ترجمان نے اعلان کیا کہ طالبان
اگست
ہم نے اپنی سیاست نہیں، ریاست بچائی ہے۔ طلال چودھری
?️ 18 جنوری 2026گوجرہ (سچ خبریں) وفاقی وزیر مملکت داخلہ طلال چودھری نے کہا ہے
جنوری
حکومت نے دھمکی آمیز خط کا مواد اسمبلی پیش کرنے کا اعلان کر دیا
?️ 8 اپریل 2022اسلام آباد(سچ خبریں)وفاقی وزیر اطلاعات و نشریات فواد چوہدری نے کہا ہے
اپریل
واٹس ایپ پر اسٹیٹس ری شیئر کا فیچر پیش کیے جانے کا امکان
?️ 20 مئی 2025سچ خبریں: انسٹنٹ میسیجنگ ایپلی کیشن واٹس ایپ پر بھی فیس بک
مئی