مقدمات کے فیصلوں اور ٹرائل میں تاخیر کی وجہ سے نیب ترامیم کی گئیں، وزیرقانون

?️

اسلام آباد: (سچ خبریں) وفاقی وزیر قانون اعظم نذیر تارڑ نے کہا ہے کہ نیب میں مقدمے تو بنتے ہیں لیکن ان کے فیصلے نہیں ہوتے، ٹرائل میں تاخیر ہوتی ہے جس کی وجہ سے نیب ترامیم کی گئی ہیں۔

اسلام آباد میں پریس کانفرنس کرتے ہوئے وفاقی وزیر قانون اعظم نذیر تارڑ نے کہا کہ پہلے قانون میں لکھا کہ ٹرائل 30 روز میں ہوں گے اور پھر لکھا کہ 90 روز میں ہوں گے لیکن فیصلے ہوتے نظر نہ آئے۔

وزیر قانون نے کہا کہ نیب میں پسند اور اختیارات کی بنیاد پر چھوٹے چھوٹے مقدمے بنائے جاتے تھے اور جس پر بھی ہاتھ ڈالنا ہوتا تھا تو اس کے خلاف نیب انکوائری شروع کردی جاتی تھی۔

وزیر قانون اعظم نذیر تارڑ نے کہا کہ نیب پر پولیٹیکل انجنیئرنگ کا الزام بھی آیا جس پر اعلیٰ عدلیہ نے بھی کہا کہ نیب کو سیاسی مقاصد کے لیے استعمال کیا جاتا رہا ہے جس پر پارلیمان نے اپنا اختیار استعمال کیا۔

انہوں نے کہا کہ ہم پہلے دن سے یہ کہہ رہے تھے کہ کوئی ایسا مقدمہ نہیں ہے جس سے بریت ہو جائے گی بلکہ یہ بنیادی طور پر فوراً تبدیل ہوگا اور تھوڑے ہی ایسے مقدمات ہوں گے جن کو عدالت مناسب سمجھ کر بند کرے گی۔

وزیر قانون نے کہا کہ ٹیکنیکل خلل کی وجہ سے کچھ کیسز نیب میں آکر رک گئے تھے جن کو متعلقہ تفتیشی اداروں میں اور متعلقہ محکموں کی معاونت کے لیے مزید ٹرانسفر کرنے کے لیے یہ ترامیم کی گئی ہیں۔

انہوں نے کہا کہ مریم نواز سمیت دیگر رہنماؤں کی بریتیں پرانے قوانین کے تحت ہوئی ہیں جنہوں نے کہا کہ ہم نئے قوانین کا فائدہ نہیں لیں گے اسی طرح ان کے خلاف جو دیگر مقدمات زیر سماعت ہیں وہ پرانے قانون کے تحت چل رہے ہیں۔

وزیر قانون اعظم نذیر تارڑ نے کہا کہ چیئرمین نیب کے حوالے سے قوانین میں ایک ہی ترمیم ہوئی ہے وہ یہ ہے کہ اگر چیئرمین نیب نہیں ہوتے تھے تو ڈپٹی چیئرمین کو بہت کم اختیارات ہوتے تھے اور ان کو قائم مقام چیئرمین کے طور پر وضاحت سے بیان نہیں کیا گیا تھا اس لیے ایک ترمیم کی گئی ہے جس سے ڈپٹی چیئرمین کو قائم مقام چیئرمین کے مکمل اختیارات حاصل ہوں گے تاکہ مقدمات کی تفتیش نہ رکے۔

جنرل (ر) فیض حمید کی کورٹ مارشل کے حوالے سے پوچھے گئے سوال پر انہوں نے کہا کہ میں ذاتی طور پر اس چیز کا حامی ہوں کہ اگر کسی نے حلف کی پاسداری نہیں کی اور اختیارات سے تجاوز کیا ہے تو اسے عبرت کا نشان بننا چاہیے۔

ایک سوال کے جواب میں انہوں نے کہا کہ ترازو کے پلڑے برابر نظر نہ آنے کی وجوہات موجود ہیں جس کا خیال تمام لوگوں کے ذہنوں میں ہیں یہ سارا کچھ کس طرح ہوا، یہ معاملہ خود احتسابی سے شروع ہوتا ہے جس پر خود ادارے کو سوچنا چاہیے۔

اعظم نذیر تارڑ نے کہا کہ بہت سے ایسے ججز ہیں جن پر کبھی کسی نے انگلی نہیں اٹھائی لیکن چار پانچ نام ایسے ہیں جن کے نہ صرف عدالت میں بیٹھے ہوئے بھی اور رٹائرمنٹ کے بعد بھی ان کے تذکرے ہورہے ہیں لہٰذا ان تدارک ہونا چاہیے۔

مشہور خبریں۔

مسلم لیگ (ن) اور پیپلز پارٹی کے درمیان کیا چل رہا ہے؟؛ حافظ نعیم الرحمٰن کی زبانی

?️ 23 جون 2024سچ خبریں: جماعت اسلامی کے امیر حافظ نعیم الرحمٰن نے کہا ہے

چین کے خلاف امریکہ، آسٹریلیا اور جاپان کا مشترکہ بیان

?️ 2 اکتوبر 2022سچ خبریں:    جاپان کی وزارت دفاع نے اتوار کو اپنی ویب

امارات اور سعودی کا یمن کے خلاف امریکی بحری اتحاد میں شرکت سے انکار 

?️ 19 دسمبر 2023سچ خبریں:امریکی وزیر دفاع لائیڈ آسٹن نے بحیرہ احمر میں تجارتی بحری

ملک بھر میں ایک ہی تعلیمی نصاب ہوگا:وزیر تعلیم

?️ 16 اگست 2021اسلام آباد(سچ خبریں) اسلام آباد میں پریس کانفرنس کرتے ہوئے وزیر تعلیم

اسرائیلی حکومت میں اخلاقی سکینڈلز کے رجحان میں شدت

?️ 6 دسمبر 2021سچ خبریں:  اسرائیلی فوج کے ایک سینئر افسر نے جلبوع جیل میں

چین میں بی بی سی کی نشریات پر پابندی

?️ 11 فروری 2021سچ خبریں:چین کی قومی نشریاتی کارپوریشن نے جمعرات کی شام اعلان کیا

آنے والے دن امریکہ اور ایران کے لیے بہت فیصلہ کن ہیں: سی این این

?️ 28 اپریل 2026سچ خبریں:سی این این کے مطابق واشنگٹن اور تہران کے مواضع اتنے

افغانستان میں نئی حکومت بنانے کی تیاریاں، ملا برادر حکومت کی قیادت کریں گے

?️ 4 ستمبر 2021کابل (سچ خبریں)  ایک طرف جہاں افغانستان میں طالبان وادی پنج شیر

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے