?️
اسلام آباد:(سچ خبریں) سابق وزیر اعظم اور چیئرمین پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) نے خیبر پختونخوا کے ضلع بنوں میں محکمہ انسداد دہشت گردی (سی ٹی ڈی) کے دفتر پر شدت پسندوں کے حملے کی مذمت کرتے ہوئے کہا ہے کہ معیشت کا جنازہ نکالنے والی امپورٹڈ حکومت دہشتگردی سے نمٹنے میں بھی ناکام رہی ہے۔
سماجی رابطے کی ویب سائٹ ٹوئٹر پر جاری پیغام میں عمران خان نے کہا کہ معیشت کا جنازہ نکالنے کے علاوہ یہ امپورٹڈ سرکار چمن سے سوات، لکّی مروت اور بنوں تک پیش آنے والے واقعات کی شکل میں پاکستان میں دہشتگردی کی شرح میں 50 فیصد اضافے سےنمٹنے میں ناکام رہی ہے۔
انہوں نے اپنی ٹوئٹ میں مزید کہا کہ موجودہ حکومت ’دوستانہ‘ افغان حکومت کی فوجوں کی جانب سےبین الاقوامی پاک-افغان سرحد پر کیے جانے والے حملوں کے تدارک میں بھی ناکام ہوئے ہیں۔
سابق وزیر اعظم نے دہشتگردی کی ابھرتی لہر کی جانب توجہ دلاتے ہوئے کہا کہ ہمارے جوان، پولیس اہلکار اور مقامی لوگ روزمرّہ کی بنیاد پر اپنی جانوں کے نذرانے پیش کررہے ہیں، ستم ظریفی تو یہ ہے کہ ایسے وقت میں دہشتگردی کے خطرات اور مغربی سرحد سے کیے جانے والے حملوں میں اضافہ مجرموں کی اس سرکار کے اقوال و افکار (بیانیے) میں جگہ تک نہیں بنا پا رہا’۔
انتخابات کے انعقاد کا مطالبہ دہراتے ہوئے عمران خان نے کہا کہ ’ان کی ساری توانائیاں این آر او-2 اور اس کے تحفظ پر مرکوز ہیں، چنانچہ معیشت کی زبوں حالی کے باوجود یہ انتخابات کے انعقاد سے گھبرا رہے ہیں جو کہ سیاسی استحکام کے ذریعے معیشت مستحکم کرنے کا واحد کلیہ ہیں‘۔
دوسری جانب، وفاقی وزیر برائے منصوبہ بندی احسن اقبال نے رد عمل دیتے ہوئے سماجی رابطے کے ویب سائٹ پر ٹوئٹ کیا کہ خیبرپختونخوا میں امن و امان کی صورتحال برقرار رکھنا صوبائی حکومت کی ذمہ داری ہے۔
ان کا مزید کہنا تھا کہ عمران نیازی ہمیشہ پوچھتے ہیں کہ شہباز شریف نے پنجاب کے لیے کیا کیا؟ خیبرپختونخوا میں سی ٹی ڈی کرائے کی عمارت میں ہے حتی کہ 20 گریڈ کے افسر کو بھی ڈی آئی جی سی ٹی ڈی تعینات نہیں کیا گیا ہے۔
احسن اقبال نے کہا کہ پی ٹی آئی اپنی کمی اور مجرمانہ غفلت کو چھپانے کے لیے ہمیشہ بہانے بناتی ہے۔
خیال رہے کہ بنوں میں محکمہ انسداد دہشت گردی کی عمارت پر دہشت گردوں کے قبضے کو 15 گھنٹے سے زائد کا وقت گزر گیا جب کہ مسلح ملزمان ہتھیار ڈالنے اور سی ٹی ڈی مرکز بنوں میں یرغمال افراد کو رہا کرنے کے لیے تیار نہیں ہیں۔
گزشتہ روز بنوں میں محکمہ انسداد دہشت گردی کی عمارت میں زیر حراست دہشت گردوں نے عمارت کو قبضے میں لے کر تفتیش کاروں کو یرغمال بنا لیا اور اپنی باحفاظت افغانستان منتقلی کا مطالبہ کیا تھا۔
واضح رہے کہ گزشتہ ماہ 28 نومبر کو کالعدم تحریک طالبان پاکستان (ٹی ٹی پی) نے جنگ بندی کا معاہدہ ختم کرتے ہوئے اپنے جنگجوؤں کو پورے ملک میں حملے کرنے کا اعلان کیا تھا۔
ایک بیان میں ٹی ٹی پی نے دعویٰ کیا تھا کہ ’بنوں کے ضلع لکی پی ٹی آئی مروت سمیت مختلف علاقوں میں عسکری اداروں کی طرف سے مسلسل آپریشنز ہو رہے ہیں اور اقدامی حملوں کا نہ رکنے والا سلسلہ شروع ہوچکا ہے، اب ملک بھر میں ہمارے انتقامی حملے بھی شروع ہوں گے‘۔
سیز فائر معاہدہ ختم کرنے کے فوری بعد 30 نومبر کو ٹی ٹی پی نے کوئٹہ کے قریب پولیو ورکرز کی حفاظت کے لیے پولیس دستے کی گاڑی پر خودکش حملہ کیا تھا جس کے نتیجے میں 4 افراد جاں بحق اور 24 زخمی ہوگئے تھے۔
حال ہی میں 16 دسمبر کو وزیر خارجہ بلاول بھٹو زرداری نے خبردار کیا تھا کہ کالعدم تحریک طالبان پاکستان (ٹی ٹی پی)، بلوچستان لبریشن آرمی (بی ایل اے) اور دیگر عسکریت پسند گروپوں کی سرحد پار دہشت گردی کو برداشت نہیں کیا جائے گا اور پاکستان ان کے خلاف براہ راست کارروائی کا حق محفوظ رکھتا ہے۔
بعد ازاں سربراہ ٹی ٹی پی نور ولی محسود نے افغانستان کی طالبان حکومت سے مدد ملنے کے تاثر کو مسترد کرتے ہوئے دعویٰ کیا تھا کہ ٹی ٹی پی پاکستان میں تمام دہشت گرد حملوں کے لیے پاکستانی سرزمین ہی استعمال کررہی ہے۔
نور ولی محسود نے غیر ملکی میڈیا ’سی این این‘ کو انٹرویو دیتے ہوئے کہا کہ ’ہم پاکستان کے خلاف جنگ پاکستان کی سرزمین کے اندر سے ہی لڑ رہے ہیں۔
دوسری جانب پاکستان ان دنوں شدید معاشی صورتحال سے بھی دوچار ہے، مہنگائی کی شرح پاکستان تحریک انصاف کی حکومت کے اختتام کے بعد سے دگنی ہوچکی ہے، رہی سہی کسر مون سون بارشوں اور سیلاب نے پوری کردی۔
اسٹیٹ بینک کے زرمبادلہ کے ذخائر 4 سال کی کم ترین سطح پر آچکے ہیں، پاکستان کو اس وقت بیرونی ادائیگیوں کے بحران کا بھی سامنا ہے، اپوزیشن ہی نہیں بلکہ حکومت میں شامل افراد بھی پاکستان کے نادہندہ ہونے کی باتیں کررہے ہیں۔
معاشی تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ پاکستان کو آئندہ مالی سال بھی شدید اور بدترین معاشی صورتحال کا سامنا کرنا پڑسکتا ہے، اگر آئی ایم ایف کی جانب سے بروقت مدد نہیں ملتی تو پاکستان کے دیوالیہ ہونے کے قوی امکان موجود ہیں۔


مشہور خبریں۔
واشنگٹن اور دوحہ کے درمیان ٹرمپ کو دیے گئے طیارے کے حوالے سے معاہدے پر دستخط
?️ 28 جولائی 2025واشنگٹن اور دوحہ کے درمیان ٹرمپ کو دیے گئے طیارے کے حوالے
جولائی
Indonesia To Offer Infrastructure Projects At IMF-World Bank Meeting
?️ 6 ستمبر 2022Dropcap the popularization of the “ideal measure” has led to advice such
ستمبر
ہیگ ٹریبونل کے فیصلے درست ہیں: سابق اسرائیلی پراسیکیوٹر
?️ 28 مئی 2024سچ خبریں: عبرانی زبان کی سروگم ویب سائٹ نے ایک خبر میں اعلان
مئی
اسرائیل نامی ناجائز، غاصب اور دہشت گرد وائرس کا عنقریب خاتمہ ہونے والا ہے
?️ 17 مئی 2021(سچ خبریں) اسرائیل جو ایک غاصب اور دہشت گرد ریاست ہے اس
مئی
ترکی کا کردوں اور اوجالان کے حوالے سے پالیسی میں اچانک یو ٹرن
?️ 6 جنوری 2025سچ خبریں:ترکی کے صدر رجب طیب اردوغان نے کردوں اور عبداللہ اوجالان
جنوری
صیہونی فوج کو فوجی سازوسامان کی شدید کمی کا سامنا؛ صہیونی میڈیا کا اعتراف
?️ 8 اکتوبر 2026سچ خبریں:عبرانی میڈیا کے مطابق 3 سالہ جنگ کے بعد صیہونی فوج
اکتوبر
دہشت گردوں کے نام بھی لاپتا افراد کے طور پر استعمال کیے گئے، جان اچکزئی
?️ 10 جنوری 2024کوئٹہ: (سچ خبریں) بلوچستان کے نگران وزیر اطلاعات جان اچکزئی نے کہا
جنوری
شمال یمن میں سعودی فوج کا جاسوس ڈرون مار گرایا گیا
?️ 30 ستمبر 2026سچ خبریں: انصاراللہ تحریک کے سیاسی دفتر کے رکن حزام الاسد نے
ستمبر