مسلسل دسویں روز روپے کی قدر میں کمی،

?️

اسلام آباد: (سچ خبریں) روپے کی قدر میں کمی کا سلسلہ آج بھی جاری رہا اور انٹربینک میں صبح کاروبار کے دوران ڈالر کے مقابلے میں اس کی قدر میں 1.68 روپے کی گراوٹ دیکھی گئی۔

فاریکس ایسوسی ایشن آف پاکستان (ایف اے پی) کے اعداد و شمار سے ظاہر ہوتا ہے کہ مقامی کرنسی 0.71 فیصد گرنے کے بعد صبح 11:35 بجے 236 روپے فی ڈالر میں مل رہی تھی جبکہ گزشتہ روز پاکستان روپیہ 234.32 روپے فی ڈالر پر بند ہوا تھا۔

اس حوالے سے ایکسچینج کمپنیز ایسوسی ایشن آف پاکستان کے جنرل سیکریٹری ظفر پراچا نے کہا کہ روپے پر بہت زیادہ دباؤ ہے کیونکہ دوست ممالک جنہوں نے پیسے دینے کا وعدہ کیا تھا، انہوں نے ایسا نہیں کیا جس کی وجہ سے رجحان بدل گئے ہیں۔

ان کا کہنا تھا اس وقت افغانستان اور ایران سے ڈالر اور سامان کی اسمگلنگ عروج پر ہے۔

ظفر پراچا نے اسمگلنگ میں اضافے کی وجہ حکومت کی جانب سے غیر ضروری اور لگژری اشیا کی درآمد پر بھاری ریگولیٹری ڈیوٹی عائد کرنے کے فیصلے کو قرار دیا اور کہا کہ اس کی وجہ سے اوپن مارکیٹ میں دباؤ پڑا ہے جبکہ انٹربینک مارکیٹ میں ڈالر ‘تقریباً ختم ہو چکا ہے’۔

انہوں نے کہا کہ ایکسچینج کمپنیاں جو یومیہ ڈھائی سے 3 کروڑ کے درمیان ڈالر فروخت کرتی ہیں وہ اب اتنا فروخت کرنے کے قابل نہیں ہیں۔

البتہ ہم اس بات کو یقینی بنانے کی کوشش کر رہے ہیں کہ اوپن مارکیٹ میں ڈالر کی قیمت 240 روپے سے زیادہ نہ بڑھے لیکن انٹربینک اور گرے مارکیٹ میں نرخ بڑھ رہے ہیں۔

ان کا کہنا تھا کہ حکومت نے ایکسچینج کمپنیوں پر مزید قواعد و ضوابط نافذ کیے ہیں جس کے بعد لوگ ایکسچینج کمپنیوں میں نہیں آرہے بلکہ اس کے بجائے گرے مارکیٹ جارہے تھے۔

انہوں نے کہا کہ ڈالر باضابطہ کے بجائے بے ضابطہ طور پر فروخت کیا جارہا ہے اور پشاور میں 248 روپے جبکہ افغانستان میں 250 سے 252 روپے میں فروخت ہو رہا ہے۔

ظفر پراچا نے حکومت پر ‘توجہ نہ دینے اور اخراجات کو کنٹرول نہ کرنے’ پر بھی تنقید کی۔

انہوں نے مزید کہا کہ پاکستان کو مطلوبہ امداد نہیں مل رہی ہے جس کی وجہ سے انہوں نے ‘اعتماد کے فقدان’ کو قرار دیا۔

ان کا کہنا تھا کہ سیاسی صورتحال کی وجہ سے مارکیٹ کے رجحانات بدل گئے ہیں اور دیوالیہ پن کے بارے میں بات چیت دوبارہ شروع ہوگئی ہے۔

دوسری جانب ٹاپ لائن سیکیورٹیز کے سی ای او محمد سہیل نے کہا کہ جب تک پاکستان کے کرنٹ اکاؤنٹ خسارے کو کم نہیں کیا جاتا یا دوست ممالک سے رقوم موصول نہیں ہوتیں اس وقت تک روپیہ دباؤ میں رہے گا۔

ان کا کہنا تھا کہ عالمی مالیاتی حالات کو دیکھتے ہوئے، تجارتی بنیادوں پر اور یورو بانڈز کے ذریعے فنڈز کا حصول ممکن نہیں ہے۔

خیال رہے کہ یہ مسلسل 10واں سیشن ہے جب روپیہ گرا ہے، عارف حبیب لمیٹڈ کے مطابق گزشتہ 9 سیشنز کے دوران روپے کی قدر میں ڈالر کے مقابلے میں 15.72 روپے یا 6.91 فیصد کمی واقع ہوئی۔

مشہور خبریں۔

مزاحمتی تحریک اور صیہونی حکومت کے درمیان قیدیوں کے تبادلے کی قطر کی نئی پیشکش

?️ 11 جنوری 2024سچ خبریں:عبرانی زبان کے ذرائع نے فلسطینی مزاحمت اور صیہونی حکومت کے

سیلاب سے ہونے والی تباہی سے کوئی ملک اکیلا نہیں نمٹ سکتا، شیریں رحمٰن

?️ 4 اکتوبر 2022 اسلام آباد: (سچ خبریں) وفاقی وزیر موسمیاتی تبدیلی شیری رحمٰن کا

ٹرمپ کی انتقامی مہم جاری امریکی بحریہ کے دو اعلیٰ کمانڈر برطرف

?️ 24 اگست 2025ٹرمپ کی انتقامی مہم جاری امریکی بحریہ کے دو اعلیٰ کمانڈر برطرف

سعودی عرب نے غزہ جنگ کے بارے میں سلامتی کونسل میں کیا کہا؟

?️ 25 اکتوبر 2023سچ خبریں: سعودی عرب کے وزیر خارجہ نے سلامتی کونسل کے اجلاس

یورپی یونین کی سیاسی پناہ کی ناکام پالیسی کا مغربی میڈیا آؤٹ لیٹ کا اکاؤنٹ

?️ 21 جولائی 2025سچ خبریں: ایک مغربی میڈیا آؤٹ لیٹ نے پناہ گزینوں کے بحران

وزیر اعظم کا پاک فوج کی آپریشنل تیاریوں پر مکمل اطمینان کا اظہار

?️ 5 ستمبر 2024راولپنڈی: (سچ خبریں) وزیر اعظم شہباز شریف نے پاک فوج کی آپریشنل

27 پاور پلانٹس میں تکنیکی مسائل یا خرابی کی وجہ سے لوڈشیڈنگ ہو رہی ہے

?️ 15 اپریل 2022اسلام آباد(سچ خبریں)وزیر اعظم شہبازشریف کو جمعرات کو بتایا گیا کہ 7

غزہ میں امریکہ کے مذموم مقاصدکیا ہیں؟

?️ 13 مارچ 2024سچ خبریں:امریکی حکومت 6 ماہ سے غزہ کے خلاف صیہونی حکومت کی

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے