مسئلہ صرف کرپشن کا نہیں سسٹم میں موجود خامیوں کا بھی ہے،سپریم کورٹ

?️

اسلام آباد: (سچ خبریں) چیف جسٹس پاکستان جسٹس عمر عطاء بندیال نے نیب ترامیم کیس میں ریمارکس دئیے ہیں پارلیمان کا کام ہے کہ سسٹم میں بہتری کیلئے قانون بنائے اور عمل بھی کرائے،ہر صوبے میں پانچ ماہ بعد آئی جی اور تین ماہ بعد ایس ایچ او بدل جاتا ہے۔مسئلہ صرف کرپشن کا نہیں سسٹم میں موجود خامیوں کا بھی ہے،نیب قانون کے غلط استعمال سے کتنے لوگوں کے کاروبار تباہ ہوچکے ہیں۔

میڈیا رپورٹس کے مطابق سپریم کورٹ میں نیب ترامیم کیخلاف عمران خان کی درخواست پر سماعت ہوئی،عمران خان کے وکیل خواجہ حارث نے عدالت میں دلائل دیتے ہوئے کہا کہ ایگزیکٹو اپنا کام نہ کرے تو لوگ عدالتوں کے پاس ہی آتے ہیں۔ چیف جسٹس پاکستان جسٹس عمر عطاء بندیال نے ریمارکس دئیے کہ نیب ترمیم اس اسمبلی نے کی جو مکمل ہی نہیں،اس پر قانون نہیں ملا کہ نا مکمل اسمبلی قانون سازی کر سکتی ہے یا نہیں،سیاسی حکمت عملی کے باعث آدھی سے زیادہ اسمبلی نے بائیکاٹ کر رکھا ہے۔

جسٹس اعجاز الاحسن نے ریمارکس دئیے کہ نیب ترامیم سے فائدہ صرف ترمیم کرنے والوں کو ہی ہوا؟نیب ترامیم کو بغیر بحث جلد بازی میں منظور کیا گیا۔ چیف جسٹس نے قرار دیا کہ عدالتی فیصلوں کے باوجود کرپشن ختم نہیں ہوسکی،مسئلہ صرف کرپشن کا نہیں سسٹم میں موجود خامیوں کا بھی ہے،سسٹم میں موجود خامیوں کو کبھی دور کرنے کی کوشش ہی نہیں کی گئی۔ایگزیکٹو فیصلے کرتے وقت قانون پر عمل نہیں کیا جاتا۔

چیف جسٹس نے مزید ریمارکس دئیے کہ ماضی میں ریکوڈک اور اسٹیل مل کے فیصلے عدالت نے اچھی نیت سے کئے۔حکومت سسٹم کی کمزوری کے باعث منصوبوں میں کرپشن پکڑ نہیں سکی۔نیب قانون کے غلط استعمال سے کتنے لوگوں کے کاروبار تباہ ہوچکے ہیں،کرپشن پر کسی صورت معافی نہیں ہونی چاہیے۔ جسٹس منصور علی شاہ نے ریمارکس دئیے کہ سوال یہ ہے کرپشن کا سدباب کس نے اور کیسے کرنا ہے؟وکیل خواجہ حارث نے کہا کہ کرپشن ختم کرنا ایگزیکٹو کا کام ہے،اگر وہ نہیں کر سکی تو عدالت مداخلت کرتی ہے۔

جسٹس منصور علی شاہ نے قرار دیا کہ کرپشن کی رینکنگ میں پاکستان اسی نمبر پر ہے جو نیب ترامیم سے پہلے تھا۔ جبکہ جسٹس اعجازالاحسن نے ریمارکس دئیے کہ نیب ترامیم کے بعد اب جو رینکنگ جاری ہوگی اس میں پاکستان یقیناََ 100نمبر نیچے جا چکا ہو گا،عدالت عظمٰی نے کیس کی سماعت کل تک ملتوی کر دی۔

مشہور خبریں۔

لاہور ہائیکورٹ کے جسٹس چوہدری عبدالعزیز ذاتی وجوہات کی بنا پر مستعفی

?️ 6 مارچ 2025لاہور: (سچ خبریں) لاہور ہائیکورٹ کے جسٹس چوہدری عبدالعزیز نے ذاتی وجوہات

صہیونی شمالی اور جنوبی محاذوں پر بیک وقت لڑائی سے کیوں خوفزدہ ہیں؟

?️ 11 اپریل 2023سچ خبریں:صہیونیوں کے ہاتھوں مسجد اقصیٰ کی بے حرمتی کے بعد غزہ

فلسطین کی حمایت ہماری خارجہ پالیسی کا بنیادی اصول ہے: پاکستانی وزارت خارجہ

?️ 30 نومبر 2021سچ خبریں: سینٹر فار ڈپلومیسی نے ایک بیان میں کہا کہ پاکستانی

زلنسکی کاسہ گدائی لیے پھر یورپ کے قدموں میں گرنے کو تیار

?️ 13 فروری 2024سچ خبریں: یوکرینی حکومت کے باخبر ذرائع نے اعلان کیا کہ اس

سپریم کورٹ نے سائفر کیس میں عمران خان، شاہ محمود قریشی کی درخواست ضمانت منظورکرلی

?️ 22 دسمبر 2023اسلام آباد: (سچ خبریں) سپریم کورٹ آف پاکستان نے سائفر کیس میں

ماسکو میں دہشت گردانہ پر روس کا ردعمل

?️ 25 مارچ 2024سچ خبریں:روسی وزارت خارجہ کی ترجمان ماریا زاخارووا ایک تقریر میں کہا

میں حماس کی قید میں اسرائیل سے زیادہ محفوظ تھی؛سابق صیہونی خاتون قیدی

?️ 9 مئی 2025سچ خبریں:حماس کی قید سے رہائی پانے والی اسرائیلی خاتون میا شیم

اونروا: غزہ کے باشندے شدید گولہ باری میں خوراک کی تلاش میں ہیں

?️ 8 جون 2025سچ خبریں: مشرق وسطی میں فلسطینی پناہ گزینوں کے لیے اقوام متحدہ

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے