لاہور ہائیکورٹ: ’عمران ریاض کیس میں جو نمبرز استعمال ہوئے وہ افغانستان کے ہیں‘

?️

لاہور: (سچ خبریں) لاہور ہائیکورٹ میں صحافی عمران ریاض بازیابی کیس کی سماعت کے دوران آئی جی پنجاب نے بتایا کہ اس معاملے میں کچھ نمبرز غیر ملکی استعمال ہوئے، جو نمبرز استعمال ہوئے وہ افغانستان کے ہیں جبکہ ہمارے پاس افغانستان کے نمبرز ٹریس کرنے کی صلاحیت نہیں ہے۔

لاہور ہائیکورٹ میں سماعت میں عمران ریاض کے سینئر وکیل میاں علی اشفاق اور شاہزیب پیش ہوئے، آئی جی پنجاب کمرہ عدالت میں پہنچ گئے۔

چیف جسٹس لاہور ہائیکورٹ امیر بھٹی نے پوچھا کہ بتائیں اب تک عمران ریاض مسنگ پرسن کیوں ہے؟ وزارت دفاع اور وزارت داخلہ سے کوئی رپورٹ آئی ہے کیا؟

چیف جسٹس نے ریمارکس دیے کہ ہم نے اپنے آرڈر میں یہ نہیں کہا کہ عمران ریاض ایجنسیوں کے پاس ہے، ہم نے تو یہ کہا ہے کہ ایجنسیوں سے مدد لیں۔

سیکریٹری دفاع کے نمائندے نے بیان دیا کہ ابھی تک عمران ریاض کا کوئی سراغ نہیں لگا۔

اس موقع پر آئی جی پنجاب روسٹرم پر آگئے، انہوں نے عدالت کو بتایا کہ ہم نے جیو فینسنگ کی ہے مگر کوئی نمبر لوکیٹ نہیں ہوسکا، عدالت کی ہدایت پر عمران ریاض کی قانونی ٹیم اور اہلخانہ سے ملاقات کی ہے۔

آئی پنجاب ڈاکٹر عثمان انور نے کہا کہ ہم نے ایف آئی اے سے بھی رابطہ کیا ہے، اس معاملے میں کچھ نمبرز غیر ملکی استعمال ہوئے، جو نمبرز استعمال ہوئے وہ افغانستان کے ہیں، ہمارے پاس افغانستان کے نمبرز ٹریس کرنے کی صلاحیت نہیں ہے۔

آئی جی پنجاب نے کہا کہ غیر ملکی نمبر اور اس کا ٹرانسپکرٹ چیمبر میں جمع کرانا چاہتا ہوں، اگر عدالت اجازت دے تو تفصیلات جمع کرا دیتا ہوں۔

عدالت نے آئی جی پنجاب کو ہدایت کی کہ ڈیڑھ بجے آپ چیمبرز میں پیش ہوں۔

عمران ریاض کے وکیل نے دلائل دیے کہ باقی تمام لوگ 2 دن میں پکڑے جاتے ہیں لیکن عمران ریاض برآمد نہیں ہوتا، جس پر چیف جسٹس نے کہا کہ جو لوگ یہاں ہیں ان کو پکڑنا آسان ہوتا ہے۔

وکیل نے کہا کہ اس کا مطلب ہے کہ آئی جی پنجاب نے آپ کو مطمئن کر دیا ہے کہ عمران ریاض افغانستان چلے گئے ہیں۔

عدالت نے سماعت ساڑھے 12 بجے تک ملتوی کردی۔

بعد ازاں لاہور ہائی کورٹ میں اینکر عمران ریاض کی بازیابی کے کیس میں آئی جی پنجاب نے چیف جسٹس امیر بھٹی کو بریفنگ دی۔

آئی جی پنجاب، چیف جسٹس لاہور ہائی کورٹ کو بریفنگ دینے کے بعد واپس روانہ ہوگئے۔

خیال رہے کہ 26 مئی کو لاہور ہائی کورٹ نے اینکرپرسن عمران ریاض کی بازیابی کے لیے دائر درخواست پر جاری تحریری حکم میں کہا تھا کہ تمام ایجنسیاں مل کر ان کو بازیاب کرکے 30 مئی کو عدالت میں پیش کریں۔

عدالت نے کہا تھا کہ وزارت دفاع کی جانب سے عدالت میں کوئی پیش نہیں ہوا اور نہ ہی رپورٹ عدالت میں جمع کرائی گئی جبکہ پولیس نے مغوی کی بازیابی کے لیے 3 سے 4 دن کا مزید وقت مانگا ہے۔

اس سے قبل 19 مئی کو لاہور ہائی کورٹ نے اینکر پرسن عمران ریاض کی بازیابی سے متعلق کیس میں پولیس کو (20 مئی) تک پیش رفت سامنے لانے کی ہدایت کی تھی۔

چیف جسٹس محمد امیر بھٹی نے عمران ریاض کے والد محمد ریاض کی درخواست پر سماعت کی تھی اور اس دوران ڈسٹرکٹ پولیس افسر (ڈی پی او) عدالت کے روبرو پیش ہوئے تھے۔

چیف جسٹس نے عمران ریاض کی بازیابی کے لیے پولیس کے اقدامات پر عدم اطمینان کا اظہار کرتے ہوئے کہا تھا کہ پولیس نے تو ابھی تک کچھ نہیں کیا۔

چیف جسٹس نے ڈی پی او کو مخاطب کرتے ہوئے کہا تھا کہ آپ نے ایک سب انسپکٹر تعینات کردیا باقی آپ نے کہا جاؤ موج کرو۔

اس سے قبل 17 مئی کو لاہور ہائی کورٹ کی جانب سے سیالکوٹ کے ڈی پی او کو اینکر عمران ریاض خان کو 48 گھنٹوں میں پیش کرنے کے حکم کے ایک روز بعد سٹی پولیس نے نامعلوم افراد اور پولیس اہلکاروں کے خلاف ان کے اغوا کا مقدمہ درج کرلیا تھا۔

اینکر عمران ریاض خان کے والد محمد ریاض کی مدعیت میں لاہور کے تھانہ سول لائنز میں تعزیرات پاکستان کی سیکشن 365 کے تحت فرسٹ انفارمیشن رپورٹ (ایف آئی آر) درج کرلی گئی تھی۔

ایف آئی آر میں کہا گیا تھا کہ اینکرپرسن کو پولیس اہلکاروں نے گزشتہ ہفتے سیالکوٹ ایئر پورٹ سے گرفتار کیا اور اس کے بعد سیالکوٹ جیل منتقل کر دیا گیا۔

درخواست گزار نے کہا تھا کہ گرفتاری کے وقت میرے بیٹے کے خلاف کوئی مقدمہ درج نہیں تھا اور انہیں غیرقانونی طور پر حراست میں لیا گیا اور اس دوران اہل خانہ سے بھی ملنے کی اجازت نہیں دی گئی۔

یاد رہے کہ 11 مئی کو گرفتاری کے بعد عمران ریاض خان کے بارے میں معلومات نہیں ہیں، انہیں پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) کے چیئرمین عمران خان کی گرفتاری کے بعد جلاؤ گھیراؤ اور کشیدگی کے دوران حراست میں لیا گیا تھا، ان کے علاوہ بھی چند صحافیوں کو گرفتار کیا گیا تھا۔

مشہور خبریں۔

ایران کے میزائل حملے مہلک اور سخت ترین تھے؛صیہونی اپوزیشن لیڈر کا اعتراف 

?️ 15 جون 2025 سچ خبریں:صیہونی اپوزیشن لیڈر یائیر لاپید اور دیگر حکام نے ایران

روس یوکرین جنگ کے خاتمے کے کوئی آثار نظر نہیں آرہے: اقوام متحدہ

?️ 30 جولائی 2022سچ خبریں:اقوام متحدہ کے انڈر سکریٹری جنرل برائے سیاسی امور نے خبردار

لبنان کا اسرائیل کے خلاف سلامتی کونسل میں نئی شکایت درج کرانے کا فیصلہ

?️ 5 فروری 2026سچ خبریں:چنے جنوبی سرحدی دیہات کی زرعی زمینوں پر زہریلے مادے چھڑکنے

درآمدی بل میں کمی اور توانائی کی بچت کیلئے قومی منصوبہ تیار

?️ 16 دسمبر 2022اسلام آباد: (سچ خبریں) وفاقی وزیر اطلاعات مریم اورنگزیب نے کہا ہے

الیکشن کمیشن فوری طور پر انتخابی نشان کیس کا تحریری حکم نامہ جاری کرے، پی ٹی آئی

?️ 21 اکتوبر 2023اسلام آباد: (سچ خبریں) پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) نے الیکشن

2015 میں مسجد الحرام میں کرین حادثہ، مکہ کی کرمنل کورٹ نے بن لادن گروپ سمیت متعدد افراد کو بری کردیا

?️ 5 اگست 2021مکہ مکرمہ (سچ خبریں)  2015 میں مسجد الحرام میں کرین حادثہ پیش

فلسطینی نومولود بچوں کی شہادت انسانی حقوق کے ٹھکیداروں کے منھ پر طمانچہ

?️ 28 فروری 2024سچ خبریں: غزہ کی پٹی پر صیہونی حکومت کے حملوں میں اضافے

ایران کے ساتھ مذاکرات کے بارے میں ٹرمپ کے معاون کا بیان

?️ 9 مئی 2025سچ خبریں:امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے معاون جی ڈی ونس نے ایران

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے