قومی سلامتی پالیسی کا بنیادی نقطہ عام آدمی کا تحفظ ہے: معید یوسف

قومی سلامتی پالیسی کا بنیادی نقطہ عام آدمی کا تحفظ ہے: معید یوسف

?️

اسلام آباد (سچ خبریں) قومی سلامتی مشیر معید یوسف کا کہنا ہے کہ قومی سلامتی پالیسی کا بنیادی نقطہ عام آدمی کا تحفظ ہے، معیشت پاکستان کا نمبر ون مسئلہ ہےجو قومی سلامتی سےجڑا ہے، عالمی ادارے سےقرض لیتے ہیں تو قومی خود مختاری پر سمجھوتہ کرنا پڑتا ہے۔قومی سلامتی پالیسی میں جنگ ہتھیاروں سےہٹ کر عام آدمی کا سوچا گیا۔

تفصیلات کے مطابق قومی اسمبلی کی قائمہ کمیٹی امور خارجہ کا اجلاس ہوا، قومی سلامتی مشیر معید یوسف نے اجلاس کو قومی سلامتی پالیسی پر بریفنگ دی۔قومی سلامتی مشیر معید یوسف نے کہا کہ افغانستان کے لیے انسانی بنیادوں پر امداد کا سلسلہ جاری ہے، پاکستان، امریکا، ترکی، قطر، ایران، جاپان اور دیگر ملک امداد دے رہے ہیں، بھارت نے گندم اور ادویات پاکستان کے راستے بجھوانے کا اعلان کیا تھا۔

معید یوسف کا کہنا تھا کہ ہم نے بھارت کو پاکستان کے راستے سپلائی کی اجازت بھی دی ، اجازت دینے کے باوجود بھارت نے تاحال گندم نہیں بجھوائی، بینکنگ نظام بحال ہونے تک افغانستان کی امداد ممکن نہیں، امریکا نے افغانستان کے 9ارب ڈالر کے زرمبادلہ ذخائر منجمد کر رکھے ہیں۔

قومی سلامتی مشیر نے کہا کہ قومی سلامتی پالیسی میں جنگ ہتھیاروں سےہٹ کر عام آدمی کا سوچا گیا ، معیشت پاکستان کا نمبرون مسئلہ ہےجو قومی سلامتی سےجڑا ہے، عالمی ادارے سےقرض لیتےہیں تو قومی خود مختاری پر سمجھوتہ کرنا پڑتا ہے۔ان کا کہنا تھا کہ قومی سلامتی پالیسی کی توجہ جیو اکنامکس پر ہے ، جموں و کشمیر نئی پالیسی کا اہم جزو ہے ، گورننس کو ہم نے معاشی سلامتی پالیسی کا حصہ نہیں بنایا، جب تک عملدرآمد نہیں ہوگا قومی سلامتی پالیسی دستاویز رہے گی۔

معید یوسف نے کہا کہ قومی سلامتی پالیسی کا بنیادی نقطہ عام آدمی کا تحفظ ہے ، معاشی سیکیورٹی پر زیادہ فوکس ہے ،معاشی خود مختاری بہت اہم ہے ، جب آپ قرض لینگے تو اس کے اثرات خارجہ پالیسی پر پڑتے ہیں، پاکستان کےبیرونی قرضے ختم کرنا ضروری ہے۔

قومی سلامتی مشیر کا مزید کہنا تھا کہ جیو اکنامکس کا یہ ہر گز مطلب نہیں ہم جیو اسٹریٹیجک سے ہٹ گئے، تعلیم کو بھی قومی سلامتی پالیسی کا حصہ بنایا گیا ہے، شہریت کودوبارہ لازمی مضمون بنانے کے لیےسفارشات دی گئی ہیں جبکہ منظم جرائم، ہائبرڈوارکےموضوعات کو سلامتی پالیسی کا حصہ بنایا گیا ہے۔

ان کا کہنا تھا کہ فوڈ سیکیورٹی ملک کے لیے بڑا مسئلہ بنتا جارہا ہے، قومی سلامتی پالیسی کےخارجہ پالیسی حصے میں معاشی ترقی اورامن شامل ہے، قومی سلامتی پالیسی دستاویز میں کوئی خاص چیز نہیں چھپائی گئی،اقدامات پر عمل درآمد کا لائحہ عمل بھی پالیسی میں شامل ہے۔

مشہور خبریں۔

مسلم دنیا کا اپنے دفاع کیلئے باہمی اتحاد و اتفاق ناگزیر ہوچکا۔ مولانا فضل الرحمان

?️ 16 ستمبر 2025اسلام آباد (سچ خبریں) امیر جمعیت علما اسلام مولانا فضل الرحمان نے

آئی ایم ایف کا شہباز حکومت سے ایک اور مطالبہ

?️ 14 ستمبر 2022اسلام آباد:(سچ خبریں) آئی ایم ایف نے شہباز حکومت کے سامنے ایک اور

امریکی آٹو انڈسٹری کے کارکنوں کی ہڑتال

?️ 28 ستمبر 2023سچ خبریں:بامریکن آٹو انڈسٹری ورکرز یونین کے نمائندوں نے بتایا کہ اگر

گوگل ٹرانسلیٹ کا اہم فیصلہ

?️ 29 جون 2024سچ خبریں: ٹیکنالوجی کمپنی گوگل اپنے ٹرانسلیٹ فیچر میں 110 نئی زبانیں

طوفان الاقصی آیت اللہ خامنہ ای کی نظر میں

?️ 14 اکتوبر 2023سچ خبریں: طوفان الاقصی آپریشن، جسے آیت اللہ خامنہ ای نے تباہ

تحریک انصاف کا اڈیالہ جیل حکام کیخلاف توہینِ عدالت کی درخواست دائر کرنے کا فیصلہ

?️ 29 مارچ 2025پشاور: (سچ خبریں) پاکستان تحریک انصاف نے اڈیالہ جیل حکام کیخلاف توہینِ

پی ٹی آئی رہنماؤں کی پریس کانفرنس

?️ 25 جولائی 2022اسلام آباد: (سچ خبریں) پی ٹی آئی  کے رہنما فواد چودھری اور

رفح پر حملہ روکنے کے لیے عالمی عدالت انصاف کے فیصلے پر ردعمل

?️ 25 مئی 2024سچ خبریں: ہالینڈ کے شہر دی ہیگ میں بین الاقوامی عدالت انصاف نے

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے