قومی اسمبلی کے اجلاس کا احوال

?️

اسلام آباد: (سچ خبریں)قومی اسمبلی میں پیر کو ہونے والی اجلاس میں اکثر نشستیں خالی نظر آئیں جس کی وجہ سے اسمبلی کی کارروائی متاثر ہوئی جہاں اجلاس کی کارروائی کے دوران ملک کے معاشی بحران اور سیلاب سے تباہی کے باوجود وفاقی حکومت کی جانب سے یوم آزادی کی تقریب کے انعقاد کی مذمت کی گئی۔

میڈیا رپورٹس کے مطابق موجودہ اسمبلی کے آخری پارلیمانی سال کے پہلے اجلاس میں اسپیکر راجا پرویز اشرف اور گرینڈ ڈیموکریٹک الائنس (جی ڈی اے) کی سائرہ بانو کے درمیان تلخ کلامی ہوئی، اپوزیشن کی رکن اسمبلی نے ایک ایسے موقع پر یوم آزادی کی تقریب کے انعقاد پر اعتراض کیا جب بلوچستان کے لوگ سیلاب میں ڈوب رہے ہیں۔

سائزہ بانو نے بلوچستان کے حالات کو مدنظر رکھتے ہوئے یوم آزادی کے موقع پر کروڑوں روپے خرچ کرنے پر افسوس کا اظہار کیا اور مشورہ دیا کہ یہ رقم وزیراعظم شہباز شریف کے قائم کردہ فلڈ ریلیف اکاؤنٹ میں جمع کرائی جانی چاہیے تھی۔

شہریوں کو درپیش معاشی مشکلات پر روشنی ڈالتے ہوئے جی ڈی اے کی رکن اسمبلی نے فیصل آباد کے گاؤں ڈجکوٹ میں ایک واقعے کی نشاندہی کی جہاں مکان کا کرایہ ادا نہ کرنے پر ایک شخص نے اپنی دو بیٹیوں کو قتل کرنے کے بعد خودکشی کر لی۔

تاہم، ان کی تقریر کو اسپیکر نے اس وقت روک دیا جب انہوں نے’زندہ قوم’ کی اصطلاح کے استعمال پر اعتراض کیا۔

راجا پرویزاشرف نے کہا کہ ایسی باتیں مت کریں، 22کروڑ عوام زندہ قوم تشکیل دیتے ہیں، آپ پاکستانی عوام کو مردہ قوم کہہ کر زیادتی کر رہی ہیں، جب اسپیکر نے ان کو تقریر جاری رکھنے کی اجازت دینے سے انکار کر دیا تو انہوں نے کورم کی کمی کی نشاندہی کی جس پر اسپیکر کو گنتی کا حکم دینا پڑا۔

بعد ازاں اسپیکر نے کورم کی کمی کے باعث اجلاس کو ملتوی کر دیا، کورم کو پورا کرنے کے لیے ایوان میں کم از کم 86 ارکان (کل 342 رکنی ایوان کا ایک چوتھائی) کا موجود ہونا ضروری ہے۔

اس سے قبل پوائنٹ آف آرڈر پر بات کرتے ہوئے جماعت اسلامی کے مولانا عبدالاکبر چترالی اور جمعیت علمائے اسلام (جے یو آئی-ف) کے محمد جمال الدین نے بھی 14 اگست کو موسیقی کی تقریب منعقد کرنے پر حکومت کو تنقید کا نشانہ بنایا، دو اراکین اسمبلی نے وزیراعظم کی موجودگی میں ایک تقریب کے دوران نوجوان لڑکیوں اور بچوں کے رقص پر اعتراض کیا۔

اجلاس ملتوی ہونے سے قبل اسمبلی میں پاکستان ٹوبیکو بورڈ (ترمیمی) بل 2022 اور بین الحکومتی تجارتی لین دین بل 2022 منظور ہوا جس کا مقصد بین الحکومتی فریم ورک کے تحت تجارتی لین دین کو فروغ دینا، غیر ملکی ریاستوں کو راغب اور حوصلہ افزائی کرنے کے لیے ایک طریقہ کار فراہم کرنا ہے, اس کے علاوہ پاکستان کے ساتھ اقتصادی اور تجارتی تعلقات استوار کرنا ہے۔

یاد رہے الیکشن کمیشن آف پاکستان نے پیر کو محمد میاں سومرو کو بطور رکن قومی اسمبلی ڈی نوٹیفائی کر دیا۔

ایوان کے اجلاس سے مسلسل 40 دن تک غیر حاضری کے باعث پی ٹی آئی کے رکن اسمبلی کی نشست 10 اگست کو اسپیکر نے خالی قرار دے دی تھی۔

مشہور خبریں۔

مکہ اتحاد کے رہنماؤں کا فوجی وعدوں پر فوری عمل درآمد پر زور 

?️ 26 ستمبر 2026سچ خبریں: ریاض میں مکہ فوجی معاہدے کے رکن ممالک کی دفاعی

ملک شدید ابہام کا شکار ہے جسے دور کرنے کیلئے انتخابات آگے کردیے جائیں، شاہد خاقان عباسی

?️ 14 جنوری 2024اسلام آباد:(سچ خبریں) سابق وزیر اعظم شاہد خاقان عباسی نے انتخابات ملتوی

ندا یاسر کی کون سی  قیمتی چیزیں چوری ہو گئیں؟

?️ 18 جون 2021کراچی (سچ خبریں)معروف پاکستانی میزبان و اداکارہ ندا یاسر کا کہنا ہے

اسحٰق ڈار کی افغان وزیر خارجہ سے ملاقات، مشترکہ امن و ترقی کیلئے اقدامات پر اتفاق

?️ 19 اپریل 2025اسلام آباد: (سچ خبریں) نائب وزیراعظم او وزیرخارجہ اسحٰق ڈار کے کابل

یمن کا سعودی عرب کو نئے حملوں کا انتباہ، جنگ کے دوسرے مرحلے کی تیاری شروع

?️ 20 اگست 2026سچ خبریں:یمن کی مسلح افواج کے ترجمان یحییٰ سریع کے بیانات کے

غزہ میں اسرائیلی جرائم کا ذمہ دار امریکہ ہے : اسلامی جہاد

?️ 18 جون 2026سچ خبریں: فلسطینی جہادی تحریک نے ایک بیان میں، صیہونی حکومت کی جانب

ایرانی صدر کے اعزاز میں استقبالیہ تقریب، دونوں ملکوں کا باہمی تجارت کو 8 ارب ڈالر تک بڑھانے پر اتفاق

?️ 3 اگست 2025اسلام آباد: (سچ خبریں) ایران کے صدر کے اعزاز میں وزیراعظم ہاؤس

لبنان کے خلاف فرانس کا مداخلت آمیز موقف

?️ 13 جولائی 2026سچ خبریں: فرانس کے وزیر خارجہ نے اعلان کیا ہے کہ ان کا

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے