?️
اسلام آباد: (سچ خبریں) پاکستانی ایوان بالا میں غزہ میں جاری اسرائیلی جارحیت کے خلاف مذمتی قراردار متفقہ طور پر منظور کرلی گئی۔چیئرمین سینیٹ صادق سنجرانی کی زیر صدارت اجلاس میں مسلم لیگ (ن) کے رہنما اسحق ڈار نے سینیٹ میں قرارداد پیش کرتے ہوئے کہا ’یہ قرارداد دنیا کی سب سے بڑی کھلی جیل غزہ کی مقبوضہ پٹی میں مقیم فلسطینیوں کے معصوم بچوں، خواتین اور مردوں کے خلاف انسانیت کے خلاف اسرائیلی جرائم اور ریاستی دہشت گردی کی شدید مذمت کرتی ہے‘۔
ان کا کہنا تھا کہ ’دوسری عالمی جنگ میں ہولوکاسٹ کے بعد سے، کسی بھی ریاست نے اتنے بڑے پیمانے پر قتل و غارت، قتل عام اور جنگی جرائم کا ارتکاب نہیں کیا۔
انہوں نے کہا کہ یہ فلسطینیوں سے مکمل یکجہتی کا اظہار کرتی ہے اور مظلوم فلسطینیوں کی حمایت کرتی ہے جبکہ اسرائیل کی حمایت کرنے والوں کے دوہرے معیار اور منافقت کی بھی مذمت کرتی ہے کیونکہ وہ نا صرف ان جرائم میں شراکت دار ہیں بلکہ وہ جنگ زدہ غزہ میں فوری جنگ بندی کی بھی مخالفت بھی کرتے ہیں۔
اسحق ڈار نے کہا کہ ’یہ قرارداد پاکستانی عوام کے جذبات کی عکاسی ہے اور پاکستان کے مستقل عزم پر فخر کرتی ہے۔
انہوں نے بتایا کہ ’اس طرح کی پالیسی سب سے پہلے بانی پاکستان نے دی تھی اس لیے پاکستان کی اصولی پالیسی فلسطین کے عوام کے ناقابل تنسیخ حق خود ارادیت کی حمایت اور فلسطین کے لوگوں کی ایک آزاد ریاست کے حصول پر مبنی ہے جس کا دارالحکومت یروشلم ہو ۔‘
ان کا کہنا تھا کہ ’ یہ غزہ میں فوری جنگ بندی اور غزہ کی اسرائیلی ناکہ بندی کو ختم کرنے ، تمام انسانی تنظیموں کو امدادی سامان، ادویات، خوراک اور پانی غزہ تک پہنچانے کے لیے مکمل رسائی فراہم کرنے کا مطالبہ کرتی ہے اور اسرائیلی جارحیت ، ظلم و جبر اور امت مسلمہ کے مقدس مقامات کی بے حرمتی کرنے والی اسرائیلی سرگرمیاں بند کرنے پر زور دیتی ہے’۔
نگران وزیر خارجہ جلیل عباس جیلانی نے سینیٹ سے خطاب کرتے ہوئے بتایا کہ ’پچھلے دو ہفتے سے غزہ میں ہونے والے ظلم کے باعث غزہ ایک قبرستان کا نمونہ پیش کر رہا ہے، یہ صورتحال نہ صرف پاکستان کے لیے بلکہ پوری دنیا کے لیے باعث تشویش ہے‘۔
ان کا کہنا تھا کہ ’یہ جو اسرائیلی حملے ہیں یہ صرف غزہ تک کی محدود نہیں ہیں بلکہ اس کا دائرہ کار بہت زیادہ بڑھا دیا گیا ہے‘۔
ان کا مزید کہنا تھا کہ ’اقوام متحدہ کی جانب سے یہ جو اعدادوشمار دیے گئے ہیں،کئی آزاد ذرائع کے مطابق شہادتوں کی تعداد اس سے کئی زیادہ ہے‘۔
پاکستانی وزیر خارجہ جلیل عباس جیلانی کے مطابق اقوام متحدہ نے بتایا ہے کہ’غزہ میں اب تک تقریبا ساڑھے آٹھ ہزار فلسطینی شہید ہوچکے ہیں جس میں ساڑھے تین ہزار ہزار بچے شامل ہیں ،تقریبا پچیس ہزار سے زیادہ فلسطینی اس وقت زخمی حالت میں ہیں اور وہاں کے تقریبا 222 اسکولوں سمیت 1لاکھ 80 ہزار کے قریب مکانات بھی تباہ ہوگئے ہیں۔’
سینیٹ سے خطاب میں ان کا مزید کہنا تھا کہ ’نہ وہاں پہ بجلی ہے نا پانی ہےاور نا خوراک موجود ہے، ہسپتالوں پر اب تک 35٫36 اسرائیلی حملے ہو نے کی وجہ سے وہاں کے لوگوں کاکوئی پرسان حال نہیں،جو زخمی ہیں ان کی تیمارداری کرنے والا کوئی نہیں اور نا ہی ان کے علاج کے لیے سہولتیں موجود ہیں۔‘
جلیل عباس جیلانی نے کہا کہ ’غزہ معاملے پر پاکستان نے ایک فعال کردار ادا کیا ، میرارابطہ او آئی سی کے تمام اہم ممالک کے وزیر خارجہ سے رہا ،انہی کوششوں کے نتیجے میں پاکستان اور سعودیہ عرب نے مشترکہ طور پر او آئی سی کا ایک خصوصی سیشن طلب کیا اور وہاں پر متفقہ طور پر قرارداد منظور کی گئی جس میں فوری طور پر جنگ بندی کروانے، جلد از جلد غزہ سمیت دیگر متاثرہ علاقوں تک انسانی مدد بھیجنے، تمام یرغمالیوں کو رہا کیے جانے اور جلد از جلد امن کے سلسلے کو بحال کیے جانے کا مطالبہ کیا گیا۔‘
ان کا کہنا تھا کہ’ اس سلسلے میں تمام ممالک جن کے اسرائیل کے ساتھ تعلقات ہیں وہ اہم قدم اٹھائیں ، اسرائیل نے تین چار ہفتے میں ظلم و بربریت کی جو نئی مثال قائم کی ہے اس کے پس منظر میں جائیں تو انہوں نے نا صرف بین الاقوامی قوانین بلکہ انسانی حقوق کی بھی خلاف ورزی کی اور تمام اخلاقی اقدار کو پامال کردیا’۔
اس کے علاوہ ایوان بالا کے اجلاس کے دوران سینیٹر محمد قاسم کے نکتہ اعتراض کے جواب میں نگران وفاقی وزیر داخلہ سرفراز بگٹی نے کہا کہ انہوں نے ڈیتھ اسکواڈز کے تذکرہ میں بی این پی مینگل اور سردار اختر مینگل کا کہیں نام نہیں لیا، اختر مینگل پچھلے پانچ سال کے دوران حکومتوں کا حصہ رہے ہیں۔
ان کا کہنا تھا کہ انہوں نے اس وقت لاپتا افراد کا مسئلہ کیوں نہیں اٹھایا؟ بی این پی مینگل نے لاپتا افراد اور ڈیتھ اسکواڈ کے معاملے پر دھرنا دیا، قدوس بزنجو کی وزارت اعلیٰ کے دور میں بلوچستان حکومت کا بھی غیر اعلانیہ حصہ رہے، پی ٹی آئی کے اتحاد ی رہے، پی ڈی ایم کی حکومت میں بھی شامل رہے ، اس وقت جو فورمز تھے انہیں لاپتا افراد کے مسئلے کو اٹھانے کے لیے استعمال کرنا چاہیے تھا۔
انہوں نے کہا کہ ڈیتھ اسکواڈ میں بی ایل اے شامل ہے جس نے 5 ہزار بے گناہ شہریوں کو شہید کیا ہے، بلوچستان میں پنجابیوں، اساتذہ، پروفیسرز اور ڈاکٹرز کو شہید کیا گیا ہے جن میں 30 سال تدریس کے شعبہ سے وابستہ رہنے والی پروفیسر ناظمہ طالب بھی شامل ہیں۔
وزیر داخلہ نے کہا کہ بی ایل اے نے اس واقعہ کی ذمہ داری قبول کی اور وہ دیگر واقعات کی بھی ذمہ داری قبول کرتی رہی ہے، اسی طرح بی آر اے، یو بی اے، بی ایل ایف، مجید بریگیڈ ہیں، بی ایل اے کی قیادت حربیار مری، یو بی اے کی قیادت اس کا چھوٹا بھائی زمران مری، بی آر اے کی قیادت براہمداغ بگٹی، بی ایل ایف کی قیادت ڈاکٹر اللہ نذر، بی آر اے اچھو گروپ کی قیادت بشیر زیب اور لشکر بلوچستان کی قیادت جاوید مینگل کر رہے ہیں۔
اس میں کہیں بھی میں نے بی این پی مینگل اور سردار اختر مینگل کا ہم نے نام نہیں لیا، ہم نے تو انہیں ان تنظیموں کے ساتھ نہیں جوڑا، اگر یہ خود اپنے آپ کو ان کے ساتھ جوڑنا چاہتے ہیں تو یہ ان کی مرضی ہے۔


مشہور خبریں۔
ای وی ایم سے اپوزیشن گھبرا جاتی ہے کیوں کہ ان کا انتخآبی طریقہ دھاندلی ہے
?️ 28 نومبر 2021جہلم (سچ خبریں) تفصیلات کے مطابق پنڈ دادن خان میں تقریب سے
نومبر
وزیراعلی پنجاب کا سی سی ڈی کو ناجائز اسلحہ کے خاتمے کا ٹاسک
?️ 11 مارچ 2026لاہور (سچ خبریں) وزیراعلی مریم نواز شریف نے ناجائز اسلحہ کے خاتمے
مارچ
الاقصیٰ طوفان کا پہلا دن
?️ 4 دسمبر 2023سچ خبریں:اسرائیلی اخبار Yediot Aharonot نے ایک مضمون میں لکھا، ہم اپنے
دسمبر
ہنیہ کی شہادت کے بعد شیعہ اور سنی کا تاریخی اتحاد
?️ 5 اگست 2024سچ خبریں: دنیا کی توجہ ابھی تک تہران اور بیروت میں صیہونی
اگست
صیہونی تحقیقاتی ادارے نے مقبوضہ علاقوں میں خطرناک بحران سے خبردار کیا ہے
?️ 15 جولائی 2025سچ خبریں: مقبوضہ علاقوں میں ایک سیکیورٹی ریسرچ انسٹی ٹیوٹ نے اسرائیلی
جولائی
آرمی چیف نے پولیو کے خاتمے کو قومی کاز اور قومی کوشش قرار دیا
?️ 10 جون 2021راولپنڈی (سچ خبریں) آرمی چیف جنرل قمر جاوید باجوہ نے ملک سے
جون
ارشد ندیم کی تاریخی کامیابی پر قومی اسمبلی کا ردعمل
?️ 10 اگست 2024سچ خبریں: پیرس اولمپکس میں ارشد ندیم کی تاریخی کامیابی پر قومی
اگست
ہانیہ عامر اور دلجیت دوسانجھ کی ایک ساتھ فلم میں کام کرنے کی افواہیں
?️ 20 فروری 2025کراچی: (سچ خبریں) مقبول اداکارہ ہانیہ عامر اور بھارتی پنجابی ریپر، گلوکار
فروری