🗓️
اسلام آباد(سچ خبریں)سابق وزیرداخلہ شیخ رشید نے کہا ہے کہ فوج کے خلاف کوئی نعرہ نہیں لگنا چاہیے، گالیاں دینے والے فوج کے ساتھ صلح کر سکتے ہیں تو ہمیں بھی اپنی غلط فہمیاں دور کرنی چاہئیں۔
پشاور میں پریس کانفرنس کرتے ہوئے شیخ رشید کا کہنا تھا کہ ہم اس خطے کے ایسے اہم علاقے میں ہیں جہاں عمران خان کی آزاد خارجہ پالیسی عالمی طاقتوں کے لیے قابل قبول نہیں ہے۔
شیخ رشید نے کہا کہ آزاد خارجہ پالیسی کو مول لگانے کے لیے کرائے کے ٹٹوؤں کو آگے لگایا گیا، مجھے دکھ اس بات کا ہے کہ جو لوگ 4، 4 سال تک ہمارے ساتھ وزارت کے مزے لے رہے تھے وہ اشارے کنایوں پر ہمیں چھوڑ گئے۔
انہوں نے کہا کہ باپ پارٹی اور ایم کیو ایم اپنے اپنے دعوے کر رہی ہیں کہ ہمارے ووٹوں سے حکومت بنی ہے حالانکہ یہ نہ بھی ہوتے تو بھی ہمارے خلاف تحریک عدم اعتماد کامیاب ہوجانی تھی۔
سربراہ عوامی مسلم لیگ نے کہا کہ ہم اس خطے کے ایسے اہم علاقے میں ہیں جہاں عمران خان کی آزاد خارجہ پالیسی عالمی طاقتوں کے لیے قابل قبول نہیں ہے۔
انہوں نے کہا کہ لوگ اس ’گینگ آف فور‘ کی شکل نہیں دیکھنا چاہتے تو ان کے فیصلوں کے ساتھ کیسے کھڑے ہوں گے؟ میں خدا کو گواہ بنا کر کہتا ہوں کہ انہوں نے میرے دفاتر سے اتوار کو فائلیں اٹھائی ہیں۔
ان کا کہنا تھا کہ منحرف ہونے والے لوگ کس منہ سے ملک میں سیاست کریں گے؟ وہ اصلی اور نسلی نہیں ہوتا جو امتحان میں ساتھ کھڑا نہ ہو۔
سابق وزیر داخلہ نے کہا کہ استعفیٰ عمران خان کو لکھ کر دے دیا ہے، جس روز ان کا استعفیٰ قبول ہوگا اس روز سب سے پہلے شیخ رشید مستعفی ہوگا۔
انہوں نے کہا کہ یہ لوگ یقیناً عمران خان کو مروا بھی سکتے ہیں، عالمی طاقتیں عمران خان کی جان لے سکتی ہیں، جیل میں ڈالنا تو معمولی بات ہے۔
ان کا کہنا تھا کہ پشاور میں عمران خان کی جان کو خطرہ ہے، عالمی طاقتیں اس کی جان لینے کی کوشش کریں گی۔
شیخ رشید نے کہا کہ ایک سازش کے تحت ہماری عظیم افواج کو سوشل میڈیا پر گالیاں دی جارہی ہیں، یہ وہی لوگ ہیں جو اس عظیم فوج کو لندن سے گالیاں دیتے تھے اور اب بوٹ پالش کر رہے ہیں، سارا کمال اس بوٹ پالش کرنے والے کا ہے، سعودی عرب سے بھی ایک بوٹ پالش کرنے والے نے کارروائی ڈالی تھی اور یہ موجودہ کارروائی بھی بوٹ پالش کرنے والے نے ڈالی ہے۔
مسنگ پرسنز کے حوالے سے سردار اختر مینگل کے مطالبات سے متعلق سوال پر انہوں نے کہا کہ میں وزیر داخلہ تھا اور میں خدا کو گواہ بنا کر کہتا ہوں کہ میرے پاس کوئی لاپتا شخص نہیں تھا، جن کے ساتھ مسنگ پرسن کا مسئلہ ہے اب یہ ان کے ساتھ ہی بیٹھے ہیں، پشاور میں جو واقعہ ہوا اس میں چاروں کے چاروں لوگ پولیس مقابلے میں مارے گئے۔
سابق وزیر داخلہ نے کہا کہ ابھی لوگ رمضان میں مصروف ہیں، میں عید کے بعد 15 جون کی تاریخ دیتا ہوں، عمران خان کال دے گا، اسلام آباد کی کال دینے سے پہلے اس کی جان کو بھی خطرہ ہے اور اس کو جیل میں بھی ڈال سکتے ہیں لیکن جیلوں سے اس کو کوئی فرق نہیں پڑتا، میں 29 جون تک کی تاریخ دے چکا ہوں۔
شیخ رشید نے کہا کہ فوج کے خلاف کوئی نعرہ نہیں لگنا چاہیے، گالیاں دینے والے فوج کے ساتھ صلح کر سکتے ہیں تو ہمیں بھی اپنی غلط فہمیاں دور کرنی چاہئیں، جنہوں نے لندن اور گوجرانوالا سے فوج کو گالیاں دیں اگر وہ اپنے مطلب کے لیے جوتے پالش کرسکتے ہیں اور شہباز شریف چیری بلاسم بن سکتا ہے تو ہمیں بھی غلط فہمیاں دور کرکے ان کے ساتھ تعلقات اچھے کرنے چاہئیں۔
انہوں نے کہا کہ لوگ الیکشن دیکھ رہے ہیں لیکن انہوں نے پوری کوشش کرنی ہے کہ ان کا وقت لمبا ہو، پہلے یہ کہتے تھے کہ یہ سلیکٹڈ حکومت ہے الیکشن کراؤ، اب ہم کہہ رہے ہیں کہ یہ امپورٹڈ حکومت ہے الیکشن کراؤ، ہونا وہی ہے جو آپ کو پتا ہے اللہ کو منظور ہے، ہمارے اسلامی دوستوں نے جو فیصلے کرنے ہیں وہی ہونا ہے۔
مشہور خبریں۔
آج کی دنیا بے شمار تنازعات کے باعث تقسیم کا شکار ہے، وزیراعظم
🗓️ 21 ستمبر 2024اسلام آباد: (سچ خبریں) وزیراعظم شہباز شریف نے کہا ہے کہ آج
ستمبر
چین نے امریکا سے تعلقات بگاڑنے کے لئے نہیں کہا: منیر اکرم
🗓️ 4 دسمبر 2021اسلام آباد/اقوام متحدہ (سچ خبریں)اقوام متحدہ میں پاکستان کے سفیر منیر اکرم
دسمبر
ڈنمارک تارکین وطن کے ساتھ سخت ترین رویہ رکھنے والا ملک
🗓️ 13 جنوری 2022سچ خبریں: حالیہ برسوں میں کی سیاسی پناہ کی پالیسی میں تبدیلیاں،
جنوری
اسرائیل مردہ باد کے عظیم اجتماع میں فلسطین کے ساتھ پاکستانی عوام کی یکجہتی
🗓️ 9 دسمبر 2024سچ خبریں: پاکستان کے شمال مغربی صوبے خیبر پختونخوا کے دارالحکومت پشاور
دسمبر
وزیراعظم نے وزیر خارجہ شاہ محمود قریشی کو چین جانے کا کہا ہے
🗓️ 17 جولائی 2021اسلام آباد (سچ خبریں) وفاقی وزیر داخلہ شیخ رشید نے اسلام آباد
جولائی
کوئی نہیں جانتا کہ نصراللہ کیا سوچ رہے ہیں:اسرائیلی میڈیا
🗓️ 12 ستمبر 2022سچ خبریں:صیہونی حکومت کے ذرائع ابلاغ نے اعلان کیا ہے کہ اس
ستمبر
یحییٰ السنوار نے اسرائیل کو تاریخ کا سب سے بڑا دھچکا دیا:صہیونی میڈیا کا اعتراف
🗓️ 23 اکتوبر 2024سچ خبریں:صہیونی میڈیا نے اعتراف کیا ہے کہ حماس کے سیاسی دفتر
اکتوبر
صیہونی حکومت کے ساتھ تجارت جاری رکھنے کے خلاف ترک اخبار کا احتجاج
🗓️ 17 مارچ 2024سچ خبریں:ترکی کے دارالحکومت آنکارا میں ان دنوں بہت سے سیاستدان غزہ
مارچ